BBCONE.NET
ہم سےرابطہ کیجۓ اشتہارات ہماری پالیسی ہمارےبارےمیں

صفحہ اول    پاکستان    عالمی دنیا    ارد گرد    رو برو    کھیل    کالم و مضامین    شوبز    عالم اسلام    کامرس    مقامی خبریں

Click here to download urdu font

Click here to download urdu font

 

وقت اشاعت :Thursday,08 May 2008, 07:06 GMT 00:06  PST

 
نئے اٹارنی جنرل کی تلاش
 


ضمیر نفیس

آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ موجوودہ اٹارنی جنرل کا متبادل جب تک ملے گا اس وقت تک یہ کام کرتے رہیں گے۔ یہ بیان خاصامبہم ہے اس سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ پیپلزپارٹی ملک قیوم جیسی خصوصیات رکھنے والا اٹارنی جنرل تلاش کررہی ہے یا ان جیسے علم وفضل کی حامل کسی شخصیت کی تلاش میں ہے اگر ان جیسے کسی شخص کی تلاش ہے تو پھر ان میں ہی کیا برائی ہے انہیں ہی جاری وساری رکھا جائے اگر موصوف نئی حکومت کے ساتھ ایک ماہ گزار سکتے ہیں تو مزید کئی ماہ بھی گزار سکتے ہیں شروع کے دن ہی گزارنے مشکل ہوتے ہیں ایک دوسرے کو سمجھانے کا مسئلہ ہوتا ہے اگر یہ مشکل دن جیسے تیسے کرکے گزار دیئے جائیں تو اس کے بعد نفسیاتی طورپر فریقین ایک دوسرے سے مانوس ہوجاتے ہیں ایک دوسرے کے مزاج آشنا ہوجاتے ہیں،میں سراسر اٹارنی جنرل اور حکومت کے درمیان تعلقات ہی کی بات کر رہا ہوں قارئین کا ذہن کسی دوسری طرف نہیں جانا چاہئے نئی جمہوری حکومت ابھی تک کسی کی سمجھ میں نہیں آسکی،میں نے بھی اسے سمجھنے کی بہت کوشش کی لیکن ابھی تک کامیابی حاصل نہیں کرسکا پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) اس سے پہلے برسراقتدار رہ چکی ہیں دونوں جماعتوں کے قائدین بیوروکریسی سے بخوبی واقف ہیں لیکن حیرت کی بات ہے کہ بیوروکریسی کی بعض اعلی تقرریوں سے لے کر نئے اٹارنی جنرل تک انہیں مناسب شخصیات نہیں مل رہیں۔
ابھی تک کابینہ مکمل نہیں ہوسکی چنانچہ بہت سے محکموں کے اضافی چارج بعض وزرا کو دیئے گئے،گورنر تک وہی ہیں جو پہلے تھے،بات کچھ سمجھ میں نہیں آرہی،آخر اقتدار کا تجربہ رکھنے والی دونوں جماعتیں اس بار اناڑی پن کا مظاہرہ کیوں کررہی ہیں،تبدیلی کا احساس دلانے میں کیوں ناکام رہی ہیں اس صورتحال میں مشیر داخلہ کی مہم جوئی نے اور بھی تماشا بنادیا پارٹی قیادت سے لے کر وزیراعظم تک کسی کو خبر نہیں مگر ضمنی الیکشن کے التوا کا فیصلہ سامنے آگیا،اگر بے خبر رکھنے کی پریکٹس مستحکم ہوگئی تو نہ جانے کیا کچھ ہوجائے گا،رحمان ملک کی جگہ کسی اور وزیر مشیر نے ایسی حرکت کی ہوتی تو نہ جانے کب کا وفاقی کابینہ سے فارغ ہوچکا ہوتا لیکن رحمان ملک ناگزیر ہوچکے ہیں،ساری کابینہ فارغ ہوسکتی ہے رحمان ملک مضبوط اور موثر ہی رہیں گے۔پیپلزپارٹی کو اگر ملک قیوم جیسا اٹارنی جنرل نہیں مل رہا تو کوئی ہرج نہیں وہ صدر مشرف کے گورنروں کی طرح صدر کے اٹارنی جنرل کی خدمات سے بھی فائدہ اٹھا سکتی ہے بلکہ اسے شریف الدین پیرزادہ کی خدمات بھی حاصل کرلینی چاہئیں،ان سے ججوں کی بحالی کا آسان سا نسخہ پوچھ لینے میں کیا مضائقہ ہے،
12 مئی کا دن ججوں کی بحالی کی قرارداد قومی اسمبلی میں لانے کا دن ہے حکومت کا موقف ہے کہ یہ قراردا جس روز دلائی جائے گی اسی روز منظور ہوگی اور اس کے فورا بعد ججوں کی بحالی کا ایگزیکٹو آرڈر جاری ہوجائے گا لیکن اس کے باوجود بعض لوگوں کا خیال ہے کہ 12 مئی تک قرارداد نہیں آسکتی اور کوئی نادیدہ ہاتھ معاملات کو ایک بار پھر موخر کردے گا،البتہ مسلم لیگ (ن) کے قائدین مطمئن ہیں تاہم پیلزپارٹی کے قائدین کو اس مضمن سے کچھ زیادہ دلسپی نہیں،بحال ہوجائیں تب بھی اچھا ہے اور اگر بحال نہیں ہوتے تو بھی کوئی فرق نہیں پڑتا،جسٹس (ر) فخرالدین جی ابراہیم نے کمیٹی سے یہ کہ کر استعفی دیا کہ وہ پی سی او ججوں کو برقرار رکھنے کے حق میں نہیں کاش کوئی جج صاحب سے پوچھے کہ حضور جب آپ نے کمیٹی میں شمولیت کا عندیہ دیا تھا تو کیا اس وقت معلوم نہ تھا کہ پی سی او ججوں کو برقرار رکھنے کا فیصلہ ہوچکا ہے،دبئی مذاکرات کے بعد جب نواز شریف نے واپسی پر لاہور میں قرار داد کی منظوری کے لئے نئی تاریخ کا اعلان کیا تھا تو انہوں نے واضح طورپر کہا تھا کہ نہ چاہتے ہوئے بھی انہوں نے پی سی او ججوں کو برقرار رکھنے کے سلسلے میں پیپلزپارٹی کے موقف کو تسلیم کرلیا ہے اس کے بعد اسی پریس کانفرنس میں قرارداد کا مسودہ تیار کرنے کے لئے کمیٹی کے ناموں کا اعلان کیا گیا مگر جسٹس فخرالدین ابراہیم کو دو اجلاسوں میں شرکت کے بعد سارے احوال کی خبر ہوئی حیرت ہے،یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہر کوئی تعاون کے جذبے سے سرشار ہونے کے باوجود تعاون سے گریزاں ہے۔


 

 
 
دوست کو بھیجیں

پرنٹ کریں

صفحہ اول
 
 

Click here to watch BBCONE Videos
 
Click here
 
Click here
 
Click here for BBCONE Photos
 

SuperWebz.com

 





تمام جملہ حقوق بحق بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ محفوظ ہیں

Bangash Broadcasting Company (pvt.) Ltd. of Pakistan