|
افغانستان ، طالبان کا2
پوليس آفيسرو ں سميت
15سيکيورٹي
اہلکاروں کوہلاک کرنے کادعويٰ ۔جھڑپ ميں
3
طالبان بھي مارے گئے، برطانوي وزارت دفاع نے جنوبي
افغانستان ميں اپنے
3فوجيوں
کي ہلاکتوں کي تصديق کردي
رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ کابل
افغانستان ميں طالبان کامختلف کارروائيوں کے دوران
دوافغان پوليس آفيسرو ں سميت پندرہ سيکيورٹي
اہلکاروں کوہلاک کرنے کادعويٰ ،ادھرصوبہ غورميں
جھڑپ کے دوران تين طالبان
بھي مارے گئے جبکہ برطانوي وزارت دفاع نے جنوبي
افغانستان ميں اپنے تين فوجيوں کي ہلاکتوں کي
تصديق کردي۔ طالبان کے ترجمان ذبيح اللہ مجاہد کے
مطابق صوبہ کنڑ کے ضلع سوکھي ميں تقريباً ستر
طالبان نے ديوگل درہ پر حملہ کرديا۔اس دوران لڑائي
ميں غيرملکي افواج کابڑے پيمانے پر جاني ومالي
نقصان ہوا۔ترجمان کے مطابق صوبہ غزني کے ضلع
اراباغ ميں طالبان نے اتحادي افوج کو لاجسٹک مدد
فراہم کرنے والے تين کنٹينرز تباہ کرديے جبکہ اس
دوران اتحادي فوج کیلئے کام کرنے والے آٹھ افراد
بھي ہلاک ہوگئے ۔صوبہ خوست کے ضلع قلندر ميں طالبا
ن نے ايک کارروائي کے دوران ضلعي پوليس چيف مرزا
جان کو ان کے پانچ ساتھيوں سميت ہلاک کرديا۔ ادھر
صوبہ غزني کے ڈپٹي پوليس کمانڈر محمد زمان نے
بتايا کہ پوليس کمانڈر عبدالقيوم ضلع رشدان کے دور
افتادہ علاقہ سے واپس آ رہے تھے کہ اس دوران ان کي
گاڑي کے قريب بارودي سرنگ کا زور دار دھماکہ ہوگيا۔
دھماکے کے نتيجہ ميں پوليس کمانڈر اور ان کے دو
مخالفين ہلاک ہو گئے۔ دھماکہ سے پوليس کي گاڑي
مکمل طور پر تباہ ہو گئي۔ افغان وزارت داخلہ کے
ترجمان کے مطابق وسطي صوبہ غور ميں پوليس اور
طالبان کے درميان جھڑپ کے نتيجہ ميں دو پوليس
اہلکار اور تين طالبان ہلاک ہو گئے۔ جھڑپ ميں ايک
پوليس اہلکار اور چھ حملہ آور زخمي بھي ہو گئے تھے۔
دوسري جانب برطانوي وزارت دفاع کے بيان کے مطابق
صوبے ہلمند ميں برطانوي فوجي اپنے معمول کے گشت پر
تھے جب ان پر يہ خودکش حملہ کيا گيا۔بيان ميں مزيد
بتايا گيا ہے دوہزارایک سے افغانستان ميں اب تک
ايک سو برطانوي فوجي ہلاک ہوچکے ہيں۔
۔
|