|
امريکہ پاک افغان سرحد کي صورتحال کوپرامن بنانے
کیلئے مدد دے سکتاہے ،صدربش .
لندن میں صدر بش کے خلاف مظاھرہ،اسامہ بن لادن کو
زندہ يا مردہ ہر صورت انصاف کے کٹہرے ميں لائيں گے،
صدر بش
رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ نيروبي
امريکي صدر جارج ڈبليو بش نے کہاہے کہ امريکہ پاک
افغان سرحد کي صورتحال کوپرامن بنانے کیلئے مدد دے
سکتا ہے ،تاہم انہوں نے پاکستان کے حوالے سے افغان
صدر حامد کرزئي کے بيان پر تبصر کرنے سے گريز
کيا۔لندن ميں برطانوي وزيراعظم گورڈن براون کے
ساتھ مشترکہ پريس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں
نے کہاکہ پاکستان اور افغانستان کے رہنماوں کو
چاہيے کہ باہمي بات چيت کے عمل کوآگے بڑھائيں اور
طالبان کے خلاف انٹيلي جنس معلومات کاتبادلہ کريں
۔انہوں نے کہاکہ دونوں ممالک کو ايک جيسي زميني
صورتحال کاسامنا ہے اور انتہائ پسندي اور دہشت
گردي سے نمٹنا دونوں ممالک کے مفاد ميں ہے ۔صدر
حامد کرزئي کے پاکستاني علاقوں ميں فوجيں بھيجنے
سے متعلق بيان پر امريکي صدر نے براہ راست تبصرہ
نہيں کياتاہم انہوں نے کہاکہ امريکہ افغان صدر کي
تشويش سے آگاہ ہے اور ہم پاک افغان سرحدکو پرامن
بنانے کیلئے مدددے سکتے ہيں ۔انہوں نے عراق جنگ
کادفاع کرتے ہوئے کہاکہ سابق عراقي صدرصدام حسين
کے خلاف کارروائي ضروري تھي ۔اس موقع پر دونوں
رہنماوں نے دہشت گردي کے خلاف جنگ ميں ايک دوسرے
کے کردارکي تعريف کي جبکہ برطانوي وزيراعظم گورڈن
براون نے صدر بش کو برطانيہ کاسچادوست قرار
ديا۔انہوں نے کہاکہ برطانيہ ايران کو جوہري
پروگرام سے رکنے کیلئے اس کے اثاثے منجمند کردے گا
اور اميد ہے کہ ديگر يورپي ممالک بھي ايران کے
خلاف يہ اقدام اٹھائيں گے ۔علاوہ ازيں اس موقع پر
برطانوي وزيراعظم نے اپنے مزيد فوجي افغانستان
بھيجنے کابھي اعلان کيا۔
وقت اشاعت :Monday,16
Jun 2008, 09:22 GMT 15:22 PST
امريکي صدر جارج ڈبليوبش نے کہا ہے کہ اسامہ بن
لادن کو زندہ يا مردہ ہر صورت انصاف کے کٹہرے ميں
لائيں گے عراق کے معاملے پر برطانيہ اور امريکہ کے
درميان کوئي اختلاف نہيں ہے ۔برطانوي
ٹي وي سے گفتگو کر تے ہوئے امريکي صدر بش نے کہا
کہ عراق اور افغانستان سے القاعدہ کو باہر
کرديا۔ليکن ان کي واپسي کا خطرہ موجود ہے۔امريکي
صدر نے کہاکہ اسامہ بن لادن کي تلاش سانحہ
11ستمبر
کے بعد سے جاري ہے ليکن اس بارے ميں کوئي خصوصي
احکامات نہيں دئيے۔ صدر بش نے کہاکہ انہيں عراق
ميں معصوم شہري ہلاکت پر افسوس ہے ليکن وہ سمجھتے
ہيں عراق ميں حملہ کرنا درست تھا۔ انہوں نے ايسے
تاثر کو بھي غلط قرار ديا کہ عراق کے معاملے پر
برطانيہ اور امريکہ کے درميان اختلاف پايا جاتا ہے۔
دريں اثنائ۔ لندن ميں صدر بش دورے کے موقع سينکڑوں
لوگوں نے ان کے خلاف احتجاج بھي کيا۔صدر بش جب
برطانوي وزيراعظم کي رہائش گاہ ٹين ڈاوننگ سٹريٹ
پہنچے تو وہاں کھڑے سينکڑوں مظاہرين نے بلند آواز
ميں شديد احتجاج کيا۔ اس موقع پر مظاہرين نے
’’جارج بش دہشت گرد‘ ‘کے نعرے بھي لگائے۔ برطانوي
حکام کي يہ کوشش ہے کہ صدر بش کے اس دورے کو ايسے
سمجھا جائے جيسے کہ وہ اپني صدارت کے خاتمے سے
پہلے ايک طرح سے برطانيہ سے رخصت لينے آئے ہيں۔ اس
سے قبل بش نے ملکہ برطانيہ سے ان کے محل ميں
ملاقات کي اور پھر انہوں نے اپني اہليہ کے ہمراہ
وزير اعظم گورڈن براون اور ان کي اہليہ کے ساتھ
رات کا کھانا کھايا۔
|