|
ميانمار ، ہلاک ہونے والوں کي تعداد
22
ہزار سے تجاوزي کر گئي ايک لاکھ افراد بے گھر‘
ہنگامي حالت کا اعلان
رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ ينگون+واشنگٹن +نيويارک
ميانمارميں طوفان سے ہلاک ہونے والوں کي تعداد
22
ہزار سے تجاوز کر گئي جبکہ ايک لاکھ کے قريب
افراد بے گھر ہوگئے ہيں فوجي حکومت نے ہنگامي حالت
کا اعلان کرديا ہے جبکہ صورت
حال سے نمٹنے کیلئے عالمي امداد کي اپيل کي ہے
ادھراقوام متحدہ نے کہا ہے کہ حکومت کي جانب سے
آمادگي کے بعد ہنگامي امداد کے طور پر خوراک ،پينے
کے پاني کمبل اور ديگر اشيا کي فراہمي شروع کردي
گئي طوفان سے ہونے والي تباہي کا اندازہ لگانے ميں
ابھي وقت لگے دوسري جانب تھائي لينڈ نے سي ون
تھرٹي طيارے کے ذريعے خوراک اور ادويات کي کھيپ
روانہ کي گئي ہے ادھر امريکہ نے ہنگامي امداد کے
ليے
250000
ڈالر کي رقم مختص کي ہے دوسري جانب حکومت نے اعلان
کيا ہے کہ آئين پر ريفرنڈم مقررہ وقت پر ہو گا ۔ميانمار
سے آنے والي اطلاعات کے مطابق طوفان کا شکار ہونے
والوں کي تعداد مسلسل بڑھ رہي ہے ۔ طوفان سے
متاثرہ علاقوں کو آفت ذدہ قرار دے دياگيا ہے اور
ان علاقوں سے رابطے تقريبا معطل ہيں۔دوسري جانب
اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ ميانمار حکومت کي جانب
سے آمادگي کے بعد ہنگامي امداد کے طور پر خوراک ،پينے
کے پاني کمبل اور ديگر اشيا کي فراہمي شروع کردي
گئي ہے۔تھائي لينڈ نے سي ون تھرٹي طيارے کے ذريعے
خوراک اور ادويات کي کھيپ روانہ کي ہے ۔ميانمار
ميں امريکي سفارتخانے کي جانب سے طوفان کے متاثرين
کے لئے ڈھائي لاکھ ڈالر امداد جاري کي جا رہي ہے ۔
طوفان سے دارالحکو مت ينگون ميں
50
فيصدعمارتيں متاثر ہوئيں۔ ميانما ر ميں نر گس نا
مي سمند ر ي طوفان نے تباہي پھيلا دي۔ طوفان سے
دارالحکو مت ينگون بري طر ح متاثر ہو ا۔ ينگون ميں
ٹريفک لائٹس ، بل بورڈز تباہ اور درخت جڑ سے
اکھڑگئے۔ حکام نے دارالحکومت سميت پا نچ علا قو ں
کو آفت زدہ قرار دے ديا ہے۔ امدادي کا رروائيوں
اور لو گوں کو محفوظ مقاما ت تک منتقل کر نے کيلئے
فوجي کي مدد طلب کر لي گئي ہے۔فوج تباہ حا ل علا
قوں سے ملبہ صاف کر رہي ہے۔ طوفان سے فضا ئي روابط
ميں تعطل پيدا ہو ا ہے اور فلائٹس کو منڈيلا نا مي
شہر کي جا نب منتقل کر ديا گيا ہے۔ حکام کا کہنا
ہے کہ حا لا ت پر قابو پانے کي کو شش کي جا رہي ہے۔
دريں اثنائ امريکہ نے برما سے کہا ہے کہ وہ اس کي
طرف سے امداد قبول کر لے۔ امريکي خاتونِ اول لارا
بش نے برما سے مدد قبول کرنے کي اپيل کرتے ہوئے
کہا کہ امريکہ نے ہنگامي امداد کے ليے
250000
ڈالر کي رقم مختص کي ہے۔ طوفان سے لاکھوں افراد
متاثر ہوئے ہيں جنہيں امدادي اشيائ پہنچنا شروع
ہوگئي ہيں وزيرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ان کا ملک
متاثرين کے ليے عالمي امداد قبول کرنے کے ليے تيار
ہے۔ برما کي حکومت کے مطابق طوفان نے پانچ علاقوں
کو متاثرہ قرار ديا ہے جن ميں دو کروڑ چاليس لاکھ
لوگ بستے ہيں۔ برما کے حکام اور عالمي امدادي
ادارے سمندري طوفان سے ہونے والي تباہي کا اندازہ
لگانے کي کوشش کر رہے ہيں۔ اقوام متحدہ کے امدادي
ادارے کے ريجنل سربراہ ترجے سکاوڈال نے کہا ہے کہ
طوفان سے ہونے والي تباہي کا اندازہ لگانے ميں
ابھي وقت لگے۔ انہوں نے خبر رساں ادارے کو بتايا
ہر کسي کي طرح حکومت کو بھي حالات کا صحيح اندازے
لگانے ميں مشکل کا سامنا ہے‘۔ترجے سکاوڈال نے
بتايا کہ طوفان سے تباہ ہونے والي سڑکيں بند ہيں
اور متعدد گاوں متاثر ہوئے ہيں جہاں پہنچنے ميں
وقت لگے گا۔ برما ميں غيرملکي امدادي کارکنوں کي
نقل و حرکت پر فوجي حکومت کي جانب سے متعدد
پابندياں ہيں جس کي وجہ سے امدادي کام صرف مقامي
عملے کے ذمے ہے۔ ترجے سکاوڈال نے کہا کہ اقوام
متحدہ برما کي حکومت کے ساتھ بات کرے تاکہ متاثرين
تک امدادي کارکنوں کي رسائي ممکن بنائي جاسکے۔
عالمي امدادي ادارے ريڈ کراس نے کہا کہ اس کي
ٹيميں ايراوڈي کے علاقے ميں پاني، کمبل اور ديگر
ضروري اشيائ پہنچانا شروع کردي ہيں۔ ريڈکراس کے
ترجمان مائيکل انيئر نے بتايا کہ جتنا جلد ہوسکا
وہ امداد ليکر گئے ليکن ملبے اور بجلي کے کھمبے
گرنے سے امدادي کارکنوں کي نقل و حرکت محدود ہے۔
دريں اثنائ عالمي امدادي ادارے ريڈ کراس نے کہا کہ
اس کي ٹيميں ايراوڈي کے علاقے ميں پاني، کمبل اور
ديگر ضروري اشيائ پہنچنا شروع ہو گئي ہيںانہوں نے
بتايا کہ مقامي لوگ اور حکومتي اہلکار سڑکوں سے
ملبے ہٹا رہے ہيں تاکہ امداد پہنچائي جاسکے۔ تاہم
اقوام متحدہ کے امدادي کارکنوں نے بتايا ہے کہ
ابھي تک برما کي فوجي حکومت نے انہيں امدادي کاموں
کے ليے متاثرہ علاقوں ميں جانے کي اجازت نہيں دي
ہے۔ ايک سو نوے کلو ميٹر في گھنٹے کي رفتار سے آنے
والے اس طوفان نے ملک کے ايراوڈي، رنگون، باگو اور
مون علاقے ميں زبردست تباہي مچائي ہے۔ برما کے
سرکاري ٹيلي ويژن کے مطابق ملک کے ايک جزيرے ميں
سمندري طوفان اور سيلاب کي وجہ سے
90
ہزار افراد بے گھر ہوگئے ہيں۔ سمندري طوفان کا سب
سے ز يادہ اثر ايراوڈي طاس کے علاقے ميں ہوا ہے
جہاں ايک ضلع ميں تين چوتھائي عمارتيں مسمار ہوگئي
ہيں۔ اطلاعات ہيں کہ لبوٹا کے قصبے ميں75
فيصد مکانات زميں بوس ہو چکے ہيں جبکہ20
فيصد مکانوں کي چھتيں تباہ ہوئيں۔ جزيرہ ہائنجي
ميں75
فيصد مکانات کي چھتيں اْڑ گئي ہيں اور
20
فيصد مکانات گر گئے ہيں۔ اقوام متحدہ کے پروگرام
برائے خوراک کے انتھوني کريگ نے کہا ہے کہ رنگون
ميں پکي عمارتوں کو پہنچنے والے نقصان سے اندازہ
لگايا جا سکتا ہے کہ دوسرے علاقوں ميں نقصان زيادہ
ہوا ہوگا۔ دريں اثنائ ميا نمار ميں سمندري طوفان
کے باوجود نئے آئين پر ريفرنڈم مقررہ وقت پر ہو
گا۔ميانمار کے سرکاري ٹيلي ويژن کے مطابق طوفان سے
ہونے والي تباہي کے باوجود رفرنڈم دس مئي کو ہوگا۔
|