BBCONE.NET
ہم سےرابطہ کیجۓ اشتہارات ہماری پالیسی ہمارےبارےمیں

صفحہ اول    پاکستان    عالمی دنیا    ارد گرد    رو برو    کھیل    کالم و مضامین    شوبز    عالم اسلام    کامرس    مقامی خبریں

Click here to download urdu font

Click here to download urdu font

 

وقت اشاعت :Saturday,19 April 2008, 13:00 GMT 18:00  PST

 

(بی ٹو 58 ) کا موجود رہنا ضروری ہے، ثریا نسیم چودھری کا بی بی سی ون سے انٹرویو


(انٹرویو کشورسرفراز : فوٹو مبشر علی تیموری)

رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ اسلام آباد
 

پاکستان مسلم لیگ (ق) کی رہنما اور سابق ممبر پنجاب اسمبلی ثریا نسیم چودھری نے کہا ہے کہ حکومتوں کے چیک اینڈ بیلنس کے لئے آئین کی دفعہ (بی ٹو 58 ) کا موجود رہنا ضروری ہے اور اس کی موجودگی ہی حکومت اور پارلیمنٹ کے استحکام کی ضمانت ہے۔حکمران اتحاد قوم سے کیا ہوا ججوں کی بحالی کا وعدہ پورا کرے۔انتخابات میں سب سے زیادہ ووٹ (ق) لیگ کوملے۔ارباب غلام رحیم اور ڈاکٹر شیر افگن کے ساتھ پیش آنے والے واقعات جمہوریت کے نام پر دھبہ ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بی بی سی ون سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں کہا کہ (ٹو بی 58 ) ملک کو حکومتوں کی کرپشن ان کے ناجائز کاموں سے روکنے اور قومی وسائل کا درست انداز میں استعمال کرنے کے لئے ضروری ہے۔اگر ایک حکومت ملک وقوم کے مفاد میں صحیح کام کررہی ہے تو اس کے خلاف یہ دفعہ استعمال نہیں ہوتی اس کے برعکس جو حکومت صحیح کام نہ کر رہی ہو،ملکی معیشت کو نقصان پہنچا رہا ہو،امن وامان کا مسئلہ ہو،قومی وسائل کا ضیاع ہو رہا ہو تو ایسے حلات میں اس دفعہ کا استعمال ضروری ہوجاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکمران اتحاد نے قوم سے ججوں کی بحالی کا وعدہ کیا ہے وہ اسے پورا کریں کیونکہ انہو نے انتخابات کے دوران قوم سے وعدہ کیا تھا۔اگر جج دو تہائی اکثریت سے بحال ہوتے ہیں تو انہیں دیر نہیں کرنی چاہئے لیکن لانگ مارچ،توڑپھوڑ،جلاؤ گھیراؤ کے واقعات جمہوریت کے دشمن ہیں اور ان سے جمہوریت کو نقصان پہنچتا ہے اسلئے ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ق) نے جس طرح اپنے دور اقتدار میں مثالی کام کئے ہیں اس طرح وہ اپوزیشن بنچوں پر بھی بیٹھ کر مثالی کردار ادا کرے گی۔انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ موجودہ حکومت اپنی مدت پوری کرے تاکہ عام کو ہماری حکومت اور موجودہ حکومت کے بارے میں فرق معلوم ہوسکے۔ہماری جماعت ملکی ترقی وخوشخالی اور عوام کی فلاح وبہبود کے لئے ہر کام میں حکومت کے ساھ تعاون کرے گی۔انہوں نے کہا کہ آٹے کا بحران سابقہ حکومت کا نہیں چند پسند ذخیرہ اندوزوں کا پیدا کردہ ہے۔موجودہ حکومت کو اس مسئلے پر قابو پانے کے لئے گندم کی قیمت فصل آنے پر ہی مقرر کردینی چاہئے تاکہ عوام کے ساتھ ساتھ زمیندار کو بھی اسکا فائدہ پہنچے۔انہوں کے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ وزیراعظم نے 100 دنوں میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کا جو وعدہ کیا ہے اسمیں انہیں کامیابی ہو۔انہوں نے کہا کہ لاہور اورکراچی کے واقعات جمہوریت پر ایک بدنما دھبہ ہیں ان کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ایسے واقعات کے مرتکب افراد نہ تو جمہوریت کے ساتھ مخلص ہیں اور نہ ہی کسی پارٹی کے وفادار ہیں۔موجودہ حکومت کو ان واقعات میں ملوث افراد کو گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جائے تاکہ آئندہ کسی کو ایسی حرکت کرنے کی جرات نہ ہو۔ان واقعات کا سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہ پولیس اور انتظامی اداروں کی موجودگی میں رونما ہوئے ہیں اس لئے ”جمہوریت بہترین انتقام ہے” کی دعویدار حکومت کو ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے موثر اقدامات کرنے چاہیئں۔
 

 

 

 

 

 

 

 
 
 
دوست کو بھیجیں

پرنٹ کریں

صفحہ اول
 
 

Click here to watch BBCONE Videos
 
Click here
 
Click here
 
Click here for BBCONE Photos
 

SuperWebz.com

 





تمام جملہ حقوق بحق بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ محفوظ ہیں

Bangash Broadcasting Company (pvt.) Ltd. of Pakistan