BBCONE.NET
ہم سےرابطہ کیجۓ اشتہارات ہماری پالیسی ہمارےبارےمیں

صفحہ اول    پاکستان    عالمی دنیا    ارد گرد    رو برو    کھیل    کالم و مضامین    شوبز    عالم اسلام    کامرس    مقامی خبریں

Click here to download urdu font

Click here to download urdu font

 

وقت اشاعت :Thursday,22 May 2008, 05:44 GMT 10:44 PST

 

شام اور اسرائيل نے آٹھ سال بعد ترکي کے تعاون سے بالواسطہ مذاکرات شروع کرنيکا اعلان کرديا
 


رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ مقبوضہ بيت المقدس

شام اور اسرائيل نے آٹھ سال بعد ترکي کے تعاون سے بالواسطہ مذاکرات شروع کرنيکا اعلان کرديا۔اسرائيلي وزير اعظم ايہود اولمرٹ کے بيان کے مطابق اسرائيل اور شام ترکي کے تعاون سے امن مذاکرات کريں گے۔ بيان ميں کہا گيا ہے کہ دونوں ممالک نے خطے ميں قيام امن کيلئے مستقل بنيادوں پر آزادانہ مذاکرات کي ضرورت کو محسوس کيا ہے۔ اسرائيلي وزير اعظم کے خصوصي مشير مذاکرات کي تياري کيلئے انقرہ ميں موجود ہيں۔ ترکي اور شام کے حکام نے اسرائيل سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کي تصديق کي ہے۔ امريکا نے شام اور اسرائيل کے مذاکرات شروع کرانے پر ترکي کے کردار کو سراہا ہے۔ اسرائيل نے گذشتہ ماہ ترکي کے ذريعے شام کے صدر بشار الاسد کو مذاکرات کا پيغام ديا تھا۔ شام اور اسرائيل ميں آٹھ سال پہلے گولان کي پہاڑيوں کے معاملے پر مذاکرات ہوئے تھے۔ اسرائيل کے وزير اعظم ايہود اولمرٹ نے کہا ہے کہ شام سے امن معاہدے کرنے کے کچھ تکليف دہ رعايتيں ديني پڑيں گي۔اسرائيل اور شام نے تسليم کيا ہے کہ وہ بالواسطہ مذاکرات کر رہے ہيں۔ ترکي دونوں کے درميان مصالحت کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔اسرائيلي وزير اعظم ايہود آلمرٹ نے شام سے مذاکرات کو بہت دلچسپ اور اہم واقعہ بتايا اور کہا کہ شام کے ساتھ معاہدے کے ليے کچھ تکليف دہ مراعات ديني پڑيں گي۔ اس سے پہلے اسرائيل اور شام کے درميان مذاکرات آٹھ برس پہلے ہوئے تھیاور جولان کي پہاڑي سے اسرائيل کے انخلائ کے معاملے پر ٹوٹ گئے تھے۔ امريکہ نے شام اور اسرائيل کے بالواسطہ مذاکرات کا بہت محتاط الفاظ ميں خير مقدم کيا ہے۔ امريکي محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ان ميں جو بھي سمجھوتہ ہوگا حالات کي بہتري ميں مددگار ہوگا۔ليکن ترجمان نے ترکي کے مصالحتي رول کي تعريف کي ۔ شام کے وزير خارجہ نے بھي
2000 کے بعد پہلي بار ترک ثالثي ميں ہونے والي بات چيت کي تصديق کي ہے۔ اسرائيل اور شام کے مذاکرات کے ترجمان نے کہا کہ ’فريقين نے مکمل امن کے حصول کے ليے بات چيت کي انتہائي سنجيدگي کو قائم رکھنے کا عنديہ ديا ہے۔ شام کے وزير خارجہ وليد معلم نے کہا ہے کہ فريقين نے پائيدار امن کے حصول کے ليے مذاکرات نيک نيتي سے کرنے اور مسلسل سنجيدگي برقرار رکھنے کي خواہش کا اظہار کيا ہے۔ اپريل ميں يہ اطلاع دي گئي تھي کہ ترک وزيراعظم طيب اردگان شام اور اسرائيل کے درميان مفاہمت کے ليے ثالث کا کردار ادا کر رہے ہيں۔ دونوں ملکوں کے درميان گولان کي پہاڑيوں کا تنازع ہے جس پر اسرائيل نے 1967 کي مشرقِ وسطيٰ جنگ کے دوران قبضہ کر ليا تھا۔ شام کے وزيرخارجہ نے کہا ہے کہ اسرائيل گولان کي پہاڑيوں سے دستبردار ہونے اور 1967 کي پوزيشن پر واپس جانے کے ليے تيار ہے۔ تاہم اسرائيل نے اس دعوے پر کوئي تبصرہ کرنے سے انکار کيا ہے۔ اس سلسلے ميں اسرائيلي وزيراعظم ايہود المرٹ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ’جاري بات چيت گزشتہ دور کي ناکامي کو ذہن ميں رکھ کر کي جارہي ہے اور اب اس کي رفتار ميں کچھ تيزي آئي ہے۔
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 
 
 
دوست کو بھیجیں

پرنٹ کریں

صفحہ اول
 
 

Click here to watch BBCONE Videos
 
Click here
 
Click here
 
Click here for BBCONE Photos
 

SuperWebz.com

 





تمام جملہ حقوق بحق بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ محفوظ ہیں

Bangash Broadcasting Company (pvt.) Ltd. of Pakistan