|
گیلانی کی حکومت مشرف پالیسیوں سے نکل رہی ہے
ضمیر نفیس
حالات وواقعات بسا اوقات شخصیات اور حکومتوں کو اس
سمت لے جاتے ہیں کہ ان کے لئے عوام کے جذبات
واحساسات پر مشتمل فیصلے ناگزیر ہوجاتے ہیں جب فرد
واحد یعنی صدر
جنرل
پرویزمشرف کلی اقتدار کے مالک تھے انہوں نے نائن
الیون کے بعد دہشتگردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کے
سب سے بڑے حلیف اور اتحادی کی حیثیت سے اپنے کردار
کا آغاز کیا تھا اس پالیسی کے نتیجے میں پاکستان
کے اندر دور تک دہشت گردی پھیل گئی مگر صدر مشرف
کو اس سے کوئی فرق نہ پڑا وہ امریکہ کی آنکھوں کا
تارہ بن گئے اور ان کے اقتدار کی مدت بڑھتے چلی
گئی پاکستان نے قبائلی علاقوں میں جو فوجی
کاروائیاں کیں ان کے ردعمل کے طورپر پاکستان میں
تخریب کاری،دہشت گردی اور خودکش حملوں کی وارداتیں
بڑھ گئیں مگر آمریت کے کانوں پر جوں تک نہ
رینگی،آمر چونکہ عوام کے سامنے جوابدہ نہیں ہوتا
اس لئے انہیں عوام کے احساسات سے کوئی سروکار نہ
رکھا لیکن عوام کے ووٹوں سے منتخب گیلانی حکومت کے
لئے آمرانہ دور کی اس پالیسی کو جاری رکھنا مشکل
ہوگیا،چناچہ اس نے امن معاہدوں کی جانب پیش رفت کی
حزب اختلاف کے جو عناصر حکومت سے ایک دم دہشت گردی
کے خاف امریکی جنگ سے علیحدگی اختیار کرنے کے
مطالبے کرتے ہیں انہیں آمر کی داد دینی چاہئے کہ
موجودہ حکومت پہلے سے ہی بتدریج اس پالیسی سے
انحراف کے راستے پر گامزن ہے کسی بھی حکومت کے لئے
ایک دم طبل جنگ بجا دینا یا یہ اعلان کرنا کہ ہم
فلاں معاملے میں فلاں ملک کے ساتھ نہیں ہوں گے
آسان نہیں ہوتا،بہترین راستہ بتدریج اور محسوس یا
غیر محسوس انداز میں تبدیلی کا ہوتا ہے جہاں دلائل
واستدلال سے اتحادی کو قائل بھی کیا جاسکتا ہے اور
اپنے ملک اور عوام کے مفادات کے تقاضوں اور عوام
کے ردعمل کا حوالہ بھی دیا جاتا ہے موجودہ حکومت
نے یہی راستہ اختیار کیا ہے سوات اور مالاکنڈ امن
معاہدے ہوں یا قبائلی علاقوں میں طالبان سے
مذاکرات،پاکستان نے کسی نہ کسی حد تک امریکہ اور
افغان حکومت کو قائل کیا ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ
صرف طاقت کی پالیسی کو جاری رکھنا کافی نہیں اگر
اس کے ذریعے مطلوبہ مقاصد حاصل ہونے ہوتے تو اب تک
ہوچکے ہوتے مگر امریکہ اور اس کے اتحادی بھرپور
طاقت استعمال کرنے کے باوجود افغانستان میں امن
قائم نہیں کرسکے اس لئے اس پالیسی میں ردوبدل کیا
جانا چاہئے پاکستان کا استدلال ہے کہ اس کی پالیسی
سہ جہتی ہے جس میں ہتھیار پھینکنے والوں سے
مذاکرات اور امن کے علاوہ علاقے میں تعمیر وترقی
اور معاشی بہتری کے اقدامات بھی شامل ہیں اب طاقت
کا استعمال آخری حربے کے طور ہوگا۔پاکستان کی سہ
جہتی حکمت عملی کے مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں اور
نہ صرف خودکش حملوں کے واقعات میں کمی آئی ہے بلکہ
سوات ار مالاکنڈ میں بھی حالات تیزی سے بہتر ہوئے
ہیں،بش انتظامیہ کو اس امر کا سنجیدگی سے ادراک
کرنا چاہئے کہ اب پاکستان کی موجودہ حکومت پہلے کی
طرح اس کی اتحادی نہیں رہ سکتی،منتخب حکومت کے
اپنے تقاضے اور اس کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں،اگر
امریکہ نے صورتحال کا صحیح ادراک نہ کیا تو حالات
اس رخ پر پر بھی جاسکتے ہیں کہ طالبان امریکہ کے
خلاف ہر اول دستہ ہوں اور پاکستان کے پیچھے،
مہمندایجنسی میں افغان فورسزز اور نیٹو فورسزز نے
جو زمینی کاروائی کی اس کا طالبان کی طرف سے بھر
پور جواب دیا گیا آئندہ بھی طالبان جوابی کاروائی
کریں گے یہ طالبان کہیں باہر سے نہیں آئے قبائلی
علاقوں کے مقامی باشندے ہیں اپنے علاقوں پر کسی
بھی غیر ملکی کاروائی کے صورت میں جوابی کاروائی
ان کی قبائلی روایات کا حصہ ہے امریکہ یا افغان
فورسزز کی طرف سے اگر قبائلی علاقوں میں آئندہ
کاروائی ہوئی تو پاکستان سے پہلے طالبان اس کا
جواب دیں گے ماضی میں طالبان نے سوویت فوجوں کے
خلاف مزاحمت میں تاریخی کردار ادا کیا ہے امریکہ
سے زیادہ ان کی مزاحمت سے کوئی بھی آگاہ نہیں
ہوسکتا،اس وقت طالبان سمیت افغان عوام نے امریکی
اسلحہ اور مالی معاونت کےس اتھ روسیوں کو
افغانستان سے بھگانے میں اہم کردار ادا کیا تھااب
صورتحال الٹ ہو سکتی ہے آثار یہی ہیں کہ مزاحمتی
عناصر وہی ہوں گے سپانسر بدل جائیں گے اور روسیوں
کی طرح امریکیوں کو بھی افغانستان سے واپس جانا
پڑے گا۔
|