|
سربجيت سنگھ کے اہل خانہ کي پاکستان آمد
کے خلاف خالد ميو شہيد ايکشن کميٹي کا پريس کلب کے باہر احتجاجي مظاہرہ
رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ لاہور
بھارتي دہشتگرد سربجيت سنگھ کے اہل خانہ کي
پاکستان مد کے موقع پر خالد ميو شہيد ايکشن کميٹي
کے زير اہتمام پريس کلب کے باہر احتجاجي مظاہرہ
کيا گيا جس ميں بھارتي پوليس کے تشدد سے شہيد ہونے
والے خالد ميود کي والدہ‘ بھائي عبيد اللہ انور
ميو ‘ محمد صديق ميو ‘پاکستان پيپلز پارٹي کي
رہنما ناصرہ ارشد ميوسميت سينکڑوں افراد نے شرکت
کي۔ اس موقع پر ناصرہ ارشد ‘ ڈاکٹر محمد اسحاق اور
حافظ سلمان طارق ميو نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ
پاکستان کے شريف شہري خالد محمود ميو کي لاش کے
بدلے ايک بھارتي دہشتگرد کي معافي قبول نہيں کي
جائے گي ۔ انصار برني حقوق کا روپ دھار کر پاکستان
کے دشمنوں سے ملا ہوئے ہيں ا نکے پاس اپنے شہري کي
لاش قبول کرنے کيلئے وقت نہيں تھا اور دشمنوں کے
دہشتگردوں کو بچانے کیلئے وہ بار بار بھارت جارہے
ہيں ۔انہوںنے وزير اعظم اور وزير اعليٰ پنجاب سے
اپيل کي کہ وہ وطن عزيز کي خاطر قرباني دينے والے
خالد محمود کے لواحقين کے سروں پر دست شفقت رکھتے
ہوئے انہيں انصاف دلائيں ۔ خالد محمود کي والدہ
اور بھائيوں عبيد اللہ انور اور محمد صديق نے خطاب
کرتے ہوئے کہا کہ حکومت دشمن ملک کے دہشتگردوں کے
لواحقين کو ہر قسم کا پروٹوکول دے رہي ہے جبکہ
ہماري داد رسي کرنے کيلئے کسي کے پاس وقت نہيں ۔
حکومت انصار برني کي سر گرميوں پر پابندي عائد کرے
اور خالد محمود کي موت پر بھارت کو معافي کيلئے
مجبور کرے بصورت ديگر خالد کا مقدمہ عالمي عدالت
ميںپيش کيا جائے گا ۔ خالد ميو شہيد ايکشن کميٹي
نے اعلان کيا کہ بھارتي دہشتگرد کو رہا کيا گيا تو
کميٹي کي طرف سے انصاري برني کا گھيراؤکيا جائے گا
۔
|