|
عراق ميں بار بار تعينات کئے جانے والے امريکي
فوجي ڈيپريشن کا شکار ہو گئے
رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ نيويارک
عراق ميں امريکي فوجيوں کي باربار تعيناتي سے ان
کي صحت کو خطرہ لا حق ہوگيا ۔ اطلاعات کے مطابق
امريکي فوجي حکام کے حوالے سے جاري کر دہ رپورٹ
ميں کہا گيا ہے کہ عراق ميں امريکي
فوجيوں کي کمي کا منصوبہ پورا نہ ہونے اور بغداد
ميں موجود فوجيوں کو بار بار ذمہ دارياں سنبھالنے
کے احکام جاري کر نے سے جوانوں کي صحت کا مسئلہ
درپيش ہے ۔ نيويارک ٹائمز کے مطابق عراق ميں تيسري
اور چوتھي مرتبہ تعينات کئے جانے والے فوجيوں ميں
ذہني تناؤ ميں اضافہ ہورہا ہے اور وہ ڈپريشن جيسي
بيماري کا شکار ہورہے ہيں فوج کے سينئر اہلکار کي
جانب سے پيش کئے گئے اعدادو شمار کے مطابق
2003
ميںعراق پر حملے کے بعد سے پانچ لاکھ
13ہزارامريکي
فوجيوں کو تعينات کيا جا چکا ہے ان ميں سے ايک
لاکھ 97ہزار
فوجي ايسے ہيں جنہيںعراق ميں ايک سے زائد مرتبہ
تعينات کيا گيا ہے اور
53ہزار
فوجي تين سے چار مرتبہ عراق ميں اپني خدمات سر
انجام دے چکے ہيں ۔جنگي تجزيہ کاروں کا کہنا ہے کہ
عراق ميں تين سے چار مرتبہ ڈيوٹي کر نے والے
فوجيوں کي دماغي صحت انتہائي خراب ہے ان ميں
اخلاقيات کم ذہني تناؤ زيادہ ہے جس کي وجہ سے
متعدد بيماريوں ميں مبتلا ہيں عراق ميں تين سے چار
دفعہ تعينات رہنے والے فوجيوں ميں نيد کي کمي کي
بھي شکايت پائي گئي ہے جبکہ عراق ميں اتحاد ي فوج
کے سربراہ جنرل پيٹريس فوجيوں ميں ذہني تناؤ کي
اطلاع کو نظر انداز کر نے کي کوشش کررہے ہيں۔واضح
رہے کہ عراق جنگ ميں
2003سے
اب تک 4ہزار
امريکي فوجي مختلف وجوہات کے باعث موت کا شکار ہو
چکے ہيں۔
|