BBCONE.NET
ہم سےرابطہ کیجۓ اشتہارات ہماری پالیسی ہمارےبارےمیں

صفحہ اول    پاکستان    عالمی دنیا    ارد گرد    رو برو    کھیل    کالم و مضامین    شوبز    عالم اسلام    کامرس    مقامی خبریں

Click here to download urdu font

Click here to download urdu font

 

وقت اشاعت :Wednesday,21 May 2008, 06:27 GMT 11:27 PST

 
ذمہ دار وہ نہيں


رضوان احمد ساگر
 

ہمیں برسراقتدار کسي جماعت سے کوئي شکوہ نہيں کہ گندم کا ریٹ 625روپے مقرر ہے مگر مارکیٹ میں 700روپے پر فروخت کیوں ہورہي ہے۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کي قدر مزید کم کیوں ہو رہي ہے ؟غیر ملکي قرضوں کا حجم بڑھ گيا کوئي بات نہيں ۔ غریب عوام کو دو وقت کي روٹي میسر نہيں کوئي بات نہيں۔ سرکاري ملازمين کے بچوں کي فیسیں ادا نہيں ہو رہيں ۔ نئے موسم کے کپڑے نہيں بن رہے ۔ متوسط طبقہ غریبي کي حدوں کو چھونے لگا ہے ۔ کوئي بات نہيں ۔ کیوں کہ جو بھي حکومت برسراقتدا تي ہے وہ تمام مسائل کا بوجھ یا گند ماضي کي حکومت پر ڈال دیتي ہے ۔ بے زبان عوام کسي سے یہ نہيں پوچھ سکتے کہ وزرائ اور مشیر تو چل گئے مگر ان کے ماتحت تو موجود ہيں جو اس ملک کے اصل حکمران ہيں جن کي گردن میں اختیارات کا سریا پڑا ہوا ہے ۔ جو ہر شخص کو اپنا غلام سمجھتے ہيں ۔ جہاں چاہيں اور جسے چاہیں بے عزت کرتے چلیں۔ کيا اس پوچھنے کي رسم بھي کبھي شروع ہو گي۔ کيا ان کا احتساب بھي ہوگا۔
حکمران کوئي بھي ہو انتظامیہ تو یہي رہتي ہے۔ کيا وزیراعلي بندوق اٹھا کر شہروں میں پہرہ دیتا ہے ۔ کيا کوئي وزیر بازار میں ریٹ لسٹیں چیک کرتا ہے ۔کيا کوئي مشیر چوریاں ٹریس کرنے میں لگا رہتا ہے اگر ایسا نہيں تو پھر کيا وجہ ہے کہ ان ذمہ داران کو کوئي کسي غلطي کا ذمہ دار نہيں ٹھہراتا۔پنجاب کے صوبائي دارالحکومت لاہور میں
19064دنوں کے دوران مختلف مقامات سے 256لاشیں برمد ہوئيں جن میں سے35لاشیں خواتین کي تھیں ۔ ان میں 3خواتین کي شناخت ہو سکي جب کہ 28کنواري ماؤں نے نومولودہ بچوں کو کوڑے دانوں ‘ پارکوں اور ہسپتالوں میں پھینک ديا جو اپني زندگي کي بہار نہ دیکھ سکے ۔ ایدھي فاؤنڈیشن نے 52نعشوں کو کفن دفن کا انتظام کیا اور باقي بد نصیبوں کا پتہ نہيں کيا بنا۔
ہم یہ یاد نہيں دلاتے کہ
1999ئ کو صدر پرویز مشرف نے کمانڈو ایکشن کے بعد جو کئي منادیاں کروائيں ان میں ایک پولیس اصلاحات اور عام دمي کو تحفظ فراہم کرنے اور انصاف مہیا کرنے کا اعلان بھي تھا۔22جون 2006جسٹس افتخار چوہدري ‘ عبدالحمید ڈ٧گر اور سعید اشہد پر مشتمل سپریم کورٹ کے بنچ نے پولیس کو ایسے تمام عقوبت خانے بند کرنے کا حکم ديا جن میں با اثر لوگوں کے کہنے پر ملزموں یا بے گناہوں کو اذیت دي جاتي ہے ۔
کيا یہ بات کسي سے پوشید ہ ہے کہ مختلف اداروں نے پورے ملک میں خفیہ ٹارچر سیل قائم کر رکھے ہيں ۔ انساني حقوق کي تنظیموں کے مطابق پاکستان میں ہر برس اوسطاً
50افرادپولیس حراست اور اوسطاً دو سو سے زائد مشکوک مقابلوں میں مارے جاتے ہيں ۔ مارچ2008مظفر گڑھ میں با اثر افراد نے ایک خاندان کو گھر سے نکال کر قبضہ کر ليا اس خاندان نے اسلام باد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے مظاہرہ کيا ۔ سمندي میں تین بچوں کے باپ نے بے روزگاري اور طعنوں سے تنگ کر خود کشي کر لي ۔ کراچي میں ایک قرض دہندہ دل کے دورے سے اس وقت ہلاک ہوگيا جب ایک نجي بنک کے غنڈوں نے اس کي محلے والوں کے سامنے بے عزتي کردي۔ کراچي کے صنعتي علاقے کورنگي میں فیکڑي مزدوروں نے اپنے ایک ساتھي جگدیش کو مارمار کر ہلاک کر ديا۔ پولیس خاموش تماشائي بني رہي۔ منو بھیل نامي شخص دس برس سے حیدر باد پریس کلب کے سامنے ہڑتا ل کئے بیٹھا ہے ۔ اس کا خاندان بازیاب نہيں ہو سکا ۔
اس وقت پاکستان کي ستر فیصد سے زائد بادي دو ڈلر روزانہ سے کم پر زندگي گزار رہي ہے ۔ جبکہ یہاں کي قیمتیں ڈالر سے ہي منسلک ہيں ۔ اگر مہنگائي ڈالر سے منسلک ہے تو تنخواہيں بھي اسے حساب سے مقرر کي جائيں جب مہنگائي بڑھے تو تنخواہوں میں بھي اضافہ ہو جائے مگر یہ حسین خواب ہے جو کبھي شرمندہ تعبیر نہيں ہو سکتا۔
اس وقت جیلوں میں گنجائش سے
114%زائد قیدي موجود ہيں ۔ جن میں سے 60فیصد کے مقدمات زیرسماعت ہيں ۔ اس پس منظر میں جب کراچي اور لاہور میں مشتبہ ڈاکوؤں کو زندہ جلانے کي کوشش ہوتي ہے تو یہ کوئي بڑا ردعمل نہيں ہے۔بھوک ‘ ننگ ‘ بے روزگاري اور محرومي انسان کو انسان نہيں رہنے دیتي۔
جب بچے بھوک سے بلک رہے ہوں ۔ کرنے کو کوئي کام نہ ہو ۔ ٹھیکیدار کام کروائے مگر مزدوري کم دے۔ دکاندار کم تولے اور ریٹ بھي زیادہ لگائے ۔ ڈاکٹر تڑپٹے مریض کو فیس کے بغیر ہاتھ نہ لگائے۔ سرکاري ہسپتالوں میں لال دوائي کے علاوہ کچھ میسر نہ ہو۔عام دمي کو انصاف کي جگہ مظالم اور ناانصافي چکي میں پسنا پڑے تو پھر مدرسوں سے چاہئے جہادي نکلیں ۔ یونیورسٹیوں سے چاہئے انجینئر اور ڈاکٹر نکلیں اس معاشرے میں ڈاکوؤں کا راج ہو گا۔ جن کو میرٹ پر نوکریاں نہيں ملتيں۔ سفارش کے بغیرحق نہيں ملتا۔ رشوت کے بغیر قرضے نہيں ملتے ۔ کون ہے جو اس کا ذمہ دار ہے ۔
یہ وہي ہيں جو ہر دور میں حکومت کرتے ہيں ۔ جن کي اکھاڑ پچھاڑ کوہي صرف ان کي سزا سمجھ ليا جاتا ہے ۔حالانکہ اختیار ات کے جال میں پھنسے پاکستانیوں کو شکارکرنے کا انہيں چسکا پڑ چکا ہے انہيں سمندر کي لہریں گننے پر لگا دو پھر بھي دیہاڑي لگا کر رہيں گے۔سابق حکومت کو معتوب بنانے کي بجائے ان افسران کي کھچائي کيجئے۔ دھلائي کیجئے جنھوں نے گزشتہ دور میں بھي عوام کو انصاف نہيں ملنے ديا ۔ صاف پاني میسر نہيں نے ديا۔ لاوارث بچوں کو تحفظ کي چھت مہیا نہيں ہونے دي۔ جو سب اچھا کا راگ الاپ کر خود اپني تجوریاں بھرتے رہے۔ جو فائلیں دباتے اور نوٹ بناتے رہے۔ جن کي وجہ سے پنجاب کي نہروں پر
40جگہ بجلي بنانے کے منصوبے شروع نہيں ہو سکے۔ جن کي وجہ سے انڈیا ڈیم پر ڈیم بنا رہا ہے مگر کسي کے کان پر جوں تک نہيں رینگ رہي۔
احتساب تو ان کا ہونا چاہئے جو حکمرانوں کي جي حضوري کر کے اپني چاندي کرتے ہيں اور اس ملک کے باسیوں کا جینا یونہي دوبھر رہتا ہے جس طرح حکومت بدلنے کے بعد بھي عوام سانس لینے کیلئے ترس رہي ہے ۔زندہ لاشوں کو کفن میسر نہيں ۔ مرنے والوں کو قبریں میسر نہيں ۔ اب تو کرسي کے کھیل میں سے چند لمحے ان بد نصیبوں کیلئے نکالیں جو پ کو یہاں تک لے کر ئے ہيں۔ جنھوں نے خیرات کے پندرہ سو رپوں کے بدلے اپنا ووٹ نہيں بیچا۔ جنھیں پ سے امید تھي کہ پ ان کي تقدیر بدلیں گے۔ پ اپنے وعدے پورے کرنے کیلئے نظام بدلتے ہيں یا کسي کي اوقات ۔ جلدي کیجئے اس سے پہلے کے غربت کي دیوي فاقوں کي سوغات بانٹتے بانٹتے تھک جائے ۔ زندہ رہنے کا جرم کرنے والوں کو فاني دنیا سے نجات مل جائے۔ مزار پر دےئے جلانے سے گھر روشن نہيں ہوتے ۔ گھروں کو باد کیجئے ۔ شہرِ خاموشاں کے مکینوں کو پ کي ضرورت نہيں ۔




 

 

 
 
 
دوست کو بھیجیں

پرنٹ کریں

صفحہ اول
 
 

Click here to watch BBCONE Videos
 
Click here
 
Click here
 
Click here for BBCONE Photos
 

SuperWebz.com

 





تمام جملہ حقوق بحق بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ محفوظ ہیں

Bangash Broadcasting Company (pvt.) Ltd. of Pakistan