|
اسامہ بن لادن کے بارے ميں نئي کتاب منظر عام پرآ
گئي
رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ لندن
القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے بارے ميں ايک
نئي کتاب منظر عام پر آ گئي ہے يہ کتاب پولتز
رپرائز جيتنے والے منصف اسٹيوکول نے لکھي ہے اور
اس کا عنوان ’’دي بن لاڈنز‘‘ ہے ۔کتاب ميں لکھا
گيا
ہے
کہ يہ خاندان 20صدي
ميں سعودي فيملي ميں بہت مشہور ہوا کرتا تھا خاص
طورپر اسامہ بن لادن کو خصوصي شہرت حاصل تھي ۔
سعودي خاندان سے بن لادن خاندان کے خصوصي تعلقات
تھے اسامہ کے 53بھائي
بہن تھے جو دنيا بھر کے چکر لگاتے رہتے تھے ۔منصف
نے اسامہ کے بارے ميں بہت سي افواہوں اور افسانوں
کي نفي کي ہے جن کے ذريعے اسامہ بن دلان کو مغربي
ملکوں نے غلط رنگ ميں پيش کيا اسامہ جب
9سال
کا تھا تو اس کا باپ
1927ميں
ايک ہوائي حادثہ ميں ہلاک ہوگيا تھا اس کا بڑا
سوتيلا بھائي سليم بالکل مختلف کر دار کا شخص تھا
وہ آزاد خيال اور تفريح پسند تھا والدکي وفات کے
بعد سليم بن لادن خاندان کا سربراہ بن گيا اور
تمام بزنس سنبھال ليا سليم ايک پرکشش جوان تھا اور
اس نے شاہي خاندان کے افراد کو کافي متاثر کيا تھا
جس کے نتيجے ميں اس کو تعميراتي ٹھيکے ملنے لگے ان
سے يہ خاندان مالا مال ہوگيا اسامہ اپنے بھائي
سليم سے بہت متاثر تھا ليکن جب
1988ميں
اپنا طيارہ خود چلاتے ہوئے سليم حادثہ کا شکار ہو
کر ہلاک ہوگيا تو اس کے بعدبن لادن خاندان ميں
جھگڑے پيدا ہو گئے ۔کتاب ميں لکھا گيا ہے کہ اسامہ
کے نہ صرف اپنے خاندان والوں سے بلکہ شاہي خاندان
والوں سے بھي اختلاف ہو گئے تھے غير ملکي خبر رساں
ادارے کو انٹرويو ديتے ہوئے مصنف کول نے کہاکہ اگر
سليم موت کا شکار نہ ہوتا پھر گيارہ ستمبر کو
امريکہ پر حملہ نہ ہوتا مصنف نے کہاکہ سعودي حکام
کے ساتھ اسامہ کے خلاف کے بعد يمن ميں اسلام
پسندوں کي حمايت اور پھر کويت پر صدام حسين کے
حملہ کے بعد امريکہ نے سعودي عرب ميں اپني فوجيں
تعينات کي تھيں اس کي مخالف اسامہ نے کي تھي اور
اس طرح سعودي حکومت سے اس کے اختلاف ميں مزيد
اضافہ ہوگيا ۔
|