|
خوشا کہ حجت تمام نہیں ہوئی
عاطف علیم
دماغ کی شریانوں کو کاٹتا معلومات کا تیز دھارا،
اعصاب پر مسلط ہوتی جانکاری اور نتیجہ مزید
کنفیوژن، مزید خلفشار ۔ میڈیا جادو کی پوٹلی سہی
لیکن روح عصر سے ملاپ کون
کرائے۔یہ ستم شناس عالم ہیجان سے نکلے تو اسے کچھ
اور سوجھے۔ سو گذرے دنوں میں نے ادھ پڑھی کتاب ٹھپ
کی، اخبارات کی فائل کو ایک طرف ڈالااور کان میں
قلم اڑس کر انٹرنیٹ اور ٹیلیویژن کی دنیا سے دور
جیتے جاگتے انسانوں کی بھیڑ میں کھو گیا۔ ایک مقصد
تو یہ تھا کہ ایک زیر تصنیف کتاب کے مواد کیلئے
روح عصر کو چھونے کی سعی کی جائے لیکن اس کے ساتھ
ہی یہ تمنا بھی کہ کچھ دنوں کیلئے سہی عالم بے
خبری کی پرکیف راحت سے لطف اندوز ہوا جائے۔یہی وجہ
سے کہ میں بہت دنوں سے کالم نہیں لکھ پایا۔یوں بھی
بے جان، بے طلب اور بے ضرر تحریریں لکھنے کی
مجبوری بہت تھکا دیتی ہے۔
میں اس وقت عالم سفر میں ہوں۔ ایک سفر کی راہ میں
سنگ میل آتے ہیں اور ایک سفر دل سے دل تک ہے۔میں
بائیں کندھے پر چاند اور دائیں کندھے پر سورج لئے
، قطبی تارے کو رہنما مانے سفر میں ہوں۔میرے سفر
میں کھوئے ہوؤں کی جستجو بھی پڑتی ہے اور اس روح
عصر کی تلاش بھی جس سے کٹ کر ہم اپنی بقا کے خوف
میں ڈوبے پڑے ہیں۔ان ایام میں میں نے کئی زمینی
منزلیں طے کیں اور جانا کہ ہر جا جہان دیگر
ہے۔سوال اس آنکھ کا ہے جو پیش منظر میں پس منظر کو
دیکھ پائے ۔ بڑے شہروں کے تصنع سے دور قریہ قریہ
گھومتا میں اس وقت ایک چھوٹی سی بستی میں ہوں۔وسطی
پنجاب کے ایک کم جدید سو کم آلودہ ضلع میں واقع یہ
بستی بڑی سڑک سے تین چار کلو میٹر دور ہے۔ یہاں
زندگی ابھی تک سادہ ہے کہ یہاں ابھی معلومات کی
چاند ماری ہوئی ہے نہ میڈیا کی یلغار نے ہیجان کی
فصل بوئی ہے۔
دوران سفر ایسی ہی ایک بستی میں مجھے پورے چاند کی
رات میسر ہوئی۔ایسا بھر پور چاند اگر میں نے پہلے
کبھی دیکھا تھا تو یاد نہیں۔میرے میزبان نے میری
خواہش پر سر کھجایا لیکن پھر انتظام کردیا کہ میں
بستی کی حدود سے باہر کھلے آسمان تلے پورے چاند کی
رات گذار سکوں۔یہ ایک ڈیرا تھا جہاں چوکیدار نے
گیدڑوں اور آوارہ کتوں کو شر انگیزی سے باز رکھنے
کا شافی انتظام کررکھا تھا۔سو میں تھا اورمجھ سے
ہم کلام فطرت تھی۔فطرت عظیم و مہیب اورمیں ایک
اعصاب زدہ شہری جو صبح بستر کی سلوٹوں میں نئے دن
کے اندیشے لئے جاگتا ہے اور رات سوتا ہے توآنے
والے دن کا خوف ہم بستر ہوتا ہے۔وہاں سارے میں
خاموش رات کا جادو سنسنا رہا تھا۔ میں نے ایک لمبا
سانس کھینچ کر تازہ ہوا کی مہکار اندر اتاری اور
دیکھا کہ ہاتھ بھر کے فاصلے پر چندرماں کا روپ
اپنی چھب دکھلا رہا ہے۔ بدر کامل سے مکالمہ رات
بھر چلتا رہا۔ وہ کہتا رہا میں سنتا رہا۔اس کے
لہجے میں شانتی اور ٹھہراؤ تھا۔وہ ایک سہلتا کے
ساتھ زندگی کے بھید کھولتا رہا۔میری شہری دانش کے
پلے کچھ پڑا، کچھ نہیں پڑا۔
اور اب یہ بستی جہاں ابھی بقا کے سوال نے ذہنوں
میں خلفشار نہیں بھرا تھا۔عجیب بات یہ کہ یہاں
جوان لوگ بہت کم تھے۔لے دے کر عورتیں تھیں، بچے یا
بوڑھے تھے۔کسی نے بتایا کہ زراعت کاٹنٹنا تو ختم
ہوا۔اب زمین بھوک اگایا کرتی ہے۔ کھیتوں سے اناج
میسر آتا ہے تو اتنا کہ فاقے سے بچے ر ہیں، وہ بھی
تابکے ؟۔نوجوان رزق کی تلاش میں اجنبی زمینوں کو
آباد کرچکے ۔سال چھ مہینے بعد آئیں تو مہمان بن کر
آتے ہیں۔وہاں کون سے ساہوکار ہیںلیکن غربت جو وہ
چھوڑ کر گئے تھے انہیں خلجان میں مبتلا کردیتی ہے
سو وہ اپنی متروک زمین کا رومانس بغل میں دبائے دو
ہی دن میں سٹک لیتے ہیں۔بہانہ یہ کہ ان کے موبائل
پر سگنل بہت کمزور آتے ہیں۔میں نے بھی اندازہ
لگایا کہ دو دن یہاں اور رہا تو چیں بول جائے
گی۔وہ جو غربت کے اس دریا کی تہوں میں رہنے پر
مجبور ہیں ۔میں نے انہیں شکوہ بلب پایا نہ آنے
والے دنوں کے خوف سے لرزتے دیکھا۔ان کیلئے یہی
کافی تھا کہ وہ زندہ ہیں اور خوش ہیں۔
میں نے ایک تندور سے روٹی لی تو کسی نے اس پر
تھوڑا سالن رکھ دیا۔اپنے تئیں دھرتی کا بیٹا بننے
کے شوق میں میں نے وہیں تندور پر آلتی پالتی مارے
دعوت شیراز اڑائی۔وہاں لوگوں سے دوستی کرنا بہت
آسان تھا۔ایک آشنا اور خالص مسکراہٹ کے عوض کسی سے
بھی دوستی کا ناطہ جوڑا جاسکتا تھا۔میں نے بھی جی
بھر کر دو ستیاں گانٹھیں۔کھانے کے بعد ایک بزرگ
دوست کی بیٹھک میں چائے کی دعوت تھی۔ہر گاؤں کی
طرح وہاں بھی چائے دودھ اور شیرے کے آمیزے سے
بنائی جاتی ہے۔چند دانے پتی کے بھی کہ چائے کا
بھرم رہ جائے۔ہم چارپائیوں پر بیٹھے تھے اورمیں
پرانے طرز کی پیالیوں میں اس ناممکن چائے کے سپ
لیتے ہوئے گفتگو میں شامل تھا۔ایک موضوع سے دوسرے
موضوع پر پھسلتے ہوئے باتوں کا بہاؤ اس نقطے پر
آکر ٹک گیا تھا کہ ہم کیا تھے اور کیا ہوچکے
ہیں۔چارپائیوں پر سہولت سے بیٹھے بڑی عمر کے مردوں
اور عورتوں نے اپنا اپنا تجزیہ پیش کیا۔ان کے پاس
معلومات کی کمی تو تھی لیکن گفتگو دانش سے تہی
ہرگز نہ تھی۔میں آخرمیں اس سے مخاطب ہوا جو سب سے
عمر رسیدہ تھا ۔وہ ان پڑھ تھا لیکن اس کی آنکھوں
میں دھرتی سے پھوٹتی لوک دانش کی چمک تھی۔میں نے
ملک کے حالات پربات کی اور سوال کیا کہ ہم کہاں
کھڑے ہیں اور ہمارا کل کیسا ہوگا؟۔میرے بزرگ دوست
نے توجہ سے میری بات سنی اور ایک توقف کے بعدجو
کہا اس کا مفہوم میرے الفاظ میں یہ تھاکہ جن مسائل
میں ہم گھرے ہیں ان کی سنگینی اپنی جگہ لیکن اصل
مسئلہ یہ ہے کہ ہم گھبرائے ہوئے لوگ ہیں۔ہم میں اس
اعتماد کی کمی ہے جو حالات پر قابو پانے کیلئے
درکار ہے اور اس علم سے لاعلم ہیں جو ہمیں گرداب
سے نکال کر ہماری سمت متعین کرسکتا ہے۔اس بوڑھے کا
لوک دانش میں گندھا تجزیہ تفصیل طلب ہے اور اس
قابل کہ آئندہ اس پر مفصل بات کی جائے لیکن مختصر
یہ کہ ہماری رسوائی اور پریشان حالی کا سبب یہ ہے
کہ ہم نے اپنے اجتماعی لاشعور کو مسترد کردیا
ہے۔ہم اپنی اصل سے گریزاں ہیں۔ہم کھلے ذہنوں اور
کھلے دلوں والے تھے لیکن ہم نے اپنے دل و دماغ کے
دریچے بند کرکے خود کو تازہ خیالات سے محروم کرلیا
۔جب انسانوں میں تنگ دلی اور تنگ نظری رواج پاجائے
تو متشدد رویوں اور ذاتی اغراض کے سوا کچھ باقی
نہیں رہتا۔اس کا نتیجہ وہ آگ جو ہمارے چاروں طرف
پھیلتی جارہی ہے۔ہم نے اپنی شناخت سے انکار کیا ،
اپنی ثقافت اور اپنی میراث کو مسترد کیا اوراحساس
کمتری کو گلے لگا لیا۔اس بوڑھے دانشمند کے لہجے
میں پریشانی تھی، مایوسی نہ تھی۔اس نے کہا کہ تباہ
وہ قوم ہوتی ہے جس پر حجت تمام کردی جاتی ہے۔ مراد
یہ کہ اس کے پھلنے پھولنے کے تمام امکانات ختم
ہوجاتے ہیں۔ہمارے ساتھ ایسا نہیں ہے۔اندر سے ہم
زندہ ہیں اور کسی بھی لمحے پورے قد کے ساتھ کھڑے
ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔سو خوش خبری یہ ہے کہ ہم
پر حجت تمام نہیں ہوئی۔اب بھی اگر ہم اپنا چہرہ
تلاش کرلیں، اپنی اصل کے ساتھ جڑ جائیں تو کسی میں
ہمت نہیں ہوسکتی کہ ہم پر دہشت گردی مسلط کرسکے،
ہم پر میزائل برسائے یا ہمیں اپنی قیادت کے انتخاب
کے حق سے محروم کرسکے۔
|