|
پوري دنيا ميں کم از کم
25
لاکھ افراد کو اسمگل کر کے جبري مشقت کا نشانہ
بنايا جا رہا ہے ،اقوامِ متحدہ ۔
رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ نيويارک
جنرل اسمبلي ميں انسانوں کي سمگلنگ کے معاملے پر
بحث کي گئي جس ميں بتايا گيا کہ دنيا کے
161
ممالک، انسانوں کي سمگلنگ ميں ملوث ہيں۔عالمي
تنظيم کے جاري کردہ اعداد و
شمار
کے مطابق جن افراد سے جبري مشقت لي جاتي ہے ان ميں
نصف سے زيادہ ايشيا ميں آباد ہيں۔ ہر سال بارہ
لاکھ بچوں کو ايک جگہ سے دوسري جگہ سمگل کيا جاتا
ہے۔ اور سمگلنگ کے دوران پچانوے فيصد افراد کو کسي
نہ کسي قسم کے تشدد کا نشانہ بنايا جاتا ہے، جس
ميں جنسي تشدد بھي شامل ہے۔ پريس کانفرنس ميں جنرل
اسمبلي کے موجودہ صدر سرجن کريم نے کہا کہ اگر آج
کي دنيا ميں ملکوں اور انسانيت کو کسي برائي کا
سامنا ہے تو وہ منشيات اور انسانوں کي سمگلنگ ہے۔
انسانوں کي تجارت اور ان سے جبري مشقت کے بدلے ہر
سال ساڑھے31
ارب امريکي ڈالر کي ناجائز کمائي ہوتي ہے۔ اس
سلسلے ميں ان بچوں کا بھي ذکر ہوا جو افغانستان سے
غير قانوني طور پر پاکستان يا ايران بھجوائے جاتے
ہيں، يا جو پاکستان سے مشرق وسطٰي کے ملکوں کو
بھجوائے جاتے ہيں۔ متحدہ عرب امارات کے وزير خارجہ
انور گارگاش نے کہا کہ ان کے ملک ميں انسانوں کي
غير قانوني ترسيل کي طرف لوگوں کي توجہ تب مبذول
ہوئي جب چھوٹے چھوٹے بچوں کو اونٹوں کي دوڑ ميں
اونٹوں پر باندھنے کے واقعات سامنے آئے۔ جس کے بعد
انہوں نے دوسري قسم کي انساني سمگلنگ کي طرف بھي
توجہ دي۔ سٹر گارگاش کے مطابق ان معاملات سے صرف
بين الاقوامي تعاون کے ذريعے ہي نمٹا جا سکتا ہے۔
اور اسي ليے ہم نے يونيسف سے پارٹنرشپ کي۔
|