|
کربلا کا سبق یہ ہے کہ اقتدار کی بھوک ادمی کو
درندہ بنا سکتی ہے
غلام اکبر
جو
مقدر میں لکھا ہوتا ہے وہ ضرور ہو کر رہتا ہے۔
اور مقدر صرف افراد کا ہی نہیں اقوام کا بھی ہوتا
ہے۔
قران حکیم میں پہلے قوم نوح کا زکر اتا ہے،
پھر قوم عاد کا جس ی ہدایت کی لیے خضرت ہود اے ۔
اس کے بعد قوم ثمود کا جسے راہ حق دکھانے لے لیے
حضرت صالح کو پیغمبری ملی ۔فورا ہی بعد صدوم کی
قوم کا ذکر ملتا ہے جس کے پیغمبر حضرت لوط تھے۔پھر
حضرت شعیب اے جن کے سپرد خدا نے مدین کی قوم کی
اصلاھ کا کام کیا۔ان تمام قوموں کے مقدر میں تباہ
ہونا اور مٹ جانا لکھا تھا۔اور ان کی اصلاھ کے لیے
انے والے پیغمبر انہیں ان کے مقدر سے نہ بچا سکے۔
مسلمانوں کو ایسے مقدر کا سامنا یقنیی طور نہیں
کرنا پڑے گا۔ کیونکہ انخضرت صلی اللہ و علیہ وسلم
خدا کےاخری نبی تھے اور اپ کے بعد کوی پیغمبر نہیں
اے گا۔ اس ضمن میں قبل غور بات یہ ہے کہ انخضرت سے
پہلے جتنے بھی پیغمبر اےء وہ کسی خاص قوم کو "راہ
ہدایت" پر ڈالنے کے لیے اےء۔یہ صرف اپ کی ذات
مبارک تھی جسے اللہ تعالٰی نے بنی نوع انسان کی
اجتماعی ہدایت کے لیے منتخب کیا۔
کہنا میں یہ چاہتا ہوں کہ امت محمدی کے مقدر میں
قیامت سے پہلے مٹ جانا نہیں لکھا۔اس کا مطلب یہ نہ
لیا جاےء کہ اس کے مقدر میں طوفان اندھیاں اور
المیے نہیں لکھے گےء۔
المیوں کا اغاز تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی
شہادت کے ساتھ ہی ہو گیا تھا۔ اس سے پہلے حضرت عمر
رضی اللہ عنہ بھی شہید کیے گے مگر "غیر ہاتھوں"
سے۔حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کا یوں
ایک المیہ ہے کہ جب وہ شہید ہوے تو وہ قران پڑھ
رہے تھے اور جن تلواروں نے ان کا خون بہایا وہ
مسملانوں نے تھام رکھی تھیں۔
بعد میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے والا
بدبخت بھی
اپنے تیں ایک بنیاد پرست مسلمان تھا۔
مگر ماہ محرم جس المیے کی تڑپا دینے والی یاد تازپ
کرتا ہے وہ رسول صلی اللہ و علیہ وسلم کے
نواسے،بنت رسول صلی اللہ و علیہ وسلم کے لخت جگر
اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فرزند حضرت امام
حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا المیہ ہے۔اس المیے
کا داغ ہماری تاریخ کی پیشانی سے کبھی نہیں مٹے گا۔
یہ کہنا درست ہے کہ
"قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد"
مگر کاش ہماری تاریخ میں یہ ہولناک واقعہ رونما نہ
ہوا ہوتا۔!
وہ کون لوگ تھے جنہوں نے نواسہ رسول کا خون بہایا،؟
کیا انہیں مسلمان سمجھا جا سکتا ہے؟
میں نہیں سمجھتا کہ کوی بھی مسلمان درندگی پر اتر
سکتا ہے۔
لیکن کربلا سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اقتدار کی
بھوک ادمی کو درندہ بنا سکتی ہے۔ اقتدار کی بھوک
جن لوگوں میں اج بھی موجود ہے،وہ لوگ اج بھی
درندگی پر اتر اتے ہیں۔ گویا روایت یزید اج بھی
زندہ ہے۔ اور اگر یزید زندہ ہے تو روایت حسین کیسے
مر سکتی ہے؟
یہ تصادم چلتارہے گا
تاں کہ یزید کا سر حسین کے نیزے پر نہیں ا جاتا!
|