BBCONE.NET
ہم سےرابطہ کیجۓ اشتہارات ہماری پالیسی ہمارےبارےمیں

صفحہ اول    پاکستان    عالمی دنیا    ارد گرد    رو برو    کھیل    کالم و مضامین    شوبز    عالم اسلام    کامرس    مقامی خبریں

Click here to download urdu font

Click here to download urdu font

 

وقت اشاعت :Sunday,09 March 2008, 08:40 GMT 13:40 PST

 
انصار برنی کا ڈرامہ اور کشمیرسنگھ
 


ضمیر نفیس

کاش انصار برنی سستی شہرت حاسل کرنے کی بجائے وہ فرد جرم ہی حاصل کر لیتے،جس کی بنا پر کشمیر سنگھ کو مزا ہوئی تھی لیکن انہیں اس سے کوئی سروکار نہ تھا ان کے سر پر انسانی حقوق کا سودا سوار تھا وہ بھارتی جاسوس کے انسانی حقوق کے بارے میں بہت بے چین تھے انسانوں کا حق تو یہ ہے کہ جو سزا کا مستحق ہے اسے سزا دی جائے جو جزا کا مستحق ہے اسے اس سے نوازا جائے کشمیر سنگھ کو خصوصی عدالت نے پاکستان کے خلاف جاسوسی کرنے پر سزائے موت دی تھی اس کی اس سزا پر عمل ہونا چاہیئے تھا مگر بوجوہ نہ ہو سکا،انصار برنی نے اس کی رہائی کے لئے صدر مملکت سے رابطے کئے اور سزا معاف کروانے کے بعد رہا کرا دیا۔
اب وہی کشمیر سنگھ بھارت پہنچنے کے بعد اپنی اصلی کیفیت میں واپس آگیا ہے اپنی بے گناہی کا ڈھونگ رچانے والے اس بھارتی جاسوس نے چندی گڑھ میں وزیر اعلی پرکاش سنگھ بادل کے ساتھ ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ وہ بھارتی جاسوس تھا اور اس نے اپنے ملک کے لئے اپنے فرائض سرانجام دیئے پاکستانی حکام اس سے معلومات حاصل کرنے میں ناکام رہے اس نے دوٹوک انداز میں کہا کہ میں نے جاسوس بن کر اپنے ملک کی بہترین خدمت کی لیکن بھارت نے میرے خاندان کی دیکھ بھال نہیں کی میری رہائی کے لئے بھارت کی کسی حکومت نے کوئی کردار ادانہیں کیا۔
نگران وفاقی وزیر انصار برنی کو پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں دکھائی نہیں دیں البتہ کشمیر سنگھ کے انسانی حقوق شدت سے یاد آگئے جب وزیر موصوف کو میڈیا نے لتاڑا تو انہوں نے وزارت داخلہ سے استفسار کیا ہے کہ انہیں بتایا جائے کہ کیا واقعی معزول چیف جسٹس کو نظر بند کر رکھا ہے اگر ایسا ہے تو کس قانون کے تحت ایسا ہوا ہے،اس کے بعد موصوف نے یہ تاثر دیا کہ اگر وہ مطمئن نہ ہوئے تو پھر اپنی مرضی کا فیصلہ کریں گے یعنی احتجاج کے طور پر حکومت سے الگ ہو جائیں گے،اس سے بڑا ڈرامہ اور کیا ہو سکتا ہےکہ آپ کی وزارت یونہی ایک ہفتے کی رہ گئی ہے جس روز نئی قومی اسمبلی اور کابینہ حلف اٹھائے گی نگران حکومت از خود تحلیل ہو جائے گی موصوف کی طرف سے ایسے میں استعفی کی دھمکی دی جارہی ہے وزارت داخلہ کی طرف سے انکے خط کا کبھی جواب نہیں آئیگا،انہیں چاہیئے تھا وہ ججز کالونی میں جاکر خود دیکھ لیتے کہ معزول چیف جسٹس اور ان کا خاندان نظر بند ہے،گیٹ پر تالے لگے ہیں اور ارد گرد پولیس خاردار تاروں کے ساتھ کھڑی ہے معزول چیف جسٹس سے اگر حکومت کو خطرہ ہے کہ وہ سپریم کورٹ میں جاکر عدالت لگالیں گے مگر ان کے بچوں سے کیسا خطرہ ہے انہیں چار ماہ سے سکول جانے کی کیوں اجازت نہ دی گئی،کیا بچوں کے ذریعے ان کے والد کو جھکانے کی کوششیں ہو رہی ہیں؟اس حکومت نے تو حد ہی کردی بچے والدین کی کمزوری ہوتے ہیں اس نے اس کمزوری کے ذریعے والدین کو سر جھکانے کے لئے مجبور کرنے کی کوششیں کیں،اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ جب وہ نظر بند تھے تو جینوا میں صدر صاحب نے اپنے دورے کے موقع پر ان کی بیٹی کو ملاقات کے لئے مدعو کیا بیٹی نے مجھے فون کیا میں نے اجازت دی اور کہا جاو مگر میرے معاملے کا ذکر نہ کرنا،لیکن میری بیٹی سے ملاقات کے موقع پر صدر نے کہا کہ تم اپنے والد کو سمجھاو وہ کس ڈگر پر چل نکلا ہے اعتزاز کے مطابق اس حکومت نے بچوں کے ذریعے ہمیں جھکانے کی کوشش کی مگر اسے ان کی کوششوں میں ناکامی ہوئی عجیب بات ہے کہ ججز کالونی میں جہاں معزول چیف جسٹس کے ساتھ ان کی بیوی بچے بھی نظر بند ہیں معزول چیف جسٹس کے گھر کے ساتھ سپریم کورٹ کے دیگر ججوں کی رہائش گاہیں بھی ہیں مگر عدلیہ کی ان شخصیات نے صبح صبح اپنے بچوں کو سکول بھیجتے ہوئے یقینا یہ سوچا ہوگا،کہ پڑوس میں دو بچے ایسے بھی ہیں جو سکول تو درکنار اپنے گھر کے صحن تک نہیں آسکتے،انصار برنی کو یہ سب کچھ کبھی نظر نہ آئے گا،وہ انسانی حقوق کی بحالی کی آواز انسانی حقوق کچلنے والوں سے پوچھ کر بلند کرتے ہیں۔


 

 
 
 
دوست کو بھیجیں

پرنٹ کریں

صفحہ اول
 
 

Click here to watch BBCONE Videos
 
Click here
 
Click here
 
Click here for BBCONE Photos
 

SuperWebz.com

 





تمام جملہ حقوق بحق بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ محفوظ ہیں

Bangash Broadcasting Company (pvt.) Ltd. of Pakistan