|
انتخابات کی تاریخ میں تبدیلی کا فائدہ اور نقصان
ضمیر نفیس
الیکشن کمیشن کی طرف عام انتخابات کی تاریخ میں
تبدیلی کے ساتھ ہی ملک بھر کے سیاسی حلقوں میں اس
امر پر بحث شروع ہوچکی ہے کہ واقعی تاریخ میں
تاریخ میں تبدیلی ناگزیر تھی ؟اور
کیا اس سے کسی مخصوص پارٹی کو فائدہ پہنچانا تو
مقصود نہ تھا؟ایک معروف نقطہ نظر بھی یہ ہے کہ
سندھ کے جن سات آٹھ اضلاع میں الیکشن کمیشن کے
دفاتر جلائے گئے ان میں الیکشن کوملتوی کیا جا
سکتا تھا اور اس کا معقول جواز بھی موجود تھا مگر
باقی سندھ اور دوسرے صوبوں میں الیکشن کمیشن کے
کسی دفتر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور صوبہ
سرحد،پنجاب وبلوچستان میں امن وامان کی صورتحال
بھی ہر گز ایسی نہ تھی جس سے الیکشن کے التوا یا
اس کی تاریخ میں تبدیلی کا جواز بنایا جاتا اگر
سوات اور اس کے ملحقہ علاقوں میں فوجی آپریشن اور
کرفیو کے باوجود ان علاقوں کو
8جنوری
کے الیکشن میں شامل کیا جاسکتا ہے تو محض چند
اضلاع کے امن وامان کی آڑ میں پورے ملک میں الیکشن
کی تاریخ میں چالیس دن کی تبدیلی ہر گز حکومت کی
نیک نیتی ظاہر نہیں کرتی بظاہر اسے سراسر الیکشن
کمیشن کا فیصلہ قرار دیا جاتا ہے اور یہ تاثر دیا
جاتا ہے کہ حکومت کا اس سے کوئی تعلق نہیں مگر
حقیقت یہی ہے کہ سب کچھ حکومت کے اشارے پر ہوا
ہے۔یہ بھی کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کو صوبائی
حکومتوں نے اپنے اپنے صوبوں میں امن وامان کے
حوالے سے رپورٹیں فراہم کیں اور یہ تجاویز دیں کہ
8جنوری
کے الیکشن کوآگے کر دیا جائے کیا یہ مضحکہ خیز بات
نہیں ہے کہ سرحد اور بلوچستان حکومتیں یہی کہ رہی
ہیں جہاں سرکاری اور نجی املاک محفوظ رہیں پنجاب
میں بھی سانحہ لیاقت باغ پر ردعمل تو ہوا مگر امن
وامان کے حالات مخدوش نہ ہوئے سندھ حکومت تو امن
وامان کی خرابی کا موقف اختیار کرنے میں بجا
تھی،مگر دیگر حکومتوں نے عذر کیوں تراشا،یہ بھی
ایک اہم سوال ہے جب بھی کوئی حکومت محض امن وامان
کی بنیاد پر الیکشن کی تاریخ میں ردوبدل کرے یا
اسے ملتوی کرے اسے بدنیتی کے سوا اور کچھ نہیں کہا
جاسکتا،امن وامان کو خراب کرنے یا کروانے میں کوئی
دیرنہیں لگتی چند سیاسی جماعتوں کو کھلی چھوٹ دے
دی جائے ایک دن میں امن وامان خراب ہو جائے گا
سیاسی جماعتوں میں بھی ایسی جماعتوں موجود ہیں جو
حکومت کے ایک اشارے پرامن وامان خراب کرکے حکومت
کو اپنی مرضی کے فیصلے کرنے کے مواقع فراہم کر
سکتی ہیں،سارا مسئلہ حکومت کی نیت کا ہے حکومت
الیکشن کے معاملے میں صاف نیت رکھتی ہوتواس کے
راستے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہو سکتی،ہمارے
سامنے ایران کی مثال ہے جہاں دہشت گردی کے بڑے بڑے
واقعات رونما ہوئے مگر باقاعدگی سے الیکشن ہوتے
رہے افغانستان اور عراق میں نامساعد حالات کے
باوجود الیکشن ہوے کیا اس سے بدتر حالات تھے کہ
الیکشن کی تاریخ میں چالیس روز کا اضافہ کردیا
گیا؟آیئے اب اس امر کا جائزہ لیتے ہیں تاریخ کی
تبدیلی سے فائدہ اٹھاسکتا ہے جو پارٹی سانحہ لیاقت
باغ سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی اس نے تاریخ کی
تبدیلی کی خواہش نہیں کی بلکہ کہا کہ وہ آٹھ جنوری
کے الیکشن میں بھی حصہ لینے کےلئے تیار ہے،مگر یہ
قاف مسلم لیگ تھی جو درون خانہ تاریخ میں تبدیلی
کی خواہاں تھی 8جنوری
کواگر الیکشن ہوتے تو پیپلز پارٹی بےنظیر بھٹو کی
شہادت کے بعد پیدا شدہ ماحول سے بہت زیادہ سیاسی
فائدہ اٹھا سکتی تھی چالیس روز کی تاخیر کر کے اس
پارٹی کے حق میں عوامی ہمدردی کے جذبات کی شدت کم
کرنے کی کوشش کی گئی لیکن اس تاخیر سے مسلم لیگ(ق)
کو شاید کچھ بھی حاسل نہ ہو سکے، بلکہ الٹا نقصان
پہنچے کیو نکہ مزید دس بارہ امیدوار اس کاٹکٹ واپس
کر کے مسلم لیگ (ن) کاٹکٹ حاصل کر سکتے ہیں،چالیس
روز کی تاخیر سے بھی پیپلز پارٹی اور مسلم
لیگ(ن)کے مفادات کوکم نہیں کیا جاسکتا،مستقبل انہی
دونوں کا ہے مسسلم لیگ (ق) کی حالت عوام میں پہلے
ہی اچھی نہ تھی27دسمبر
کے سانحہ نے اسے اور بھی لاغرکردیا۔
|