|
نيپال کے بادشاہ کو زبردستي نکال ديں گے، سياسي
ليڈروں کا انتباہ
رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ کھٹمنڈو
نيپال کے سياسي ليڈروں نے دھمکي دي ہے کہ شہنشاہيت
کے خاتمے کے بعد اگر شاہ گيانندرا نے محل نہ چھوڑا
تو انہيں زبردستي نکال ديا جائے گا۔نيپال ميں
جمہوريت کے سفر کا باقاعدہ
آغاز ہو گيا ہے اور خصوصي اسمبلي نے حلف اٹھا ليا
ہے۔ توقع ہے کہ نئي آئين ساز اسمبلي آج اپنے پہلے
اجلاس ميں ملک سے اس بادشاہت کے خاتمے کا باضابطہ
اعلان کر دے گي ، جو
239
سال تک جاري رہي۔نيپال ميں جہاں بادشاہت سے
جمہوريت کي طرف سفر جاري ہے، دارلحکومت کھٹمنڈو
ميں ايک دھماکے سے ايک شخص زخمي ہوگيا ہے۔پوليس نے
کہا ہے کہ يہ دھماکہ کھٹمنڈو پارک ميں منگل کے روز
يہ دھماکہ ايک نئي اسمبلي کے حلف اٹھانے کے چند
گھنٹوں کے بعد ہوا۔ آئين ساز اسمبلي کے ارکان توقع
ہے کہ اپنے پہلے اجلاس ميں
239
سالہ پراني بادشاہت کو ختم کرديں گے۔ پوليس نے پير
کے روز کنونشن سينٹر کے باہر دو چھوٹے بم دھماکوں
کے بعد مظاہروں پر پابندي لگا دي ہے اور دارلحکومت
ميں سيکيورٹي بڑھا دي ہے۔نيپال کو ايک جمہوريہ
بنانے کیساتھ ساتھ ، آئين ساز اسمبلي نيا آئين بھي
تحرير کرے گي۔ يہ کام اس امن کے عمل کا حصہ ہيں جس
کے نتيجے ميں ايک عشرے پر محيط خانہ جنگي کا خاتمہ
ہوا ہے جس ميں سابق ماو نواز ملوث تھے۔
|