BBCONE.NET
ہم سےرابطہ کیجۓ اشتہارات ہماری پالیسی ہمارےبارےمیں

صفحہ اول    پاکستان    عالمی دنیا    ارد گرد    رو برو    کھیل    کالم و مضامین    شوبز    عالم اسلام    کامرس    مقامی خبریں

Click here to download urdu font

Click here to download urdu font

 

وقت اشاعت :Saturday,23 February 2008, 13:18 GMT 18:18 PST

 
انتخابی نتائج ،انتہا پسندی کےخلاف حکومتی موقف کی توثیق
 


ضمیر نفیس

پاکستان میں منعقد ہونے والے عام انتخابات کے نتائج نے عالمی سطح پر حکومت کے اس موقف کی توثیق کردی ہے جس میں یہ کہا گیا تھا کہ پاکستان میں انتہا پسند کبھی بر سراقتدار نہیں آسکتے۔اس لئے ایٹمی اثاثوں کے ان کے ہاتھ لگنے کے تمام خدشات بے بنیاد ہیں۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ امریکہ سمیت بعض مغربی ممالک کے مخصوص ذرائع ابلاغ کی طرف سے اکثر یہ تاثر دیاجاتا رہا کہ پاکستان میں مذہبی انتہاپسندوں کا غلبہ بڑھ رہا ہے اور اس کے ایمٹی ہتھیار غیر محفوظ ہیں یہ ہتھیار کبھی بھی انتہاپسندوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں اور ایسی صورت میں پوری دنیا بالخصوص اس خطے کے امن کو شدید نقصانن پہنچ سکتا ہے،ذرائع ابلاغ کے ساتھ ساتھ امریکی انتظامیہ کے بعض ایوانوں سے بھی مسلسل ایسے ہی خدشات کا اظہار کیا جاتا رہا اس پر حکومت پاکستان نے کئی بار نہ صرف وزارت خارجہ کی سطح پر بلکہ صدر پرویز مشرف نے اپنے متعدد انٹرویوز میں یہ واضح کیا کہ انتہاپسند پاکستان میں کبھی بھی اقتدار میں نہیں آسکتے،پاکستان کے عوام مجموعی طور پر انتہا پسندوں کے خلاف ہیں اور انہوں نے ہمیشہ انہیں انتخابات میں مسترد کیا ہے،
18 فروری کے انتخابت نے صدر پاکستان کے اس موقف کو ثابت کردیا کہ پاکستان کی سیاست اور اقتدار میں انتہاپسندوں کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے،افغانستان سے ملحقہ صوبوں بلوچستان اور سرحد میں جس طرح عوام نے مذہبی جماعتوں بالخصوص انتہاپسندوں کو مسترد کیا ہے وہ اس کا برملا ثبوت ہے یہ امر قابل ذکر ہے کہ صونہ سرحد کی اسمبلی میں عوامی نیشنل پاڑٹی کو اکثریت حاصل ہوئی ہے جو لبرل اور روشن خیال جماعت ہے اسی طرح بلوچستان اسمبلی میں مسلم لیگ (ق) کو عوامی برتری ملی ہے جس نے ماضی میں انتہاپسندی کا بھرپور مقابلہ کیا ہے۔2002 کے انتخابات میں سرحد اسمبلی میں ایم ایم اے کو اکثریت اس دور کے مخصوص حالات کے باعث حاصل ہوئی، نائن الیون کے بعد امریکہ نے افغانستان میں القاعد اور اسامہ بن لادن کے خلاف جس شدت کے ساتھ کارروائی کی اس باعث امریکہ مخالف جذبات میں اضافہ ہوا،اور متحدو مجلس عمل نے انتخابات میں اس صورتحال سے سیاسی فائدہ حاصل کیا لیکن اب جو نتائج سامنے آئے ہیں وہ گزشتہ کئی انتخابت کے نتائج سے بڑی حد تک مماثلت رکھتے ہیں ۔حقیقت یہی ہے کہ پاکستان کے عوام بہت سی وجوہات کی بنا پر مذہبی انتہاپسندی کے خلاف ہیں اور وہ اس کے علمبرداروں کو منتخب ایوانوں میں نہیں دیکھنا چاہتے اس لئے یہ محض ایک مفروضہ اور تصور تھا کہ پاکستان میں انتہاپسندی تقویت حاصل کر رہی ہے اور ایمٹی پتھیار غلط ہاتھوں میں جا سکتے ہیں مغرب کے یہ خدشات حالیہ انتخابات کے نتائج نے چکناچور کردئیے تاہم اس صورتحال سے یہ بھی معلوم ہوا کہ امریکہ سمیت بہت سے مغربی ممالک کو پاکستان کی معاشرت،اس کی نفسیات اور اس کے مختلف اجزائے ترکیبی کا حقیقی طور پرادراک نہیں ہے،قیام پاکستان سے لے کر آج تک مذہبی انتہاپسندی کو عوام نے مسترد کیا ہے بلکہ اگر اس سے بھی پیچھے چلے جائیں تو دلچسپ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ مذہبی جماعتوں اور مذہبی رہنماؤں نے تحریک پاکستان کی مخالفت کی تھی اور قائداعظم کے خلاف فتوے صادر کئے تھے وجہ محض یہی تھی کہ قائداعظم ایک روشن خیال اور لبرل قائد تھے اور ان کی قیادت میں تحریک پاکستان ان کے لئے قابل قبول نہ تھی،بہرحال 18 فروری کے انتخابات نے جہاں ماضی کی دو متحارب جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کو مخلوط حکومت کا راستہ دکھایا وہاں عالمی سطح پر بھی یہ پیغام دیا کہ پاکستان کے عوام آئین ،جمہوریت اور انسانی حقوق پر پختہ یقین رکھتے ہیں اور انتہاپسندی کے شدید مخالف ہیں اسی طرح ان انتخابات نے ایمٹی اثاثوں کے غیر محفوظ ہونے اور غلط ہاتھوں میں جانے کے تمام تر خدشات کا بری طرح مسترد کردیا۔


 

 
 
 
دوست کو بھیجیں

پرنٹ کریں

صفحہ اول
 
 

Click here to watch BBCONE Videos
 
Click here
 
Click here
 
Click here for BBCONE Photos
 

SuperWebz.com

 





تمام جملہ حقوق بحق بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ محفوظ ہیں

Bangash Broadcasting Company (pvt.) Ltd. of Pakistan