|
افغانستان بدل چکا ہے۔آج کا افغانستان ایک نیا
افغانستان ہے۔ پاکستان اور افغانستان کا استحکام
ایک دوسرے سے وابستہ ہے،اور دونوں ایک دوسرے کے
لئے لازم و ملزوم ہے۔اسلام اباد میں متعین
افغانستان کے سفیر انور انورزئی کی بی بی سی ون سے
خصوصی انٹرویوں۔
خواجہ شجاع عباس ، مرتضی عباس
رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ اسلام اباد
اسلام اباد میں متعین افغانستان کے سفیرانور
انورزئی نے کہا ہے کہ اسلامي جمہوريہ افغانستان
اور اسلامي جمہوريہ پاکستان دوبرادر ملک ہیں۔
دونوں ممالک کے درميان سياسي، سفارتي،
عوامي اور اقتصادي تعلقات ميں مسلسل پيش رفت کي
ضرورت ہے۔ يہ دونوں ملک دو جڑواں بھائيوں کي طرح
ہيں۔ دونوں ايک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہيں
اورکوئي ايک دوسرے کے بنا باقي نہيں رہ
سکتا۔افغانستان کے سفیر انور انورزئی ” بی بی سی
ون ڈاٹ نیٹ ” کو خصوصی انٹرویوں دے رہے تھے۔انہوں
کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان میں سے کسي
ايک ملک کا استحکام اور امن وسلامتي دوسرے ملک کے
استحکام اور امن وسلامتي پر منحصر ہے۔اگر ان ميں
سے کوئي ايک عدم استحکام اور امن وسلامتي پر منحصر
ہے۔اگر ان ميں کوئي ايک عدم استحکام اور دہشتگردي
کا شکار ہوتودوسرے پر بھي اس کے مہلک اثرات پڑيں
گے۔ ان دونوں ملکوں کا مستقبل ايک دوسرے سے جڑا
ہوا ہے۔
پہلے پہل دونوں ملکوں کے اقتصادي تعلقات بہت کمزور
تھے۔ اب اس سلسلے ميں خاصي پيشرفت ہوئي ہے۔ سال
2006
ميں دونوں ملکوں کے درميان ڈيڑھ ارب ڈالر کي تجارت
ہوئي جو پہلے مشکل سے
20يا
پچيس ملين ڈالر ہوا کرتي تھي۔
سياسي حوالے سے پہلے مختلف ادوار ميں بدقسمتي سے
کچھ غلط فہمياں جنم ليتي رہي ہيں مگراب دونوں
ملکوں ميںشدت سے احساس پيدا ہوا کہ ہمارے درميان
ہروقت سياسي تعلقات ميں گرم جوشي رہني چاہيے ۔
دونوں ملکوں نے اعليٰ ترين سطح پر اس بات کا عزم
کر رکھا ہے کہ دونوں برادر ملکوں کے درميان
انتہائي قريبي تعلقات کومستحکم سے مستحکم کرتے
رہيں گے۔ اس مقصد کے لئے دونوں ملکوں کي اعليٰ
قيادتوں کے درميان براہ راست رابطہ رہتا ہے۔
بھارت کو پاکستان پر ترجیح کے حوالے سے ایک سوال
کا جواب دیتے ہوئے افغانستان کے سفیر نے بتایا کہ
پاکستان اور افغانستان کي نسبت افغانستان اور
بھارت کے تعلقات بالکل جداگانہ طرز کے ہيں۔بھارت
کو پاکستان پر ترجيح دينے کا تاثر بالکل بے بنياد
ہے۔ تاہم ايک آزاد اورخود مختار ملک ہونے کي حيثيت
سے افغانستان کو يہ حق حاصل ہے کہ وہ ہر ملک کے
ساتھ اپنے مفاد کے لئے تعلقات استوار کرے۔
افغانستان جنگوں کي وجہ سے ايک تباہ حال ملک ہے۔
ملک کي تعميرنو کے لئے ہميں دوسرے ممالک کے تعاون
اور امداد کي اشد ضرورت ہے۔دنيا کے ممالک کو جس
طرح ہماري مدد کرني چاہيے تھي اس طرح وہ ہماري مدد
نہيں کرتے۔ ہمارے ساتھ جو اس سلسلے ميں وعدے کيے
گئے تھے وہ پورے نہيں ہوئے۔ہندوستان اس خطے کا ايک
بڑا اہم ملک ہے۔ اس کے ساتھ ہمارے اچھے اقتصادي
اور سياسي تعلقات ہيں۔وہ بڑے پيمانے پر افغانستان
کي تعميرنو ميں حصہ لے رہا ہے اورکئي بڑے پراجيکٹ
اس کي وجہ سے پائے تکميل کو پہنچ چکے ہيں۔ اس وقت
بھي کئي پراجيکٹ بھارت کے تعاون اور امداد سے
تکميل پارہے ہيں۔ جبکہ دوسري طرف پاکستان کے ساتھ
ہمارے تعلقات جڑواں بھائيوں جيسے ہيں۔افغان سفیر
نے اسلام اباد میں قائم افغانستان کے سفارتخانے سے
متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم بڑي
سرگرمي کے ساتھ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو فروغ
دينے کے لئے کوشاں ہيں۔ ہم حکومتي اہلکاروں کے
ساتھ ساتھ ميڈيا کے لوگوں،شہري سماج کے بااثر
افراد اور ادب وتعليم کے شعبہ سے تعلق رکھنے والوں
کے ساتھ روابط قائم کررہے ہيں۔ ہميں پورا احساس ہے
کہ دونوں ملکوں کے عوام کوايک دوسرے کو اچھي طرح
جاننے کے لئے آپس ميں مربوط ہونا چاہيے۔ اس مقصد
کے لئے ہم عوامي سطح پر رابطوں کو مضبوط کرنے کے
لئے کوشاں ہيں۔ اسي طرح سے پاکستان کے لوگ آج کے
افغانستان کو جان سکتے ہيں۔آج کا افغانستان ايک
نيا افغانستان ہے۔ ہمارے ملک ميں ايک آئيني جمہوري
نظام رائج ہے۔ ہمارا صدر عوام کا منتخب کردہ ہے
اورہمارے ملک کي پارليمان کو بھي عوام نے چنا
ہے۔اس ميدان ميں ہم نے قابل فخر پيش رفت کي ہے۔
مگر ہميں اس بات کا بھي احساس ہے کہ ابھي بہت کچھ
کرنا ہے تاکہ افغانستان بھي دوسرے ملکوں کي طرح
ترقي کي شاہراہ پررواں دواں ہو۔ہم بطورخاص اپنے
پاکستاني بھائيوں کے شکر گزار ہيں جنھوں نے روس کے
خلاف جہاد آزادي کے دوران ہمارے لوگوں کو پناہ دي
اور وطن کو آزاد کروانے کے لئے ہماري مدد کي۔ ہم
پاکستان کي حکومت اورعوام دونوں کے اس سلسلے ميں
تہ دل سے شکر گزار ہيں۔
جب افغان سفیر سے پوچھا گیا کہ پاکستان کے بعض
حلقوں ميں طالبان کے ذريعے پرتشدد کارروائيوں
کوامريکہ کے خلاف قومي مزاحمت کے طور پر ديکھا
جاتا ہے تو انہوں نے کہا کہ اس کے بارے ميں ہميں
بہت تشويش ہے اور يہ بالکل غلط ہے۔ طالبان دراصل
مدرسوں کے طالب علم ہيں۔ وہ کوئي سياسي جماعت نہيں
ہيں۔ يہ سراسر ظلم ہے کہ بعض گمراہ عناصرکے ذريعے
کي جانے والي پرتشدد کارروائيوں اوردہشتگردي کي
سرگرميوں کو قومي مزاحمت کے طور پر سمجھا
جائے۔افغانستان ايک آزاد اورخود مختار ملک ہے اس
لئے قومي مزاحمت کسي کے خلاف ہو ہي نہيں سکتي۔ہم
غلام نہيں ہے۔افغانستان بدل چکا ہے۔ نيا افغانستان
جنم لے چکا ہے۔ زميني حقائق سے آنکھيں نہيں چراني
چاہئيں۔ ہمارے ملک ميں جمہوريت ہے ، آئين کي
بالادستي ہے، ہمارا آئين ہماري قومي آرزوؤں کا
آئينہ دار ہے،ہمارا آئين اسلامي آئين ہے۔ ہمارا
صدر اور ہماري قومي پارليمان کولوگوں نے صاف
اورشفاف انتخاب کے ذريعے منتخب کيا ہے۔ اس کے
علاوہ ہمارے صوبوں کي اسمبليوں کو بھي عوام نے
منتخب کيا ہے۔ افغانستان ميں رياستي اداروں کي
تعميروتشکيل نے حالات کو يکسر بدل ديا
ہے۔افغانستان کي تاريخ کي پہلي بار حقيقي جمہوري
نظام رائج ہوا ہے۔ افغانستان ميں نئے نظام حکومت
کي تشکيل کے بعد ملک کي تعميرنو کے ھوالے سے پوچھے
گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے افغان سفیر انور
انورزئی نے کہا کہ ہمارے ملک ميں رياستي اداروں کي
تعمير وتشکيل پر تيزي سے کام ہورہا ہے۔ قومي فوج
کي تشکيل اپنے آخري مرحلوں ميں ہے۔ اس سال کے آخر
تکبري فوج کي تعداد ستر ہزار تک پہنچ جائے گي ۔چند
روز پہلے افغانستان کے صدر جناب حامد کرزئي نے
کابل ميں ايک تقريب ميں افغانستان کے لئے نئي
فضائيہ کا افتتاح کيا۔ اب تک چھ ملين بچوں نے
سکولوں ميں داخلہ ليا ہے جن ميں
25%
لڑکياں ہيں۔ تمام بڑے شہروں کے درميان شاہراہوں کي
تعمير مکمل ہوچکي ہے اور اسي طرح ہمسايہ ممالک سے
ملانے والي شاہراہوں کو بھي بين الاقوامي معيار کے
مطابق تعمير کيا جا چکا ہے۔ قومي ايئرلائنز’’
آريانہ‘‘ کے علاوہ چار اور بھي ايئرلائنزنے کام
شروع کردياہے ۔مختلف شہروں ميں صنعتي زون تعمير
کيے گئے ہيں۔ہم پاکستان ميں ان حقائق کواجاگر کرنے
کے لئے سرکاري اورنجي ميڈيا سے رابطہ بڑھارہے ہيں۔
ہم عنقريب ايک ويب سائٹ کھول رہے ہيں تاکہ
افغانستان ميں ہونے والي تمام تعميري سرگرميوں
کواچھي طرح اجاگر کرکے پاکستان کے عوام تک پہنچايا
جاسکے۔ افغانستان اور پاکستان ميں تشدد اور بے
گناہ لوگوں کا بڑے پيمانے پر بہنے والے خون خرابے
کو روکنے کے اقدامات سے متعلق ایک سوال کا جواب
دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ دہشتگردي اس وقت
پاکستان اورافغانستان دونوں کے لئے مشترکہ خطرہ ہے۔
ہميں ايک دوسرے کے شانہ بشانہ دہشتگردي کے خلاف
لڑنا ہوگا پھر تبھي ہم اس لعنت سے نجات حاصل کر
سکتے ہيں۔ ساتھ ہي ہم نے اس بات کو بھي يقيني
بنانا ہے کہ کسي ايک ملک کي سرزمين دوسرے ملک
کیخلاف کسي صورت بھي استعمال نہيں ہوگي۔ افغانستان
ميں اعليٰ ترين سطح پر يہ مصمم فيصلہ کيا جا چکا
ہے کہ ہم کسي بھي صورت ميں افغان سرزمين کو
پاکستان يا ايران کے خلاف استعمال نہيں ہونے ديں
گے۔ دہشتگردوں نے اس خطے کواپني آماجگاہ بنايا ہوا
ہے۔ ہميں مشترکہ کوششوں سے ان دہشتگردوں کے سلسلوں
کو بيخ وبن سے اکھاڑنا ہے۔ ان دہشتگردوں نے عوام
کا سکھ اورچين چھين ليا ہے اور بے دريغ بے گناہوں
کا خو ن بہا رہے ہيں۔ ان گمراہ عناصر کے خلاف
دونوں ملکوں کي حکومتوں کے علاوہ عوام نے بھي اٹھ
کھڑا ہونا ہے۔ پھر اسي صورت ميں ہم ان دہشتگردوں
کو نابود کر سکتے ہيں۔ پشتونوں کي حکومتِ
افغانستان ميں مناسب نمائندگي نہيں ہے کہاں تک
درست ہے؟اس کے جواب میں سفیر افغانستان کا کہنا
تھا کہ افغانستان ميں سب زبانيں بولنے والے بھائي
بھائي ہيں اوروہاں پشتون اورغير پشتون کا کوئي
مسئلہ نہيں ہے۔ ہماري حکومت سارے افغانستان کي
حکومت ہے اوراس کو سارے افغانستانيوں نے چنا ہے۔
اسي طرح افغانستان ميں کوئي شيعہ سني تفريق بھي
نہيں ہے اور سب افغانستان کے شہري ہيں اور بھائيوں
کي طرح ہیں کيونکہ دونوں مسلمان ہيں۔ پاکستان اور
افغانستان کے مشترکہ جرگوں کے برے میں انہوں کا
کہنا تھا کہ اس کا بہت فائدہ ہے اور اميد ہے کہ
آئندہ بھي ہوگا۔ ہماري حکومت نے جرگے کے لئے
پاکستان کي حکومت کو
25شخصيات
کے نام ديے ہیں اور ہم انتظار کررہے ہيں کہ
پاکستان کي حکومت بھي ہميں اپني فہرست دے گي
اورکام آگے بڑھے گا۔
|