|
ایک طرف عزم ویقین کی قندیلیں اور دوسری طرف
اندیشوں کا کرب !
غلام اکبر
ایمان اور عزم ویقین کی قندیلیں اپنی روح میں روشن
رکھنا ہر خدا پرست کے لئے ضروری ہے۔اور میرے نزدیک
خداپرستی اور مسلمان ایک ہی بات ہے۔کیوں کہ ایک
مسلمان کا خدا اس اللہ کے
سوا
کوئی معبود نہیں ہوسکتا جس کے رسول صلی اللہ علیہ
وسلم بن کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کرہ ارض
پر آئے تھے،اور جس کا فرمان بصورت قرآن شب وروز
دنیا کی فضاؤں میں گونجتا ہے۔میرا ایمان ہے کہ
پاکستان کا وجود محض ایک اور ملک کے طورپر عمل میں
نہیں آیا تھا۔پاکستان کسی ایسی منشائے الہی کا نام
ہے جس کی تکمیل موجودہ صدی میں ضرور ہوگی اور جس
کا سفر اپنی تکمیل کی طرف شروع ہوچکا ہے۔ہماری
آنیوالی نسلیں جس پاکستان کی فضاؤں میں سانس لیں
گی وہ میرے ایمان اور میرے یقین کی رو سے مسلم
نشاہ ثانیہ کا قلعہ بن چکا ہو گا۔اور یہ ایمان اور
یہ یقین صرف میرا ہی نہیں،میرے ان کروڑوں ہم وطنوں
کا بھی ہے جو میری امنگوں جیسی امنگیں ہی اپنے
اندر پال رہے ہیں۔مگر اس ایمان اور اس یقین کے
باوجود کچھ اندیشے ایسے بھی ہیں جو ذہن میں ابھرتے
ہیں تو پریشان کردیتے ہیں۔امریکہ کے عزائم اس خطے
کے بارے میں نیک ہر گز نہیں۔امریکہ چاہ رہا ہے کہ
پاکستان افغانستان پر اس کے قبضے کو مستحکم بننے
میں ایک کلیدی کردار ادا کرے۔اور یہاں یہ بات یاد
رکھی جانی چاہئے کہ ”پاک افغان” سرحد کے دونوں طرف
جو لوگ آباد ہیں ان کا شجرہ نسب ایک ہی ہے۔اور اس
شجرہ نسب کی لغت میں غلامی کا لفظ نہیں لکھا
گیا!یہاں مجھے سقوط غرناطہ سے پہلے کا دور یاد آتا
ہے۔غرناطہ کے آخری حکمران کا نام ابو عبداللہ
تھا۔جب وہ تخت پر نہیں بیٹھا تھا اور الحمرا کی
چابیاں اسکے کے والد ابوالحسن کے قبضے میں تھیں تو
قسطلہ کے حکمران فرڈی نینڈ نے ”سازش اور ترغیب” کا
ایک ایسا جال بچھایا کہ ابوالحسن کو اندھا کرکے
زنداں کے اندھیروں میں پھینک دیا گیا اور
ابوعبداللہ فرڈی نینڈ کی مدد سے تخت پر قابض
ہوگیا۔کچھ ہی عرصے کے بعد شاہ فرڈی نینڈ اور ملکہ
ازابیلا کی فوجوں نے غرناطہ پر یلغار کی اور اندلس
سے مسلمانوں کا نام ونشان مٹادیا گیا۔تاریخ جہاں
ہمیں سبق سکھاتی ہے،وہاں اندیشوں میں بھی مبتلا
کردیتی ہے۔پر بات پھر میں ایمان اور عزم ویقین کی
کروں گا۔پاکستان ویساالحمر کبھی نہیں بنے گا کہ جس
کی چابیاں کسی ابوعبداللہ سے کوئی فرڈی نینڈ چھین
سکے!
|