|
بیربل ملادو اور پیازے اور ریٹائرڈ کیپٹن
ضمیر نفیس
جب
کوئی لکھاری کسی سیاسی جماعت کے ٹکٹ پر صوبائی
اسمبلی کی رکنیت حاصل کرلے تو اس کے تضادات کھل کر
سامنے آتےہیں ایک طرف اس کے پاؤں میں پارٹی ڈسپلن
کی زنجیریں
ہوتی
ہیں اور دوسری طرف وہ اپنی غیر جانبداری کا ڈھونگ
رچانے کی کوشش بھی کرتا ہے اپنی تئیں اس دانا
ودانشور کو یہ دکھ بھی ہوتا ہے کہ پارٹی اس کی
دانشوری کی کچھ زیادہ معترف نہیں اور اس کی وہ
پذیرائی نہیں جس کی اسے امید تھی کپٹن (ر) ایاز
امیر ان دنوں اسی کرب سے گزر رہے ہیں ایک موثر
انگریزی اخبار نے ان کے دانشمندانہ خیالات سے یہ
کہہ کر مزید استفادے سے انکار کر دیا ہے اکہ اب وہ
ایک پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی ہیں اور اس حیثیت
سے وہ غیر جانبدار رہے ہیں موصوف میرے پرانے محترم
ہیں مجھے انھیں مخاطب کرنے کی ضرورت اس لئے محسوس
ہوئی کہ انھوں نے اپنے کالم میں پاکستان کے عوام
کو سادہ لوح،بدھو اور نہ جانے کیا کچھ کہا ہے
انھوں نے اپنی پارٹی پر بھی تنقید کی کہ وہ سنگل
ایشو پر چلتی ہے ججوں کی ایشو پر ہی تمام وقت صرف
کرکے وہ بہتر طرز عمل کا مظاہر ہ نہیں کررہی،معزول
چیف جسٹس کو بھی سنا دیا ہے کہ وہ ذات سے بلند
ہوکر نہیں سوچتے اگر ایسا کرے تو ان کی طرف سے
تجویز پیش کی جاتی کہ وہ مشرف اور ڈوگر کے ساتھ
مستعفی ہونے کے لئے تیار نہیں، آئیں تینوں مستعفی
ہوکر اس قوم کو سکون عطا کریں۔موصوف نے زرداری پر
بھی غصہ نکالا ہے اور علامتی پیرائے میں ان پر خوب
برسے ہیں احمق اور گھاٹر تک کے الفاظ بالواسطہ
استعمال کیا ہے،پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو
بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ ان میں
سے سی باغی کے پیداہونے یا کسی معجزے کی توقع نہیں
کی جاسکتی ان میں خوشامدیوں اور درباریوں کی
پذیرائی ہوتی ہے۔
جس شخص کو سارا ماحول،سارے لوگ او سب کچھ غلط
دکھائی دے اس کی نفسیاتی کیفیت یقینا ایک سوال
ہوتی ہے،یہ شخص یاسیت کی انتہا کو پہچا ہوا ہوتا
ہے یا اپنی ذات کی رومان پسندی میں مبتلا کہ میں
اعلی ہوں،میں درست ہوں میری سمت صحیح ہے سب راستے
میری طرف آتے ہیں یا سب راستے میری طرف آنے
چاہیئں،شخصیت کی پرتوں میں تربیت اور ماحول کا بہت
اثر ہوتا ہے،ایاز امیر فوج میں کیپٹن کے عہدہ تک
جاپہنچے باہر نہ آتے تو کرنل یا بریگیڈئیر کے منصب
پر پہنچ کر ریٹائرڈ ہوچکے ہوتے اور ڈی ایچ اے میں
کئی پلاٹوں کے مالک ہوتے اور آئین او رجمہوریت کے
بلند آواز سے نعرے بلند کرتے یہ بھی ممکن ہوتا کہ
راشد قریشی کی جگہ مشرف کی ترجمانی کے فرائض
سرانجام دے رہے ہوتے،مگر فوج سے باہر آگئے اب
صورتحال یہ ہے کہ ان کے اندر فوجی ڈسپلن بھی موجود
ہے،اور ایک نقاد بھی سمٹا ہوا ہے اوپر سے پارٹی
ڈسپلن کی تلوار بھی لٹکی ہوئی ہے عوام کا خیال بھی
آتا ہے پارٹی کے اندر بھی صدیق الفاروق اور پرویز
رشید ان سے آگے ہیں چنانچہ بہت سے عوام ان کے
ڈیپریشن کو بڑھاوا دیتے ہیں اور وہ تلوار اٹھا کر
میدان میں نکل آتے ہیں اسے چاروں اور گھمانے لگتے
ہیں انھیں اس سے کوئی سروکار نہیں ہوتا کہ کس کس
کو گھاؤ لگتے ہیں وہ اس جنگ میں کسی کے نمائندے
نہیں البتہ صرف اپنے نمائندہ ہیں عوام،سیاسی
جماعتیں،صدر مشرف،اپنی جماعت،وکلا،افتخار چوہدری
اور ڈوگر سب کچھ ان کے سامنے غلط ہے،کیا کبھی ایسا
ہوتا ہے کہ سب کچھ غلط ہو یقینا کبھی بھی سب کچھ
غلط نہیں ہوتا،کچھ نہ کچھ ضرور صحیح ہوتا ہے جو
صحیح ہوتا ہے اس کا ادراک ضروٰ ہے لیکن
جھنجلاہٹ،مایوسی اور غصے میں ادراک نہیں ہوسکتا۔
ہماری خرابیوں کی جڑ یہ ہے کہ ہمارے ہاں سیاسی
جماعتوں کے اندر جمہوریت نہیں ہے
کارکنوں،عہدیداروں اور لیڈروں کی جمہوری تربیت
نہیں ہے،ان کے مزاج میں جمہوریت نہیں ہے یہ
جمہوریت انھیں کوئی فوجی جرنیل یا کالم نگار نہیں
سکھا سکتا،ایک مسلسل عمل کے ذریعے حاصل کرتے
ہیں۔جمہوری مزاج تحمل اور تدبر کو پروان چڑھاتا ہے
مذاکرات،مفاہمت اور دوسرون کے نقطہ نظر کی قبولیت
پر آمادہ کرتا ہے،ذاتی تعصبات اور ناپسندی کے قول
کو توڑنے کا باعث بنتا ہے جب سیاسی جماعتیں جمہوری
ماحول سےگزریں گی ان کے اندرہرسطح پر جمہوری ثقافت
پروان چڑھے گی تو ان کے اندر معجزے بھی طلوع ہوں
گے،خوشامدی اور درباری ماحول میں معجزے نہیں ہوتے
بیربل اور ملادو پیازے ضرور پیدا ہوتے ہیں۔
|