BBCONE.NET
ہم سےرابطہ کیجۓ اشتہارات ہماری پالیسی ہمارےبارےمیں

صفحہ اول    پاکستان    عالمی دنیا    ارد گرد    رو برو    کھیل    کالم و مضامین    شوبز    عالم اسلام    کامرس    مقامی خبریں

Click here to download urdu font

Click here to download urdu font

 

وقت اشاعت :Saturday,5 January 2008, 11:00 GMT 16:00PST

 
انتخابات کی تاریخ میں تبدیلی کا فائدہ اور نقصان


ضمیر نفیس

الیکشن کمیشن کی طرف عام انتخابات کی تاریخ میں تبدیلی کے ساتھ ہی ملک بھر کے سیاسی حلقوں میں اس امر پر بحث شروع ہوچکی ہے کہ واقعی تاریخ میں تاریخ میں تبدیلی ناگزیر تھی؟اور کیا اس سے کسی مخصوص پارٹی کو فائدہ پہنچانا تو مقصود نہ تھا؟ایک معروف نقطہ نظر بھی یہ ہے کہ سندھ کے جن سات آٹھ اضلاع میں الیکشن کمیشن کے دفاتر جلائے گئے ان میں الیکشن کوملتوی کیا جا سکتا تھا اور اس کا معقول جواز بھی موجود تھا مگر باقی سندھ اور دوسرے صوبوں میں الیکشن کمیشن کے کسی دفتر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور صوبہ سرحد،پنجاب وبلوچستان میں امن وامان کی صورتحال بھی ہر گز ایسی نہ تھی جس سے الیکشن کے التوا یا اس کی تاریخ میں تبدیلی کا جواز بنایا جاتا اگر سوات اور اس کے ملحقہ علاقوں میں فوجی آپریشن اور کرفیو کے باوجود ان علاقوں کو 8جنوری کے الیکشن میں شامل کیا جاسکتا ہے تو محض چند اضلاع کے امن وامان کی آڑ میں پورے ملک میں الیکشن کی تاریخ میں چالیس دن کی تبدیلی ہر گز حکومت کی نیک نیتی ظاہر نہیں کرتی بظاہر اسے سراسر الیکشن کمیشن کا فیصلہ قرار دیا جاتا ہے اور یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ حکومت کا اس سے کوئی تعلق نہیں مگر حقیقت یہی ہے کہ سب کچھ حکومت کے اشارے پر ہوا ہے۔یہ بھی کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کو صوبائی حکومتوں نے اپنے اپنے صوبوں میں امن وامان کے حوالے سے رپورٹیں فراہم کیں اور یہ تجاویز دیں کہ 8جنوری کے الیکشن کوآگے کر دیا جائے کیا یہ مضحکہ خیز بات نہیں ہے کہ سرحد اور بلوچستان حکومتیں یہی کہ رہی ہیں جہاں سرکاری اور نجی املاک محفوظ رہیں پنجاب میں بھی سانحہ لیاقت باغ پر ردعمل تو ہوا مگر امن وامان کے حالات مخدوش نہ ہوئے سندھ حکومت تو امن وامان کی خرابی کا موقف اختیار کرنے میں بجا تھی،مگر دیگر حکومتوں نے عذر کیوں تراشا،یہ بھی ایک اہم سوال ہے جب بھی کوئی حکومت محض امن وامان کی بنیاد پر الیکشن کی تاریخ میں ردوبدل کرے یا اسے ملتوی کرے اسے بدنیتی کے سوا اور کچھ نہیں کہا جاسکتا،امن وامان کو خراب کرنے یا کروانے میں کوئی دیرنہیں لگتی چند سیاسی جماعتوں کو کھلی چھوٹ دے دی جائے ایک دن میں امن وامان خراب ہو جائے گا سیاسی جماعتوں میں بھی ایسی جماعتوں موجود ہیں جو حکومت کے ایک اشارے پرامن وامان خراب کرکے حکومت کو اپنی مرضی کے فیصلے کرنے کے مواقع فراہم کر سکتی ہیں،سارا مسئلہ حکومت کی نیت کا ہے حکومت الیکشن کے معاملے میں صاف نیت رکھتی ہوتواس کے راستے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہو سکتی،ہمارے سامنے ایران کی مثال ہے جہاں دہشت گردی کے بڑے بڑے واقعات رونما ہوئے مگر باقاعدگی سے الیکشن ہوتے رہے افغانستان اور عراق میں نامساعد حالات کے باوجود الیکشن ہوے کیا اس سے بدتر حالات تھے کہ الیکشن کی تاریخ میں چالیس روز کا اضافہ کردیا گیا؟آیئے اب اس امر کا جائزہ لیتے ہیں تاریخ کی تبدیلی سے فائدہ اٹھاسکتا ہے جو پارٹی سانحہ لیاقت باغ سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی اس نے تاریخ کی تبدیلی کی خواہش نہیں کی بلکہ کہا کہ وہ آٹھ جنوری کے الیکشن میں بھی حصہ لینے کےلئے تیار ہے،مگر یہ قاف مسلم لیگ تھی جو درون خانہ تاریخ میں تبدیلی کی خواہاں تھی 8جنوری کواگر الیکشن ہوتے تو پیپلز پارٹی بےنظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پیدا شدہ ماحول سے بہت زیادہ سیاسی فائدہ اٹھا سکتی تھی چالیس روز کی تاخیر کر کے اس پارٹی کے حق میں عوامی ہمدردی کے جذبات کی شدت کم کرنے کی کوشش کی گئی لیکن اس تاخیر سے مسلم لیگ(ق) کو شاید کچھ بھی حاسل نہ ہو سکے، بلکہ الٹا نقصان پہنچے کیو نکہ مزید دس بارہ امیدوار اس کاٹکٹ واپس کر کے مسلم لیگ (ن) کاٹکٹ حاصل کر سکتے ہیں،چالیس روز کی تاخیر سے بھی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن)کے مفادات کوکم نہیں کیا جاسکتا،مستقبل انہی دونوں کا ہے مسسلم لیگ (ق) کی حالت عوام میں پہلے ہی اچھی نہ تھی27دسمبر کے سانحہ نے اسے اور بھی لاغرکردیا۔
 

 

 
 
 
دوست کو بھیجیں

پرنٹ کریں

صفحہ اول
 
 

Click here to watch BBCONE Videos
 
Click here
 
Click here
 
Click here for BBCONE Photos
 

SuperWebz.com

 





تمام جملہ حقوق بحق بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ محفوظ ہیں

Bangash Broadcasting Company (pvt.) Ltd. of Pakistan