|
پاکستان میں ہنر سازی کے اداروں کا فقدان ہے، امجد
اسلام امجد کا بی بی سی ون سے
انٹرویو۔
(انٹرویو ڈاکٹراشفاق رحمانی)
رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ لاہور
انساني فکر کا بنیادي نقطہ نظر یہ ہے کہ وہ اپني
اور اپنے اردگرد پھیلي کائنات کي آگہي حاصل کرے
اور اس آگہي سے حاصل شدہ نتائج اور رویوں کي روشني
میں اپنے آپ سے اور اردگرد پھیلي کائنات سے تعلق
استوار کرے۔اس افہام و تفہیم اور ممکن حد تک زندگي
گزارنے اور زندہ رہنے کے جذبے کے موثر اظہار کے
لیے بیشتر فنونِ لطیفہ کو استعمال کیا گیا ہے۔لیکن
فنون لطیفہ میں سے ادب میں عملاََ اس کا اظہار
بہتر انداز میں اور بلیغ ترین ہو تا ہے۔گویا ادب
زندگي کي علامت ہے۔ اور فن کار اس علامت کے ذریعہ
اپنے آپ کو وقت اور جگہ کي قید سے ممکن حد تک آزاد
کرا لیتا ہے۔وہ شاعري ہو،ڈرامہ ہو،سفر نامہ ہو،یا
ادب کي کوئي بھي صنف،مصنف ہمیشہ ہر جگہ اور ہردور
میں اپنے آپ کو زندہ محسوس کر تاہے۔اعليٰ ادب سے
مراد ایسا ادب ہوتا ہے جو جگہ کي قید کے بغیر
زیادہ سے زیادہ عرصہ تک قابل قدر اور موثر معنویت
رکھتا ہو۔یوں صحت مند ادب انسان اور کائنات سے
متعلق بنیادي،کیفیتوں،احساسات،خیالات،رحجاناتِ اور
بنیادي مسائل سے متعلق ہوتاہے۔
انہي
کیفیتوں،احساسات،خیالات،رحجاناتِ کي حامل شخصیت جو
اپنے فن کے حوالے سے کسي تعارف کي محتاج
نہیں۔انہوں نے ڈرامہ لکھا تو پوري کي پوري فیملي
نے ایک ساتھ بیٹھ کر نہ صرف
دیکھا بلکہ آئندہ آنے والي قسط کا بھي شدت سے
انتظار کیا۔انہوں نے شاعري کي تو ہر عہد اور ہر
طبقہ کے افراد نے پسند کیا۔ان کا کمال یہ ہے کہ یہ
خاص طور پرنوجوانوں میںت خلیقي صلاحیتوں کو اجاگر
کرنے کے لیے نئي سوچ بچارکو پروان چڑھانے والوں
میں بھي سر فہرست ہیں۔ستارہ امتیاز،پرائیڈ آف
پرفارمنس،ریٹائرڈ ڈائریکٹر چلڈرن کمپلیس ،ڈائریکٹر
نصاب (پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ
C.W
ونگ )بہترین ڈرامہ رائیٹر،شاعر اور عہد حاضر کے
نامور دانشور،جي ہاں امجد اسلام امجد، آپ4
اگست1944
کو لاہور میں پیدا ہو ئے۔ایم اے اردو کرنے کے بعد
عملي زندگي کي ابتدا
MAO
کالج سے بطور اسسٹنٹ پروفیسر کي۔پنجاب آرٹ
کونسل(ڈرامہ اینڈ لٹریچر)کے ڈپٹي ڈائریکٹر
ڈائریکٹر جنرل اردو سائنس بورڈپروجیکٹ ڈائریکٹر
چلڈرن لائبریري کمپلیکس اور موجودہ وقت
میںڈائریکٹر پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ (کرکولمونگ)کے
طور پر اپني ذمہ داریاں نہایت ہي احسن انداز سے
نبھا رہے ہیں۔امجد اسلام امجد کو
1998
میں ستارہ امتیاز سے نوازہ گیاجبکہ
1987
میں پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ بھي وصول کیا۔شاعري
کي کتاب پر1976
میں نیشنل ہجرا ایوارڈاوررائٹرگلڈ ایوارڈ بھي مل
چکا ہے۔پاکستان ٹیلي وژن کي جانب سے
1980,1984,1998,1999,2001
میں بہترین ڈرامہ رائیٹر کا ایوارڈ حاصل کرنے والي
منفرد شخصیت ہیں۔نیشنل ایوارڈ،پندرواں گریجویٹ
ایوارڈ،پي ٹي وي سلورجوبلي ایوارڈ،امجد اسلام امجد
پرسنیلٹي اینڈ آرٹ ایوارڈ،بولان،ایگفا،نگار کے
ساتھ ساتھ صدر پاکستان کي جانب سے ڈرامہ سیریل ’’وارث‘‘پر
بھي ایوارڈ حاصل کر چکے ہیں۔برکھ،عکس،ساتواں در،
وارث،کالے لوگوں کي روشن نظمیں،دہلیز،فشر،شہر در
شہر،ذرا پھر سے کہنا،آنکھوں میں تیرے سپنے،چشمے
تماشہ،لہو میں پھول،نئے پرانے،اپنے لوگ،خزان کے
آخري دن،یہ افسانے،کہکشاں،اُس پار،وقت،اتنے خواب
کہاں رکھوں گا۔کھٹے میٹھے،سپنے بات نہیں
کرتے،دن،سمندر،رات،بارش کي آواز،کہتے چلے گئے،نئي
آنکھ پرانے خواب،سپنے کیسے بات کریں،میرے بھي ہیں
کچھ خواب،ہم اُس کے ہیں،ساحلوں کي
ہوا،بندگي،چھاوں،پھر یوں ہوا،محبت ایسا دریا
ہے،سات دن،تیرے دریا کي تیز ہواان کي علمي و ادبي
محنتیں ہیں۔تاہم درجنوں دیر طبع کتابوں اور زیر
تکمیل ڈرامہ سیریل منظر عام پر آنے کے بعد یقیناََ
عوام کے دلوں میں گھر کریں گي۔امجد اسلام امجد
1984
سے اب تک امریکہ،انڈیا،UAE
فرانس،ناروے،سعودي عرب،مسقط،کینیڈا،چائنہ،تھائي
لینڈ،سنگاپور،ڈنمارک،کویت،جرمني،اسٹریلیا اور
ازبکستان جیسے ممالک کا سفر کرنے کے بعد سفر ناموں
کي دنیا میں بھي اپني الگ پہچان رکھتے ہیں۔ان کے
متعدد ڈرامے مختلف ٹي وي چینلز پر دوبارہ ٹیلي
کاسٹ بھي ہوئے جبکہ ڈرامہ سیریل وارث چائنیز زبان
میں پبلیش ہوچکاہے۔پنجاب آرٹ کونسل،Executive
کمیٹي الحمرا آرٹ کونسل ،بورڈآف ایڈوانسمنٹ آف
اردو،اکیڈمي آف لیٹرز،کمیٹي آف رائیٹرز فنڈجیسي
نامور سوسائٹیز کے ممبر بھي ہیں
گذشتہ دنوں ’’بي بي سي ون ڈاٹ نیٹ‘‘‘ نے ان سے
ادبي سفر کے حوالے سے ایک انٹرویو کیا جو قارئین
کي خدمت میں حاضر ہے۔
’ ’بي بي سي ون ڈاٹ نیٹ‘‘ :سر آپ یہ بتائیے ،ادبي
سفر کا آغار کب کیا ،کون سي ایسي چیز تھي جو آپکو
اس طرف لے کر آئي؟
٭امجد اسلام امجد کہتے ہیں:دیکھو بات یہ ہے کہ جو
ابتدا ہو تي ہے کسي بھي فن لطیف،کسي بھي فیلڈمیں
وہ اپنے ابتدائي فام میں زیادہ تر جو اُس زمانے
میں چیزیں ہو تي ہیں۔اُس کي نقل سے شروع ہو تي
ہیں۔جیسے
بچہ
جو ہے اگر اس میں گانے کي صلاحیت ہے۔تو اُس وقت کے
مشہور گانوں سے شروع کر تا ہے۔توہم لوگوں نے بھي
جولکھنا شروع کیاتو وہ ایک طرح سے شوقیہ
Activity
تھي۔پھر کالج کے مختلف مدارج میں پہنچے تو لکھنے
لکھانے کي صحیح سمیت کا اندازہ ہوا۔اور پتہ چلا کہ
کن لو گوں میں آگے بڑھنے کي صلاحیت ہو تي ہے اور
کن میں نہیں۔میں نے بي اے کے زمانے سے باقاعدہ
لکھنا شروع کیا۔5th-Year
میں پنجاب یونیورسٹي لیٹرريسوسائٹي کا چئرمین
بنا۔بعد ازاں یونیورسٹي میگزین کے چیف ایڈیٹر کے
طور پر بھي کام کیا۔یہ ایک طرح سے ضمانت تھي لکھنے
لکھانے کي۔اپني صلاحیتوں کو آزامانے میں
6
سال لگے۔بدقسمتي سے یہاں میڈیا کي ہنر سازي کا
کوئي بھي ادارہ موجود نہیں تھا جیسا کہ اب بھي کو
ئي قابل ذکر نام موجود نہیں،جہاں سے اپني متعلقہ
فیلڈ کے بارے میں سیکھ سکیں،ڈگري کورسسز،شارٹ
کورس،کي سہولت نہ ہونے کي وجہ سے ہم نے تجربہ سے
سیکھا۔آپ کا کام سامنے آنے کے بعد ملنے والے فیڈ
بیگ سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کچھ کر رہے ہیں اور کیا
کر رہے ہیں۔ہنر سازي کي تربیت کے لیے اداروں کے
فقدان بارے سنجیدگي سے سوچنا ہو گا۔میں سمجھتا ہوں
کہ نئے آنے والوں کے لیے یہ راستہ آسان ہو نا
چاہیے۔
’ ’بي بي سي ون ڈاٹ نیٹ‘‘ :ایک وقت تھاجب لوگ
فیملي کے ساتھ بیٹھ کر نہ صرف ڈرامہ دیکھا کرتے
تھے بلکہ آئندہ قسط کا انتظار بھي کیا جا تا تھا
آج ایسا نہیں ہے۔ اس کي کیا وجہ ہے
٭امجد اسلام امجد کہتے ہیں:رحماني صاحب بڑا اچھا
سوال ہے۔اصل میں یہ بڑي لمبي کہاني ہے۔آج کل اس پر
بہت کچھ لکھا جا رہا ہے۔ٹیلي وژن جب
PTV
کي حد تک محدود تھا تو اس وقت ہفتے میں چار پا
پانچ ڈرامے ہو تے تھے اور پوري سہ ماہي چلتے
تھے۔یعني سالانہ
20/24
ڈرامے ان کو کوالیفائیڈ افراد بڑي محنت اور ٹارگٹ
سمجھ کر بناتے تھے۔کسي کواٹر میں میں لکھ رہا ہوں
کسي میں اشفاق احمد مرحومکسي میں بانو قدسیہ یونس
جاوید، منوبھائي، اصغر ندیم سید،مزاح میں فاروق
قیصر،اطہرشاہ خاں،کمال رضوي ایسا اچھا اور عوامي
مسائل سے ہم آہنگ لکھ رہے تھے پھر90
کے لگ بھگNTM
آیا تواس پر ٹي وي کي نسبت بندشیں بھي کم
تھیں۔دوچار سال اس نے
PTVکو
ٹف ٹائم دیا۔بدقسمتي سے اس کے باوجود پي ٹي وي نے
آنے والے زمانے کے چیلنجز کو سمجھنے کي کوشش نہیں
کي،ہمیں تو ٹرینڈ نہیں کیا تھا بعد میں آنے والي
نسل کو بھي ٹرینڈ نہیں کیا۔اس کے بعد تو جیسے ٹي
وي چینلز کي بھر مار ہو گئي۔اب ان کي ڈیمانڈ کو
پورا کر نا مشکل تھا۔ٹي وي کا اپنا ایک سٹائل تو
تھا ہي،اس کے تیار کئے ہو ئے رائیٹرزو دیگر افراد
ان کے بس میں نہیں تھا کہ وہ ہفتے میں
100
ڈرامے دیتے۔ہم ہفتے میں
6/7
ڈرامے دیتے تھے۔اس کے ساتھ ہي کمرشل ازم،اس سے ہوا
یہ کہ اس فیلڈ میں ایسے رائیٹرز،ڈائیریکٹرز گھس
آئے جو ابھي پوري طرح اپنے اپنے کام کے بھي ماہر
نہیں تھے۔دوسري غلظي ہم نے انڈیا کے ڈراموں کي نقل
شروع کردي۔اب جوڈرامے کي اپني اصل طاقت تھي ہمارے
مسائل،عوامي ایشوز،اس سے ہمارا رشتہ ٹوٹتا چلا
گیا۔پہلے پہل دیہاتي ہو، شہري ہو،غریب ہو ،امیر
ہو،سب کو اپني اپني جھلکیاں نظر آتي تھیں۔جو اب
نہیں ہیں یہي وجہ سے کہ عام لوگوں کا ٹي وي ڈرامہ
سے رحجان کم سے کم ہو تا جا رہا ہے۔او ر رہي سہي
کسر وي چینلز کي بھر مار نے نکال دي۔اب ہمارا
ڈرامہ زیادہ تر گلیمر کي طرف چلا گیا ہے۔بڑے بڑے
سیٹ، لاکھوں، کروڑوں نہیں بلکہ اربوں کي باتیں ہو
تي ہیں اور ان میں بھي ایک خاص سطح کے انساني
رشتوں کي کہاني کو ہي دہرایا جا رہا ہے۔جوہمارے
کلچر کا حصہ بھي نہیں ہیں۔اصل زندگي سے ڈرامہ کٹ
گیا ہے یہي اس کے پیچھے کي طرف جانے کي وجہ ہے۔اور
پھر کمرشل،2
منٹ کا ڈرامہ 8
منٹ کے اشتہارات،اتني دیر تک دیکھنے والا بھول چکا
ہوتا ہے کہ کیا دیکھ رہے تھے،ورنہ ریموٹ اور انگلي
کسي اور جگہ لے جا چکي ہو یي ہے۔نئي نسل میں بھي
ٹیلنٹ موجود ہے مگر کیو نکہ اتنا زیادہ اور غیر
معیاري لکھا جارہا ہے اس میں اچھي چیزوں کا
ڈھونڈنا کافي مشکل ہو گیا ہے۔اس بڑے مسئلہ کے لیے
ہم سب کو مل بیٹھ کر سنجیدگي کي سوچنا ہو گا۔اس کا
طریقہ کار کیا ہو نا چاہئیے ،اس کا کیا علاج ہے۔
’ ’بي بي سي ون ڈاٹ نیٹ‘‘ :عالمي،ملکي ،سماجي،معاشي
زاویوں کو سامنے رکھتے ہو ئے آپ کے خیال
میںپاکستان میں کیسا نظام تعلیم رائج ہو نا چاہے
جبکہ یہاں تین چار طرح کے نظام چل رہے ہیں؟
٭امجد اسلام امجد کہتے ہیں: ایک زمانہ تھا دنیا ہم
سے تعلیم حاصل کیا کرتي تھي۔ایک نظام فکر تھا۔ایک
ہي نظام تعلیم۔موجودہ دور میں ’’ایجوکیشن پیکج نے
بچوں کو مشین بنا کر رکھ دیا ہے۔آج سب سے پہلا
سوال یہ ہوتا ہے کہ تعلیم کے بعد اسکو نوکري کون
سي ملے گي۔ وہ
CA
کرے گا،MBA
کرے گا۔آجکل نوکري کے حصول کے لیے پڑھائي ہو رہي
ہے۔اور پڑھایا جا رہا ہے۔ہمارے بچے اسي میں الجھ
گئے ہیں۔سسٹم کو ئي بھي ہو ،ہمارے یہاں تعلیمي
میدان میں مختلف قسم کے تجربات نے اس نظام کو
انتہائي پیچیدہ بنا دیا ہے۔میرے خیال میں مغرب نے
جن چیزوں میں ترقي کي ہے ان کو دیکھیں اور جو
ہمارے معاشرے میں فٹ آتي ہیں ان کو رائج
کریں۔دوسرے ممالک کي نسبت ہم روایات کے زیادہ
پابند ہیں۔بد قسمتي سے ہم مغرب کیساتھ نہیں چل
سکتے، اور نہ ہي مغرب کو چھوڑ سکتے ہیں۔ اسلام
چھوڑ چکے،مغربي کلچر اپنا نہیں سکتے تو ہمارے پاس
یہ آپشن موجود ہے کہ ہم کو ئي درمیانہ رستہ نکال
لیں۔جس میں ہماري اپني روایات بھي ہوں اور جدید
علوم بھي۔یہي ایک بیلنس کا طریقہ ہے جو ابھي تک ہم
نہیں اپنا سکے۔
’ ’بي بي سي ون ڈاٹ نیٹ‘‘ : ’’اتنے خواب کہاں
رکھوں گا‘‘آپ نے شاعري کي ابتدا کب کي۔آج کي
نوجوان نسل کے پاس اچھي شاعري کیوں نہیں ہے؟
٭امجد اسلام امجد کہتے ہیں:دیکھیں بات یہ ہے کہ
میرے خیال میاں اچھي شاعري اب بھي ہو رہي ہے۔آج کي
نو جوان نسل میں ٹیلنٹ موجود ہے۔اصل میں گڑ بڑھ یہ
ہو ئي ہے کہ پہلے شاعر ایک خاص پراسس سے گزر کر
کتاب کي طرف آتا تھا۔اب کتاب چھپوانا اتنا مشکل
نہیں رہا۔لوگوں کے پاس پیسہ ہے۔اب آج سے
50
سال پہلے جیسا مسئلہ نہیں رہا۔’’آج کي آدھ پک
کتابوں نے ادب اور خاص طور پر شاعري کا بُرا حال
کر دیا ہے۔جو فني اعتبار سے شاعري ہي نہیں ہے وہ
بھي مارکیٹ میں آگئي ہے۔میرے خیال میں شاعري نہیں
ہورہي فضول لکھا جا رہا ہے۔اس طرح کے لکھنے والے
ہر زمانے میں موجود رہے ہیں۔غالب کے زمانے میں کو
ئي 3
ہزار شعرائ تھے لیکن ہمارے پاس جو سامنے آئے وہ
10/12
ہي ہیں۔جو اچھے تھے انہوں نے محنت کي اور آگے
آگئے۔تو آج کل بھي شاعري کي ’’میراتھن‘‘ ریس لگي
ہو ئي ہے آپ دیکھیں گے جو اچھا لکھنے والے ہیں جو
آگے آجائیں گے۔اب ریس میں تو سارے ہي شامل ہو تے
ہیں۔سب تو سامنے رکھ کت نتیجہ نکالو گے تو رزلٹ
ایسا ہي آئے گا۔جو سامنے آئیں ان کو سامنے
رکھو،فرق واضح ہو جا ئے گا۔منٹو ،قرہ العین
مرحومہ،فیض توخیر ترقي پسندوں کي طرف چلے گئے۔پھر
اس کے بعد یوسف ظفر،مختار صدیقي،انہیں میں ناصر
کاظمي جیسي غزل لکھنے والے بھي آئے۔نئے تجربات
کرنے والے لوگ آئے۔حبیب جالب نے انقلابي شاعري کي
اور نام بنایا۔(گو کہ غیر روایتي قسم کي شاعري
تھي)تواس ہجوم میں سے بھي یہي لوگ نکل کر آئے اسي
طرح ہماري نسل بھي۔اب اس کا ناک نقشہ بننا شروع
ہواہے۔تواس میں سے لوگ متعین ہونا شروع ہو جائیں
گے کہ اس نسل کے نمائندے کون ہیں۔یہبات بڑے وثوق
سے کہتا ہو کہ نوجوان بڑي اچھي شاعري کر رہے ہیں
بس
crystle
کرنے والا معاملہ ہے۔اس سے بھاگنے اور سامنے آنے
والے سب سامنے آجائیں گے۔رہي ہماري بات تو کالج سے
ہي لکھنا شروع کیا ۔
’ ’بي بي سي ون ڈاٹ نیٹ‘‘ :جدید ٹیکنالوجي ،انٹرنیٹ
کا استعمال،مہنگي کتاب، آپ کے خیال میں نوجوان کو
مطالعہ کي طرف کیسے راغب کیا جا سکتا ہے؟
٭امجد اسلام امجد کہتے ہیں:پہلي بات تو یہ ہے کہ
میں اس بات سے اتفاق نہیں کر تا کہ کتاب مہنگي ہو
ئي ہے۔ہر چیز کو ایک انداز سے دیکھنا چاہئیے،کوئي
چیز جو کتاب سے سستي تھي وہ اب مہنگي نہیں ہو ئي
اور کتاب مہنگي ہو گئي۔لیکن اگر ساري چیزیں مہنگي
ہو گئي ہیں اور کتاب بھي مہنگي ہوگئي تو اب اس میں
صرف ایک کو پوائنٹ آوٹ کرنا کہ یہ مہنگي ہو گئي ہے
درست کلیہ نہیں۔لوگ بچوں کو
12-12
ہزار روپے کے جوتے لے کر دے دیتے ہیں مگر
200
کي
کتاب انہیں مہنگي لگتي ہے۔300
روپے کا کھڑے کھڑے بر گر کھا جا تے ہیں100
کي کتاب مہنگي ہو گئي۔یہ پرکھنے کا کیا طریقہ
ہے۔ہاں آپ کے معاشرے کا ایک خاص طبقہ ہے جو برگر
بھي نہیں خرید سکتا اور نہ ہي کتاب ،اس کے لیے
واقعي کتا ب مہنگي ہے۔اس کا ایک حل یہ ہو سکتا ہے
کہ حکومت جو اتنے ٹیکس لیتي ہے عوام سے ،اس میں سے
کہیں کو لائبریري بنادے۔دوسرے ملکوں میں جیسے ہو
تا ہے۔ہم مغرب کي نقالي پر فخر محسوس کرتے ہیں
یہاں ہمیں کیا ہو تاہے۔بڑے چھوٹے شہروں میں،قصبوں
میں لاکجوں،سکولوں کے علاوہ پبلک لائبریریاں بنائي
جائیں جہاں لوگوں کو آساني سے کتا مل سکے۔جو نہیں
خرید سکتے وہ یہاں سے لے کر پڑھ لیں۔اب رحماني
صاحب آپ کے سوال کا دوسرا حصہ نوجوانوں کو راغب
کرنے کا،بہت ساري چیزیں آگئي ہیں۔پہلے ادب سے
رابطہ قائم کر نے کے لیے کتاب تھي۔اب دنیا نالج سے
انفارمیشن کي طرف جارہي ہے۔آپ دیکھو پہلے نالج
بیسڈ معاشرے تھے ان میں انفارمیشن ضمني حیثیت
رکھتي تھي۔لیکن ان نالج ضمني حیثیت
رکھتاہے،انفارمیشن بنیادي حیثیت رکھتے ہے۔اسي وجہ
سے ہمارے یہاں انٹرنیٹ،اخبارات،میگزین نے وہ کام
سنبھال لیا ہے جو پہلے خالص ادبي کتاب سنبھالتي
تھي۔لیکن اب آپ دیکھیں آپ ادب اور ادیب کو ٹي وي
پر دیکھ سکتے ہیں۔ریڈیو پر سن سکتے ہیں۔اخبارات
میں پڑھ سکتے ہیں۔مزاج کے مطابق ہر چیز نیٹ پر
دستیاب ہے ۔قیمت نہ ہونے کے برابر،تو اب والي نسل
ادھر شفٹ ہو گئي ہے۔تو اگر لائبریریاں ہوتیں تو یہ
رشتہ قائم رہتا۔جوادب بچے کي تعمیر میں دخل اندازي
کر تا تھا اس کو انٹرنیٹ نے بے دخل کر دیا ہے۔یہ
بہت بڑي اور تباہ کن روش ہے۔ ہمیں اس بارے سنجیدگي
سے سوچنا ہوگا۔انسان کو پورا انسان بننے کے لیے
جہاں دنیاوي علوم کي ضرورت ہو تي ہے وہاں ا’ن علوم
کي بھي ضرورت ہو تي ہے جو اس کے روح کي تسکین کر
دے۔
’ ’بي بي سي ون ڈاٹ نیٹ‘‘ :سر یہ بتائیے کہ کیا
’’ادب‘‘ کو سیاسي مفادات کے لیے استعمال کیا جا تا
ہے؟
٭امجد اسلام امجد کہتے ہیں:اچھا اور اہم سوال ہے
آپ کے اس سوال کا جواب موزے تنگ نے بڑا اچھا دیا
ہے ’’موو کے مطابق ’’دنیا کا تمام ادب پروپیگنڈہ
ہوتا ہے،لیکن سارا پروپیکنڈہ ادب نہیں ہوتا۔میں
سمجھتا ہوں کہ اس سوال کا جواب یہي ہے۔سیاست ادب
کا حصہ ہے لیکن ادب سیاست کا حصہ نہیں ہے۔کسي ملک
میں اگر سیاسي بد امني ہے ۔وہ ادب میں اگر نظر آتي
ہے تو برائي نہیں ہے۔اقبال کي ساري شاعري دیکھ
لیں۔اب اس میں سیاست کیوں نہیں آسکتي،ہاں ایک قابل
ذکر بات ’’سیاست اگر ادب کے رستے سے آئے گي تو پھر
ادب کا حصہ ہو گي ،سیاست برائے سیاست ہو گي تو پھر
وہ ادب کا حصہ نہیں ہے۔خیر ادب میں سیاست کا آنا
شجر ممنوعہ نہیںہے۔سیاست کو ادب کي ٹرم پر آنا
چائیے۔سیاست جوہے زندگي سے باہر کي چیز نہیں
ہے۔میرے خیال میں اگر ادب زندگي کا آئینہ ہے تو
سیاست اس میں ہو گي۔
’ ’بي بي سي ون ڈاٹ نیٹ‘‘ :کوئي ایسا موضوع جس
پر لکھنے کو دل کر رہا ہو مگر ابھي تک لکھا نہیں؟
٭امجد اسلام امجد کہتے ہیں:جي ہاں کئي موضوعات ہیں
جن پر لکھنے کي خواہش ہے۔ اور کئي ایک ایسے میں جن
پر موروضي حالات میں لکھنا ممکن نہیں ہے۔معاشرے
میں رہتے ہو ئے بہت ساري چیزوں کا خیال رکھنا پڑتا
ہے۔ابھي ایک ڈرامہ آرہا ہے وہ ’’پاکستان ائیر
فورس‘‘پر ہے۔جبکہ دوسرا ’’1940
کا ہندوستان‘‘۔لکھا جارہا ہے اور لکھتے رہیں گے۔جب
تک لوگ پسند کریں گے۔( سوالات تو بہت سارے ہیں
لیکن پھر کسي وقت آپ سے بیٹھک ہوگي،اس پر امجد
اسلام امجد نے شکریہ ادا کرتے ہو ئے ادارے کي ترقي
کے لیے دعا کی )
|