BBCONE.NET
ہم سےرابطہ کیجۓ اشتہارات ہماری پالیسی ہمارےبارےمیں

صفحہ اول    پاکستان    عالمی دنیا    ارد گرد    رو برو    کھیل    کالم و مضامین    شوبز    عالم اسلام    کامرس    مقامی خبریں

Click here to download urdu font

Click here to download urdu font

 

وقت اشاعت :Friday,11 July 2008, 09:31 GMT 15:31 PST

 
مادر ملت کی برسی اور مفلسی!     
  
 


ضمیر نفیس

مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی 41 ویں برسی خاموشی سے گزر گئی،مسلم لیگ کے نام سے قائم جماعتوں سمیت حکومت نے اس موقع پر کسی پروگرام اور تقریب کی زحمت نہیں کی موجودہ حکومت جو خواتین کے زیادہ حقوق کے سلسلہ میں پرجوش ہونے کی دعویدار ہے اس نے اس زاویے سے بھی اس دن کو اہمیت نہ دی کہ محترمہ فاطمہ جناح نے اس دور میں خواتین کو منظم کیا جب ان کا گھروں سے نکلنا ایک مشکل مرحلہ تھا مگر انہوں نے اس مشکل مرحلے کو اپنی جدو جہد اور قیادت سے آسان بنایا۔
میں نے تمام اخبارات چھان مارے صرف یہ اطلاع ملی کہ انجمن تاریخ وآثار شناسی نے ایک چھوٹی سی تقریب منعقد کی جس میں ڈاکٹر غضنفر مہدی اور ڈاکٹر ریاض سمیت بعض شخصیات نے خطاب کیا،ڈاکٹر غضنفر مہدی کی یہ خوبی ہے کہ وہ اکابرین ملت کے دنوں اور ان کے کارناموں کو یاد رکھتے ہیں اور ان کا یہ جذبہ کسی صلے کی تمنا کے بغیر ہے مگر پیرپگاڑا کی مسلم لیگ سے لے کر چوہدری شجاعت اور میاں نوازشریف کی مسلم لیگ تک کسی نے محترمہ فاطمہ جناح کے تذکرے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔محترمہ فاطمہ جناح نے قائداعظم کے ساتھ تحریک پاکستان میں جو کردار ادا کیا کو ایک لحظہ کے لئے ایک طرف رکھ دیا جائے تو بھی تاریخ ان کے اس کردار کو فراموش نہیں کرسکتی،جو انہوں نے ایوب آمریت کے خلاف سرانجام دیا تھا،ایوب خان نے جس طرح مفادات کی سیاست کو فروغ دے کر اپنے حواریوں کا ایک مضبوط گروہ کھڑا کر لیا تھا اسے کوئی بھی چیلنج کرنے کا یارا نہیں رکھتا تھا۔مگر صدارتی الیکشن میں محترمہ فاطمہ جناح نے ایوب خان کو للکارا اور ان کا مقابلہ کیا اس وقت صدارتی الیکشن کے ووٹر بی ڈی ممبر تھے جس طرح آج کل کونسلر کی حیثیت ہے مگر یہ بی ڈی ممبران کونسلروں سے زیادہ با اختیار تھے مشرقی اور مغربی پاکستان کے کل 80 ہزار کے لگ بھگ بی ڈی ممبران صدارتی الیکشن کے لئے انتخابی کالج تھے،دانشور اور کالم نگار نثار احمد نثار ان دنوں مسلم لیگ کی سیاست میں فعال کردار ادا کررہے تھے اور راولپنڈی میونسپل کمیٹی میں بی ڈی ممبر بھی تھے انہیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ محترمہ فاطمہ جناح کے کاغذات نامزدگی کے تجویز کنندگان میں شامل تھے اور انہوں نے صدارتی الیکشن میں محترمہ کی کامیابی کے لئے بھر پور جدوجہد کی،تاریخ اور سیاست میں دلچسپی رکھنے والوں کے لئے یہ بتلانا ضروری ہے کہ مادرملت کا انتخابی نشان لالٹین اور صدر ایوب خان کا انتخابی نشان گلاب کا پھول تھا،ایک طرف طاقت،اختیارات اور ترغیبات دوسری طرف قائداعظم کے اصولوں سے مزین ان کی ہمشیرہ،اختیارات،طاقت اور ترغیبات کو کامیابی اور اصولوں کو شکست ہوئی ایوب خان نے جس انداز سے یہ کامیابی حاصل کی اس سے ہی ان کی اقتدار سے رخصتی کا سفر شروع ہوا اختیارات،طاقت اور ترغیبات پر یقین رکھنے والوں سے یہ کیسے توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ محترمہ فاطمہ جناح کی برسی کے موقع پر کسی تقریب کا اہتمام کریں گے،قائداعظم کے ساتھ اس قوم کے سیاسی لیڈروں نے جو سلوک کیا ان کی ہمشیرہ کے ساتھ بھی ویسا ہی برتاؤ کیا،چڑھتے سورج کی پوجا کرنے والوں کا ڈھلتے سورج سے کیا کام ہماری ابتری اور ناکامیوں کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے ہمیشہ ایڈہاک ازم اور بے اصولی کو اپنا اصول قرار دیا ہے،لیاقت علی خان کی شہادت،قائداعظم کے ساتھ اس دور کا حسن سلوک اور محترمہ فاطمہ جناح کے مقابلے میں مفاد پرست ٹولے کی طرف سے ایوب خان کی حمایت،سازشوں کا سلسلہ تو نام نہاد آزادی کے بعد سے ہی شروع ہوگیاتھا،آزادی سے پہلے ہندوؤں کی سازشیں اور آزادی کے بعد اپنوں کی سازشیں،کبھی کبھی تو یوں لگتا ہے ہم آزادی کے قابل ہی نہ تھے اس لئے کہ آزادی جس ذمے داری کا تقاضا کرتی ہے ہم نے اس ذمہ داری کا ایک روز بھی مظاہرہ نہ کیا،دوسری طرف سرحد پار ہم سے ایک روز بعد آزاد ہونے والے ہم سے آگے نکل گئے ان کی غلامی کی مدت ہم سے ایک روز زیادہ ہے مگر آج کیا کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ ہم ایک آزاد قوم ہیں،پہلے برطانیہ کے غلام تھے آج امریکہ کے غلام ہیں پہلے پونڈ کے غلام تھے اب ڈالر کے غلام ہیں قصور قوم کا نہیں بلکہ لیڈروں کا ہے قوم تو بے چاری ہے مادر ملت کی طرح۔



 


 

 
 
 
دوست کو بھیجیں

پرنٹ کریں

صفحہ اول
 
 

Click here to watch BBCONE Videos
 
Click here
 
Click here
 
Click here for BBCONE Photos
 

 

 

تمام جملہ حقوق بحق بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ محفوظ ہیں

Bangash Broadcasting Company (pvt.) Ltd. of Pakistan