|
اصل
ہدف عراق نہیں پاک افغان قبائلی علاقے ہیں، امریکی
صدارتی امیدوار بارک اوباما
رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ واشنگٹن
امریکاکے صدارتی امیدواربارک اوبامانے کہاہے کہ
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اصل چیلنج عراق نہیں
پاکستان اور افغانستان کے قبائلی علاقے ہیں ۔جنگ
میڈیا گروپ کے
مطابق
ان کا کہنا ہے کہ وہ اقتدار میں آکر دو بریگیڈ فوج
افغانستان بھیجیں گے ۔ بارک اوباما نے یہ بات
واشنگٹن میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران کہی ہے ۔
تقریرمیں بارک اوباما نے دہشت گردی کے خلاف جنگ
میں عراق کو مرکزی محاذ قرار دینے پر صدر جارج بش
اور حریف ری پبلکن صدارتی امیدوار جان مک کین پر
کڑی تنقید کی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ عراق اصل محاذ
نہ کبھی تھا اور نہ ہے ۔ القاعدہ نے اپنے ٹھکانوں
کو پاکستان تک وسعت دے دی ہے ۔ امریکی سرزمین پر
نیا حملہ اسی خطے سے ہونے کا امکان ہے جہاں گیارہ
ستمبر کے حملوں کی منصوبہ بندی کی گئی تھی ۔لیکن
اس کے باوجودآج بھی عراق میں افغانستان سے پانچ
گنا زیادہ فوج موجود ہے ۔ اوباما نے کہا کہ وہ صدر
منتخب ہونے کے بعد قومی سلامتی کی انتہائی سخت
پالیسی پر عمل کریں گے جس کے تحت صرف بغداد پر
نہیں بلکہ قندھار ، کراچی ، ٹوکیو ، لندن ، بیجنگ
اور برلن پر بھی توجہ دی جائے گی ۔ بارک اوباما کا
کہنا ہے کہ وہ صدر منتخب ہونے کے بعد سولا ماہ میں
عراق سے زیادہ تر فوج واپس بلالیں گے اور اس میں
سے دو بریگیڈ فوج افغانستان بھیجیں گے۔
|