|
یہ پیپلزپارٹی کا نہیں بیوروکریسی کا بجٹ ہے
ضمیر نفیس
قومی اسمبلی اور سینٹ کے متعدد ارکان نے بجٹ پربحث
کے دوران اسے بیوروکریسی کا بجٹ قرار دیا ہے اگر
اس بجٹ کے خدوخال اور جس انداز میں اسے تیار کیا
گیا ہے اس کا جائزہ
لیا جائے تو یہ بات سو فیصد درست معلوم ہوتی ہے،یہ
عجیب سی بات ہے کہ بیوروکریسی کے بنائے ہوئے بجٹ
پر منتخب ایوان بحث کریں اسے بہتر بنانے کے لئے
سفارشات مرتب کریں اس کے بعد اس بجٹ کی منظوری دیں
موجودہ حکومت تواتر کے ساتھ ساتھ پارلیمنٹ کی
بالادستی کی بات کرتی رہی ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ
ابھی تک اس نے پارلیمنٹ کی مشاورت سے کوئی بھی اہم
فیصلہ نہیں کیا،قبائلی علاقوں میں مذاکرات سے لے
کر وفاقی بجٹ کی تیاری اور وزیراعظم کے سعودی عرب
کے دورے کے مقاصد میں حاصل ہونے والی کامیابیوں تک
کسی بھی معاملے میں پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں
لیا گیا۔
وزیراعظم نے حکومت سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے
سعودی عرب کا دورہ کیا اس دوران انہوں نے شاہ
عبداللہ سے مذاکرات کئے وہ اپنے ہمراہ
80
رکنی اہم وفد لے کر گئے تھے پارٹی کے شریک چیئرمین
آصف علی زرداری اس دورے میں شرکت کے لئے دبئی سے
براہ راست جدہ پہنچے تھے اس دورے اور مذاکرات کے
حوالے سے جو کچھ اخبارات میں شائع ہوا ارکان
پارلیمنٹ کی معلومات بھی اتنی ہی ہیں جو انہیں
اخبارات سے حاصل ہوئیں وزیراعظم نے دورے سے واپسی
پر قومی اسمبلی اور سینٹ کے اجلاسوں کے اس حوالے
سے خطاب نہیں کیا یہ درست ہے کہ دونوں ایوانوں میں
بجٹ پر بحث ہورہی ہے تاہم وزیراعظم کے لئے خطاب
کوئی مسئلہ نہیں تھا لیکن انہوں نے ارکان اسمبلی
کو اعتماد میں نہیں لیا،یہاں اس امر کا ذکر بھی
ضروری ہے کہ اگرچہ وزعراعظم قومی اسمبلی کے
اجلاسوں میں باقاعدگی سے شرکت کررہے ہیں لیکن ابھی
تک انہوں نے ایوان بالا میں خطاب کیا نہ اس کے کسی
اجلاس میں شرکت کی،کیا س طرز عمل کو پارلیمنٹ کی
بالادستی تسلیم کرنے کے مطابق قرار دیا جاسکتا
ہے؟بیورکریسی کے تیار کئے ہوئے بحث کی روایت اب
ختم ہونی چاہئے مناسب یہ ہے کہ قومی اسمبلی اور
سینٹ کے اجلاسوں میں جنوری سے ہی ارکان اپنی
تجاویز پیش کرنا شروع کردیں اور پھر ان تجاویز کی
روشنی میں دونوں ایوانوں کی فنانس کمیٹیاں مل کر
بحث دستاویز تیار کریں ایسے بجٹ کو ہی عوامی
نمائندوں کا تیار کیا ہوا بجٹ قرار دیا جاسکتا
ہے،اور قومی امنگوں کی عکاسی کرسکتا ہے۔
بارہ سال کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت نے
پہلا بجٹ پیش کیا ہے مگر یہ بجٹ پیپلزپارٹی کے
مزاج اور اس کے منشور کی ترجمانی نہیں کرتا،18
فروری کے انتخاب کے بعد یہ واضح ہوگیا تھا کہ مرکز
میں پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت قائم ہورہی ہے
اور پھر 31
مارچ کو یہ حکومت بن بھی گئی اس کے بعد اس کے پاس
بجٹ بنانے کے لئے تین ماہ کا عرصہ تھا پارٹی کے
پاس اقتصادی ماہرین کی کمی نہیں مگر اسحاق ڈار کے
استعفی کے بعد بیوروکریسی کی معاونت سے بمشکل بجٹ
تیار کیا گیا۔بےنظیر سپورٹ کارڈ سکیم شامل کرنے سے
بجٹ کو عوامی یا پیپلزپارٹی کا بجٹ نہیں کہا
جاسکتا،اس بجٹ نے پیپلزپارٹی کی سیاسی اور عوامی
ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے،اب بھی وقت ہے کہ
قومی اسمبلی سے اسکی منظوری سے پہلے اس میں عوامی
امنگوں کے مطابق تبدیلیاں کی جائیں،مہنگائی سے
زیادہ متاثر عوام ہوئے ہیں،خواص نہیں اس لئے یہ
ضروری تھا کہ گریڈ سترہ تک کے ملازمین کی تنخواہوں
میں زیادہ اضافہ کیا جاتا اور اس سے اوپر اضافے کی
شرح قدرے کم رکھی جاتی مگر چونکہ بیوروکریسی نے
بجٹ بنایا اس لئے گریڈ ایک سے بائیس تک سب کی
تنخواہوں میں بیس فیصد اضافے کا فیصلہ کیا گیا
یعنی سترہ گریڈ سے اوپر کے ملازمین کو ہزاروں میں
اضافہ ملے گا اور اس سے نیچے سینکڑوں میں بمشکل
تین چار سوروپے ماہانہ جبکہ گریڈ سترہ سے اوپر
افسروں کودیگر بہت سی مراعات بھی حاصل ہوتی ہیں،اس
تناظر میں بیس فیصد اضافے کو ہر گز عوامی مفاد کا
فیصلہ نہیں قرار دیا جاسکتا،مناسب ہے کہ گریڈ سترہ
تک 30
فیصد اضافہ دیا جائے اور اس سے اوپر بیس فیصد لاگو
کیا جائے اسی طرح کے اور بہت سے اقدامات کرکے اس
بجٹ کو پیپلزپارٹی کا بحث بنایا جاسکتا ہے۔
|