|
ايران نے جوہري پروگرام کے معاملے پر عظيم فتح
حاصل کي ہے، آيت اللہ خامنہ اي
رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ تہران
ايران کے اعليٰ مذہبي رہنما آيت اللہ علي خامنہ اي
نے کہا ہے کہ ايران نے جوہري پروگرام کے معاملے پر
عظيم فتح حاصل کي ہے اور اس کارنامے پر انہوں نے
صدر احمدي نژاد کي تعريف
کي ہے۔ آيت اللہ خامنہ اي نے کہا کہ اسلام نظام کے
تحت جو پيش رفت ہوئي ہے جوہري پروگرام اس کي ايک
واضح مثال ہے جس پر ايراني قوم نے پوري ديانت اور
سنجيدگي سے کام کيا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ يہ
کہتے تھے کہ ايران کو اپنا جوہري پروگرام ترک کر
دينا چاہيے اب کہتے ہيں ايران نے جو بھي پيش رفت
کي ہے وہ اس قبول کرنے کے ليے تيار ہيں اگر ايران
اس پر مزيد کام روک دے۔ انہوں نے کہا کہ يہ ايک
بڑي پيش رفت ہے اور يہ مستقل مزاجي کے بارے حاصل
نہيں کي جا سکتي تھي۔انہوں نے صدر احمد نژاد کي
تعريف کي اور کہ انہوں مغرب کے ساتھ اس معاملے پر
غير معمولي فہم فراست کا مظاہرہ کيا ہے۔ايراني
نظامِ حکومت کے تحت مملکت کے اہم امور ميں ايران
کے اعلي ترين مذہبي پيشوا کا فيصلہ آخري تصور کيا
جاتا ہے۔گزشتہ ماہ غير معمولي طور پر علي خامنہ اي
نے صدر کي طرف سے گيس کے شعبے ميں ايک مسودہ قانون
کو مسترد کر ديا تھا۔علي خامنہ اي کي طرف سے اس
مسودہ قانون کو مسترد کيئے جانے پر خيال کيا جارہا
تھا کہ ايران کے اعلي ترين رہنما نے صدر سے
ناراضگي کا اظہار کيا ہے۔ احمد نڑاد نے امريکہ کي
طرف سے اقتصادي پابنديوں کي دھمکيوں پر کہا تھا کہ
ايران پر جتني بھي پابندياں عائد کر دي جائيں وہ
ايران کو اپنے جوہري پروگرام سے نہيں روک
سکتيں۔گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کے جوہري توانائي کے
ادارے آئي اے اي اے نے کہا تھا کہ ايران کا اپنے
جوہري پروگرام کے بارے ميں رويہ شفاف ہے تاہم
ايران نے کوئي يقيني دہاني نہيں کرائي کہ وہ جوہري
ہتھياروں نہيں بنا رہا۔ايران نے ان الزامات کو رد
کرتے ہوئے کہا کہ اس ضمن ميں جعلي دستاويزات پيش
کي گئي ہيں۔ایران کا اصرار ہے کہ اس کا جوہري
پروگرام بجلي پيدا کرنے کے ليے ہے۔
|