|
شیری رحمان کا ظہرانہ اور گیلانی کا عصرانہ
ضمیر نفیس
وزیراطلاعات ونشریات شیری رحمان کی منصوبہ بندی
خوب تھی جمعرات کی دوپہر انھوں نے راولپنڈی اسلام
آباد کے اخبارات کے ایڈیٹروں اور کالم نگاروں کو
ظہرانے
پر مدعو کیا تو سہ پہر کو وزیراعظم یوسف رضاگیلانی
سے ملاقات کا اہتمام کیا،وزیراطلاعات اور وزیراعظم
کا دونوں شہروں کے چیف ایڈیٹروں،اور کالم نگاروں
سے یہ پہلا براہ راست اور بے تکلف مکالمہ تھا،شیری
رحمان چونکہ انگریزی صحافت سے وابستہ رہی ہیں اس
لئے وزارت پر فائز ہونے کے باوجود ان کی صحافیانہ
بے تکلفی اور انداز گفتگو بدستور موجود ہے جو بلا
شبہ ان کی انفرادیت اور شناخت ہے،کھانے سے پہلے
اور کھانے کے دوران انھوں نے شریک محفل ہر فرد سے
کھل کر گفتگو کی اور کھلی بحث کی،چونکہ شرکا کی
تعداد محدود تھی اس لئے ہر موضوع پر سوال وجواب
میں سہولت رہی اور کسی کو بھی یہ شکوہ کرنے کا
موقع نہیں مل سکا کہ وہ وزیراطلاعات کی نظرالتفات
سے محروم رہا،یہ ملاقات نئے پرنسپل انفارمیشن
آفیسر غلام تصور باجوہ کے لئے بھی مفید ثابت ہوئی۔
وزیراطلاعات اور مدیروں کی یہ ملاقات اگرچہ منتخب
حکومت قائم ہونے کے بعد خاصی تاخیر سے ہوئی اس کے
باوجود میں سمجھتا ہوں اپنے اثرات کے اعتبار سے
بےحد کامیاب رہی شیری رحمان اتنی صلاحیت رکھتی ہیں
کہ وہ ملک بھر کے اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کے
ساتھ موثر رابطوں کے ذریعے حکومت اور میڈیا کے
باہمی تعلقات کو نہ صرف خوشگوار بلکہ دوستانہ بنا
سکیں اپنی صحافتی زندگی کے دوران مجھے درجن بھر
وزرا اطلاعات کے اندر کام کرنے کے انداز کو دیکھنے
کا مقع ملا ہے۔شہید ذوالفقار علی بھٹو کے
وزراطلاعات مولانا کوثر نیازی اور میاں نوازشریف
کے دور میں مشاہد حسین سید کے بعد اب وزیراعظم
گیلانی کی وزیراعلاعات شیررحمان کو بلاشبہ اس
فہرست میں اضافہ شمار کیا جاتا ہے،وزیراطلاعات کی
کارکردگی میں ذاتی صلاحیتوں کے ساتھ اس بات کا بھی
بڑا عمل دخل ہوتا ہے کہ ان کے ساتھیوں کی ٹیم کیسی
ہے شیررحمان نے بلا شبہ اپنے لئے ایک بہترین ٹیم
کا انتخاب کیا ہے ان کے آفس کے ڈائریکٹر جنرل راؤ
تخسین علی خان تجربہ کار اور صحافیوں میں مقبول
شخصیت ہیں ڈائریکٹر محمد سلیم نے بھی ملازمت کا
زیادہ عرصہ ارباب صحافت سے تعلق بنانے اور مطالعہ
میں صرف کیا ہے پی ایس او مسٹر مبشر بھی ایک فعال
شخصیت ہیں جبکہ سیکرٹری اطلاعات اکرم شہیدی کامیاب
پی آئی او اور واشنگٹن میں کامیاب پریس قونصلر کی
سند رکھتے ہیں اس بہترین ٹیم کے ساتھ شیری رحمان
کی متحرک قیادت یقینا وزیراعظم گیلانی کی حکومت کے
لئے نیک فال ہے۔
سہ پہر کو اگرچہ وزیراعظم سے ملاقات کاوقت چار بجے
بتایا گیا تاہم یہ ملاقت پانچ بجے کے لگ بھگ شروع
ہوئی چنانچہ ایڈیٹروں کو ظہرانے کے اختتام پر
تقریبا ڈیڑھ گھنٹہ فائیوسٹار ہوٹل کے ریستوران میں
گپ شپ میں صرف کرنا پڑا اگر وزیراعظم کی ملاقات
ظہرانے کے درمیان وقفہ کم ہوتا تو دو درجن کے قریب
شرکا کا وقت اس طرح ضائع نہ ہوتا۔وہی ملاقات کا
کمرہ لیکن شخصیت اور اس کے ذاتی سٹاف میں تبدیلی
سوچ رہا تھا اگر قائداعظم کے تصویر کے نیچے شہید
بے نظیر بھٹو کی تصویر آویزاں ہوتی تو وزیراعظم
یوسف رضاگیلانی پیپلزپارٹی کی حکومت کی ترجمانی
کرتے ہوئے زیادہ بھلے لگتے،وزیراعظم گیلانی کے
ملاقاتیوں نے سخت سوالات پوچھنے یاکوئی خبر اگلونے
کی بجائے ذاتی تعارف اور تعریف پر زیادہ توجہ
دی،اچھی تجاویز بھی آئیں ایک تجویز کی روشنی میں
وزیراعظم نے مری روڈ کو شہید بے نظیر بھٹو کے نام
سے منسوب کرنے کا اعلان کیا لیکن انھیں فورایہ
خیال بھی آیا کہ مری روڈ کا کچھ حصہ پنجاب حکومت
کے تحت ہے ان کا کہنا تھا کہ جتنی مری روڈ وفاقی
علاقہ سے گزرتی ہے اس کا نام فوری طورپر شہید قائد
کے نام پر رکھا جاتا ہے انھوں نے اس معاملے میں
پنجاب حکومت سے بھی رابطے کی بات کی،ان کی یہ
محتاط روی وفاقی اور صوبائی حکومت کے مستقبل کے
تعلقات کی نزاکت کو ظاہر کرتی ہے بہر حال انھوں بے
تکلفانہ بات چیت کی انھوں نے کہا کہ ان کے والد
کہا کرتے تھے کہ اگر حکومت وقت اخبار والوں کے
مشوروں پر دس فیصد بھی عمل کرے تو اسے کبھی کوئی
بحران نہیں آسکتا، وزیراعظم کو والد صاحب کی اس
نصیحت پر یقینا عمل کرنا چاہئے یوں محسوس ہوتا ہے
جیسے سردست وہ دس فیصد سے بھی کم عمل کررہے
ہیں،شیری رحمان اور ان کی ٹیم کی موجودگی میں یہ
توقع کی جاسکتی ہے کہ اخبارات اور صحافیوں کے
مشوروں پر حکومت عمل درآمد کی شرح آنے والے دنوں
میں یقینا بڑھے گی۔
|