|
عورتوں اور بچوں پر جنسي حملوں کے خلاف مزيد سخت
اقدامات کيے جائيں، اقوامِ متحدہ
رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ نيويارک
اقوام متحدہ ميں سفارت کاروں نے مسلح تنازعوں کے
دوران شہريوں کے خلاف جنسي تشدد کي مذمت کرتے ہوئے
مطالبہ کيا ہے کہ عورتوں اور بچوں کیخلاف جنسي
حملوں کي روک تھام کے
ليے مزيد سخت اقدامات کيے جائيں۔ امريکي وزير
خارجہ کانڈوليزا رائس نے اقوام متحدہ کي سيکيورٹي
کونسل ميں گزشتہ روز ہونے والے اس اجلاس کي صدرات
کي۔ اجلاس کے اختتام پر سفارت کاروں نے متفقہ
طورپر ايک قرار داد کي منظوري دي جس ميں تمام
فريقوں سے شہريوں کے خلاف جنسي تشدد کے فوري خاتمے
کا مطالبہ کيا گيا ۔ ان کا کہنا ہے کہ يہ نشانہ
بنائے جانے والے افراد کي تذليل اور ان پر قابو
پانے کا جنگي حربہ ہے۔قرار داد ميں اقوامِ متحدہ
سے ايسے واقعات کي تحقيق کرنے کے ليے کہا گيا ہے۔
وزير خارجہ رائس نے قرار داد کو سراہتے ہوئے يہ
بات زور دے کرکہي کہ جنسي تشدد سے نہ صرف عورت کا
تحفظ اور اس کي صحت پر برے اثرات مرتب ہوتے ہيں
بلکہ قوموں کے معاشي اور معاشرتي استحکام پر بھي
زد پڑتي ہے۔ اقوامِ متحدہ کے سيکرٹري جنرل بان گي
مون نے بھي اس قرارداد کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ
کئي ممالک ميں ايسے واقعات ميں ناقابلِ بيان حد تک
اضافہ ہوچکا ہے۔
|