|
وطن واپس آنے والے عراقي مہاجرين عدم تحفظ کا شکار
ہيں، اقوام متحدہ
رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ بغداد
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرين کے مطابق وطن
واپس آنے والے عراقيوں کي تعداد مسلسل کم ہو رہي
ہے۔ عراق ميں امريکي فوج کب تک موجود رہے گي۔ اس
پر امريکہ ميں بر سر اقتدار آنے
والي دونوں ممکنہ جماعتيں مسلسل غور کر رہي ہيں
مگرمبصرين کے مطابق عراق ميں سيکيورٹي کي صورتحال
ميں بہتري نظر نہيں آتي۔ منگل کے روزبغداد کے
شمالي شہر بعقوبہ ميں دو بم دھماکوں ميں کم از کم94
افراد ہلاک اور کئي زخمي ہو گئے۔ادھر عراق سے نقل
مکاني کرنے والے مہاجرين کي وطن واپسي کا سلسلہ بے
حد سست روي سے آگے بڑھ رہا ہے۔ وطن واپس آنے والے
70
في صد عراقي مہاجرين کے پاس سر چھپانے کے لئے مکان
نہيں ہيں۔ اقوام متحدہ کي جانب سے کرائے جانے والے
جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ وطن واپس آنے والے زيادہ
تر عراقي عارضي پناہ گاہوں يا رشتہ داروں کے پاس
پناہ لينے پر مجبور ہوتے ہيں ليکن زيادہ تر بے روز
گار ہيں اور انہيں اضافي مدد کي ضرورت ہے۔
مائيگريشن پاليسي انسٹي ٹيوٹ کے ایک اہلکار نے کہا
ہے کہ وطن واپس آنے والے عراقيوں کي تعليم اور صحت
کي سہولتوں کے حوالے سے بہت زيادہ توقعات ہيں۔ وہ
صرف وبائي امراض پر قابو پانا ہي نہيں زيابيطس،
ہائي بلڈ پريشر اور دل کے امراض کے حوالے سے بھي
طبي سہولتوں کا مطالبہ کرتے ہيں۔ عراق ميں
ايجووکيشن فار پيس نامي ادارے کے ايگزيکٹو
ڈائريکٹر ايرک کا کہنا ہے کہ عراق ميں بنيادي
انفرا سٹرکچر کي تعمير نو اب بھي ايک بڑا مسئلہ ہے۔
وہ کہتے ہيں کہ اتني بڑي تعداد ميں مہاجرين يا بے
گھر افراد کي آبادکاري کے لئے مناسب سہولتيں موجود
نہيں ہيں۔ جائيدا د کے تنازعوں کو حل کرنے کے لئے
کسي باقاعدہ نظام کي عدم موجودگي بھي ايک مسئلہ ہے
مثلا اگر آپ اپنے گھر واپس آئيں اور وہاں کوئي
اورقابض ہو توآپ کيا کريں گے۔ مبصرين کا کہنا ہے
کہ عراقي حکومت کتني بھي کوشش کرے۔ آنے والے کئي
سالوں تک بے گھر عراقيوں کي دوبارہ آبادکاري کا
مسئلہ اپني جگہ پر موجود رہے گا۔
|