|
18
فروری کا منڈیت اور گیلپ سروے
ضمیر نفیس
گیلپ پاکستان کی تازہ ترین سروے رپورٹس میں بتایا
گیا ہے کہ پاکستان کے
61
فیصد عوام صدرپرویز مشرف کو آئین کی پامالی پر سزا
دینے کے حق میں ہیں
21
فیصد
انہیں معاف کرنے کے خواہاں ہیں جبکہ
18
فیصد نے اس موضوع پر کوئی بھی رائے دینے سے اجتناب
کیا،64
فیصد عوام نے ایمرجنسی کے نفذ پر ان کے خلاف
مواخذے اور انہیں ہٹانے کے حق میں رائے دی البتہ
11
فیصد ایمرجنسی کو غلط ہی نہیں سمجھتے،23
فیصد نے درمیانی رائے دی اور دو فیصد نے اس معاملے
میں کوئی رائے نہیں دی۔گیلپ نے مذکورہ سروے
15
مئی کے بعد کئے آٹھ سال قبل جب صدر پرویز مشرف
شروع میں 60
فیصد عوام ان مخالف تھے،حالیہ سروے میں نوازشریف
ملک کے مقبول ترین رہنما اور صدر پرویز مشرف سب سے
زیادہ غیر مقبول شخصیت بن چکے ہیں سروے رپورٹ کے
مطابق صدر مشرف
59
فیصدعوام کے ناپسندیدہ شخصیت ہیں
47
فیصد عوام کا خیال ہے کہ اقتدار میں رہنے کی وجہ
صرف امریکی حمایت اور پشت پناہی ہے،گیلپ سروے کے
نتائج 18
فروری کے الیکشن سے کم نہیں ہیں،گیلپ نے مذکورہ
سروے 15
مئی کے بعد کیا ہے
15
مئی کے بعد عوام صدر مشرف کے مواخذے اور انہیں سزا
دینے کی حمایت کرتے ہیں لیکن
18
فروری کو عوام نے اپنی مینڈیٹ کے ذریعے جس طرح برج
الٹائے انھیں گیلپ سروے سے ہر گز الگ نہیں کیا
جاسکتا مسلم لیگ (ق) کے نامی گرامی لوگوں کے شکست
محض اسی وجہ سے ہوئی کہ وہ صدر مشرف کے حمایت میں
پیش پیش تھے،چوہدری امیر حسین،شیخ رشید
احمد،چوہدری شجاعت،غلام سرورخان،چوہدری پرویزالہی
سمیت درجنوں نمایاں لوگوں کو عوام نے صدر مشرف کا
پرتو سمجھ کر مسترد کیا پاکستان کے عوام آئین اور
جمہوریت کے معاملے میں زبردست شغور رکھتے ہیں،جو
لیڈر یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں تعلیم کی کمی
ہے،زیادہ لوگ ناخواندہ ہیں انہیں حکومتی امور سے
کوئی سروکار نہیں آئین سے کوئی واسطہ نہیں وہ محض
روٹی روزی اور اپنے معاشی مفادات سے تعلق رکھتے
ہیں سراسر غلط سوچھتے ہیں صدر مشرف نے
3
نومبر 2007
کو جو اقدامات کئے ان کے بعد وہ آسمان سے زمین
آگرے اور اس کے بعد مسلسل ان کی مقبولیت کا گراف
گرتا چلا گیا آصف علی زرداری بھی صدر کے ان اثرات
کی لپیٹ میں آئے ہیں شروع میں چند ہفتے انہوں نے
جس قسم کا مول رویہ اختیار کیا عوام نے واضح طورپر
اسے صدر مشرف کی حمایت سمجھا چنانچہ ان کی مقبولیت
18
فروری کے بعد کم ہوئی ہے۔وگرنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ
جو پارٹی 18
فروری کو قومی اسمبلی کے ایوان میں اکثریتی جماعت
کی حیثیہت سے ابھرے
15
مئی کے بعد اس کے لیڈر کی مقبولیت میں کمی واقع
ہوجائے مذکورہ سروے رپورٹ کا یہ پہلو دلچسپی سے
خالی نہیں کہ عوامی ناپسندیدگی کے معاملے میں
مولانا فضل الرحمن اور اطاف حسین صدر مشرف کے قریب
قریب ہیں اگر 59
فیصد عوام صدرمشرف کے قریب قریب ہیں اگر
59
فیصد عوام صدرمشرف کو ناپسند کرتے ہیں تو مولانا
فضل الرحمان اور الطاف حسین کو ناسپند کرنے والوں
کی شرح 53
فیصد ہے مولانا فضل الرحمان اور الطاف حسین دونوں
چونکہ ماضی میں صدر مشرف کے اقتدار کو مستحکم کرنے
والوں میں شامل رہے ہیں اس لئے صدرمشرف اور ان کی
ناپسندیدگی کے گراف میں معمولی سافرق ہے یہ سب کچھ
عوام کے شعور کا منہ بولتا ثبوت ہے،پاکستان کے
عوام کا حافظہ بھی درست ہے اور وہ آمریت اور اس کے
حواریوں کے معاملے میں بہاکانہ رائے بھی رکھتے ہیں
جب بھی انہیں آزادی سے اپنی رائے کے اظہار کا موقع
ملتا ہے وہ درست فیصلہ کرتے ہیں۔
|