BBCONE.NET
ہم سےرابطہ کیجۓ اشتہارات ہماری پالیسی ہمارےبارےمیں

صفحہ اول    پاکستان    عالمی دنیا    ارد گرد    رو برو    کھیل    کالم و مضامین    شوبز    عالم اسلام    کامرس    مقامی خبریں

Click here to download urdu font

Click here to download urdu font

 

وقت اشاعت :Friday,25 April 2008, 08:20 GMT 13:20  PST

 

تاريخ کو موجودہ تبديليوں کے ساتھ پڑھانے کے بجائے
’’رياست اسے سياسي مفادات کيلئے استعمال کرتي ہے‘‘
ساؤتھ ايشيا کے نامور دانشور ، محقق ، ڈاکٹر مبارک علي کي’’بي بي سي ون ڈاٹ نیٹ‘‘سے خصوصي بات چیت


انٹر ویو : ڈاکٹر اشفاق رحماني

رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ لاہور
 

انڈیا کے شہر راجستھان کے قصبہ ٹوم جو معروف ادبي شخصیت اختر شیراني کي وجہ سے مشہور ہے میں1941 کو پیدا ہوئے۔ ڈاکٹر مبارک سے جب اُن کي تاریخ پیدائش کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے اپني آپ بيتي ’’دردرٹھوکر کھائے‘‘ دي اور صفحہ نمبر 12 ’’ٹونک‘‘ کي طرف اشارہ کیا۔وہ کتاب میں لکھتے ہیں کہ میں کس سنہ میں پیدا ہوا یہ ایک مشکل سوال ہے۔میں نے جب بھي والدہ سے پوچھا تو ان کا جواب یہ ہو تا کہ رمضان کا مہینہ تھا اور اس روز بہت زور دار بارش ہو رہي تھي۔لہذا اب مجھ پر تھا کہ میں خود اپني تاریخ پیدائش کا تعین کروں۔ اس لیے جب سکول کا فارم بھرا تو میں نے 24 اپریل1941 ئ اپني تاریخ پیدائش درج کر دي۔اب اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کہ میں اس دن پیدا ہوا یا نہیں اب یہي میري تاریخ پیدائش ہے اور اسي سے میں اپني عمر شمار کر تا ہوں۔ پاکستان آنے کے بعد دو یا تین سال ضائع ہو گئے۔جب سکول میں داخلہ لیا تو پانچویں جماعت میں ملا۔ اس لیے جب چھٹي یا ساتویں جماعت میں تھا تو میںنے سوچا کہ میٹرک کر تے کرتے تو میري عمر خاصي ہو جائے گي۔اس وقت سندھ میں میٹرک کا امتحان گیارہ سال کا ہوا کرتا تھا۔تعلیمي پاليسي کے مطابق میں 1956 ئ میں ادیب کا امتحان پاس کیا اور 1957 ئ میں انگریزي کا پرچہ دے کر میٹرک کیا۔میٹرک کے بعد میں نے سٹي کالج میں داخلہ لے لیا۔1957 ئ میں ہي پہلي بار کالج ٹیم کے ساتھ لاہور آیا اور یہاں کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج ، گورنمنٹ کالج ، اسلامیہ کالج اور ایف سي کالج کے مباحثوں میں حصہ لیا۔ سٹي کالج سندھ سے 1960 ئ میں گریجویشن کي ۔1961 میں جب سندھ یونیوسٹي میں بیحثیت طالب علم آیا تو اس وقت سائنس کے کچھ شعبے جام شورو میں نیو کیمپس میں منتقل ہو چکے تھے۔تاہم 1962 ئ میں ، میں نے ایم اے کے پہلے سال کا امتحان پاس کیا۔جبکہ 1963 ئ میں ایم اے کا رزلٹ آیا تو اس میں ، میري پہلي پوزیشن تھي۔تاہم 1976 ئ میں جرمني کي مشہور یونیورسٹي RUHR سے تاریخ میں Phd کي ڈگري حاصل کرنے کے بعد شعبہ تعلیم سے وابستہ ہو گئے اور سندھ یونیورسٹي میں بطور تاریخ کے پروفیسر کے طور پر عملي زندگي کي ابتدائ کي۔ 1976 ئ سے 1989 ئ تک اسي یونیورسٹي میں پڑھایا۔باقي چھ سال باہر رہنے کے ہیںڈاکٹر مبارک علي کي تاریخ پر مستند کتابیں برصغیر کي تاریخ کے حوالے سے لکھي جانے والي کتابوں میںسب سے زیادہ شہرت حاصل کر نے والے مشہور نامور دانشور و محقق نے تاریخ کے موضوع پر 8 انٹرنیشنل کانفرنسیسز کا انعقاد بھي کروایا۔ تاہم 1857 ئ کے حوالے سے ایک کانفرنس جلد منعقد کروائیں گے ۔سہ ماہي تاریخ کے نام سے ایک رسالہ بھي نکالتے ہیں۔آخري عہد مغلیہ کا ہندوستان علمائ اور سیاست تاریخ اور نصابي کتب تاریخ اور مورخ،جدید تاریخ،برطانوي راج،جاگیر داري،تاریخ اور دانشور،تاریخ اور عورت تاریخ کي روشني تاریخ کیا کہتي ہے تاریخ کي تلاش بدلتي ہوئي تاریخ اور سیاست تاریخ اور معاشرہ تاریخ اور فلسفہ تاریخ مسلمان معاشرہ کا المیہ اچھوت لوگوں کا ادب غلامي اور نسل پرستي تاریخ ٹھگ اور ڈاکو تاریخ کي روشني سندھ خاموش آواز تاریخ شناسي شاہي محل المیہ تاریخ تاریخ کے بدلتے نظریات تاریخ اور مذہبي تحریکیں تاریخ کیا کہتي ہے جہانگیر کا ہندوستان ، نجي زندگي کي تاریخ اکبر کا ہندوستان مغل دربار یورپ کا عروج تاریخ کھانا اور کھانے کے آداب، تاریخ کے موضوع سمیت اب تک ان کي 70سے زاہد مستند کتابیں شائع ہو چکي ہیں۔’’ بي بي سي ون ڈاٹ نیٹ‘‘ نے ان سے ایک ادبي انٹرویو کیا جو قارئین کي نظرہے۔
بي بي سي ون ڈاٹ نیٹ:آپ نے اپني کتاب’’تاريخ اور آج کي دنيا ميں مذہب کو سياسي و تجارتي طورپر استعمال کرنے کي بات کي ہے واقعہ لال مسجد اور اس کے بعد ہونے والے خودکش حملے اور دھماکوںکو کس نظر سے ديکھتے ہيں؟
ڈاکٹر مبارک:اچھا اس ميں ايسا ہے کہ مذہب کاتعلق چونکہ انساني زندگي اور اس کي روحاني ، سماجي، ثقافتي سرگرميوں سے بہت گہراہے اس لئے مذہبي راہنما اور سياستدان اسے اپنے مقاصد کيلئے استعمال کرتے ہيں۔ لوگوں کو تاثر ديا جاتا ہے کہ وہ دين کي خدمت کررہے ہيں ليکن در پردہ اس کے ذريعے مذہبي اور سياسي راہنما اپنے مفادات پورے کرتے ہيں يہي کچھ واقعہ لال مسجد، جامع حفصہ کے ساتھ ہوا لال مسجد انتظاميہ اور رياستي مشينري نے’’مذہب‘‘ اور دين کے نام کو استعمال کرتے ہوئے اپني اپني سياست چمکائي اور ہميشہ کي طرح اس واقعہ ميں مذہب کے نام پر اس دفعہ بے گناہ بچوں اور خواتين کو قرباني کابکرا بنايا گيا
1980 کي دہائي ميں آنے والے وافر پيسے نے چند مذہبي افراد کو دين سے دور اورکرسي کے نزديک کرديا لہٰذا اب کرسي کي لڑائي ہے جس کيلئے مذہب کو استعمال کيا جارہاہے لال مسجد ميں علمائ کا رويہ سوسائٹي کيلئے بہتر نہيں تھا۔
بي بي سي ون ڈاٹ نیٹ: ڈاکٹرصاحب کيا تاريخ اپنے آپ کو دہراتي ہے؟
ڈاکٹر مبارک:اس سے پہلے ميں يہ بتانا چاہتا ہوں کہ يہاں تاريخ کے مضمون کو موجودہ تبديليوں کے ساتھ پڑھانے کي بجائے پاکستان کي رياست اس مضمون کو اپنے سياسي مفادات کيلئے استعمال کررہي ہے جب ہم تاريخ کے مضمون کو کہ جس طرح سے وہ سکولوں، کالجوں اور يونيورسٹيوں ميں پڑھايا جاتا ہے اس کا تجزيہ کريں تو اس نتيجہ پر پہنچتے ہيں کہ اسے توڑ مڑور کر ، مسخ شدہ حالت ميں سياسي مفادات کي روشني ميں پڑھايا جاتاہے۔تاريخ کا مضمون موجودہ دور ميں انقلابي تبديليوں سے دوچار ہو کر خود کو مکمل طورپر تبديل کرچکا ہے اب يہ سياست تک ہي نہيں، ثقافت، سماجيات، ماحوليات اورگمشدہ معاشرے کے طبقات کو جن ميں عورتيں، غلام، کسان اور مزدور شامل ہيں کو تحقيق کا موضوع بناچکا ہے۔ اب آتے ہيں آپ کے سوال کي جانب تاريخ کا علم بہت وسيع ہے تاريخ کے قوانين بنانا کافي مشکل ہے۔ تاريخ ميں قوانين دريافت کرنے والوں نے اسے چار طرح سے ديکھا ہے تاہم يہ زيادہ مناسب ہے کہ تاريخ اپنے آپ کو نہيں دہراتي۔
بي بي سي ون ڈاٹ نیٹ: کيا سماج ميں تبديلي ممکن ہے روشن خيالي سے تبديلي آئے گي؟
ڈاکٹر مبارک علي:پاکستاني معاشرے ميں روشن خيال لوگوں کي جو منافقت ہے اسکاتجربہ باربار ہوا خاص طورپر ان کي حالت اس وقت ديکھنے کے قابل تھي کہ جب روس ميں تبديلي آئي اس کے ساتھ ہي وہ لوگ کہ جو سکہ بند سوشلسٹ اور کميونسٹ تھے انہوں نے راتوں رات اپنے نظريات بدل لئے اورکھلے عام يہ کہنے لگے کہ انہوںنے غلطي کي تھي اور اب مارکس ولينسن کے خيالات کي انہيں کوئي ضرورت نہيں۔ ان ميں سے اکثر گناہوں سے توبہ کرکے پکے اورسچے مسلمان ہوگئے اور اب سرمايہ داري او آزاد منڈي کي تعريف و توصيف ميں مصروف ہيں ہماري يہ روايت رہي ہے کہ ترقي پسند حضرات آخري عمر ميں مذہب ميں پناہ لے ليتے ہيں ان کي اس منافقت اور دوغلي پاليسي کي وجہ سے يہ لوگ معاشرے ميں اپني جڑيں نہيں جما سکتے۔ تبديلي بلکل ممکن ہے تاہم چند دانشور،سماجي و سياسي کارکنان اب بھي موجود ہيں اور بدقسمتي سے سماج کو بدلنے کي ايک ہاري ہوئي جنگ لڑ رہے ہيں بلکل ايسے ہي جيسے اندھيري راتوں ميں آسمان پر ستارے چمکتے ہيں اور ہلکي ہلکي روشني ديتے ہيں مگر يہ اندھيرے کو دورنہيں کرسکتے۔
بي بي سي ون ڈاٹ نیٹ: شاعري سے کوئي لگاؤ، کس قسم کي موسيقي پسند ہے؟
ڈاکٹر مبارک علي:۔سٹي کالج ميں جو چار سال گزارے وہ زندگي کے يادگار دن تھے پڑھائي کے ساتھ ساتھ کالج کي غير نصابي سرگرمياں بھي زوروں پر تھيں ميں نے بھي مضامين لکھنے اور پڑھنے کي ابتدائ يہيں سے کي يہاں ايک بار يادگار مشاعرہ کرايا گيا اس ميں مير، انشائ، مصحفي، حسرت اور غالب کا روپ دھار کر طالب علموں نے بڑي اچھي ايکٹنگ کي ميں اس ميں مصحفي بنا تھا۔ موسيقي بھلا کيسے پسند نہيں تاہم کلاسيکل ادب اور کلاسيکل موسيقي پسند ہے۔سٹيج توڑ موسيقي اور بے ڈھنگي شاعري نے ادب اور موسيقي کو بدنام کيا۔ آج کل جس طرح کي شاعري ہو رہي ہے وہ مجھے پسند نہيں۔ آج بھي مير، انشائ اور غالب کي شاعري سب ہي پسند کرتے ہيں۔
بي بي سي ون ڈاٹ نیٹ:دوران سٹڈي اور بعد ازاں بھي ملک سے باہر رہے، کوئي خاص تبديلي معاشروں کي ؟
ڈاکٹر مبارک:۔ہاں لندن ميں ميں نے ڈيڑھ سال گزارا، اس عرصہ ميں وہاں کي ثقافتي زندگي سے آہستہ آہستہ واقف ہوتا چلاگيا۔ سينما، تھيٹر ، کلب اور وہاں کي لائبريرياں و باغات، لندن شہر کي ايک خصوصيت يہ ہے کہ وہاں ہر محلہ ميں لائبريري اور پارک ضرور ہوتے ہيں جو يہاں نہيں ہے۔ ابتدائ ميں انگريزي کھانا عجيب لگتا تھا، ہاسٹل لائف ميں افريقي، ترک، ايراني، عرب اور ہندوستاني طالب علموں کے علاوہ يہودي جارج، شمون بڑا ہنس مکھ اور مذاقي لڑکا تھا۔ لندن کے تاريخي مقامات ديکھنے کيلئے پہلي بار بغير ٹکٹ سفر کيا ملک سے باہر جانے کا پہلا تجربہ جہاز کا پہلا سفر، گھروالوں سے پہلي بار اتني دوري سب سے مل کر پہلي دفعہ نروس کيا
1982 کي بات ہے کہ ميں امريکا گيا ميرے ساتھ ميري بيٹي عطيہ تھي جو اس وقت7 سال کي تھي جب ہم سان فرانسسکو کے ايئرپورٹ پر اترے تو اميگريشن سے گزر کر جب کسٹم کے پاس آئے تو ہميں اور ہمارے سامان کو عليحدہ کمرے ميں لے جايا گيا اور خوب سامان کي جانچ پڑتال ہوئي ، شايد اسي ليے امريکا مجھے پسند نہيں آيا۔
واقعات تو بہت سارے ہوئے ہيں اور ميري کتاب دردر ٹھوکر کھائے( ميري آپ بيتي) ميں کافي شامل ہيں تاہم ذہني پسماندگي ہمارے ہاں زيادہ ہے ہم اچھے مسلمان اور اچھے پاکستاني بھي نہيں بن سکے وجہ تعليمي پسماندگي جو ذہنوں کو پيچھے کي طرف ڈھکيلتي ہے اور ہم روايات کے بندھے ہوئے لوگ پسند کي شادياں کوئي بري بات نہيں ۔
٭ بي بي سي ون ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر مبارک علي کي بيگم ذکيہ مبارک نے بتايا کہ ميري ارينج ميرج تھي اس طرح سے کہ مبارک جب لندن جارہے تھے
70 کي دہائي ميں تب ان سے ملاقات ہوئي ان کي بہن انکي کافي تعريفيں کرتي تھيں اس سے بھي ان ميں لگاؤ پيدا ہوا تاہم شادي سے پہلے ہي ساري خاندان سے اچھي طرح متعارف ہوچکي تھي اس لئے اسے لو اور ارينج ميرج کہا جاسکتاہے۔
٭ جيسا کہ پروفيسر زکے بارے ميں کہاجاتاہے کہ بڑي خشک طبيعت کے مالک ہوتے ہيں ان ميں ايسي کوئي بات نہيں بہت تعاون کرتے ہيں بچوں کي تربيت ميں دونوں افراد کي شموليت سے بچوں ميں خوف والي کيفيت نہيں رہتي ہماري پہلي بيٹي عطيہ جب پيداہوئيں تو مبارک بہت خوش تھے جبکہ دوسري دفعہ مجھے بيٹے کي خواہش تھي، مبارک کہتے کہ اگر بيٹي پيدا ہوئي تو اس کا نام شہلا رکھيں گے تو شہلا آگئي ، شہلا کي پيدائش پر مبارک نے کہا کہ بچوں کي ديکھ بھال ميں کرونگا۔ تم عطيہ کو ہي سنبھالو، کافي تعاون کرنے والے ہيں، بيٹيوں کي پيدائش ہي زندگي کي خوشگوار ياديں ہيں، شہلا کي پيدائش پر ان کي بچوں کي ديکھ بھال کي آفر زندگي کا خوشگوار واقعہ ہے جو مجھے کبھي نہيں بھولتا جرمني سے جب ہم فرانس گئے تو برف باري کي وجہ سے ہماري گاڑي پھنس گئي ليکن جب ہم ميزبان کے گھر گئے تو وہ بھي برف خانے تھے۔ وہاں کي سردي اور گرم بستر ہونے کے باوجود سردي کا نہ ختم ہونے والا واقعہ ہميشہ سے يادگار رہا ميں نے کہا اس سے جرمني ہي اچھاہے۔
ہاں، نيوي بليو، براؤ نش، لائٹ شيڈ کلر پسند ہيں شادي پر اور اس کے بعد ملنے والي محبت، چاہت ہي زندگي کا سب سے بڑا تحفہ ہے جو ان کي طرف سے ملا ۔ تين بيٹياں ہيں سب سے بڑي عطيہ ہيں شکاگو میںپڑھتي ہیں۔پي ايچ ڈي کررہي ہيں، تاريخ ميں
PH-D کررہي ہيں۔ اس سے چھوٹي شہلا ہيں ايل ايل بي کرنے کے بعد شکاگو سے ہيLLM کرنے کے بعد پريکٹس کررہي ہيں وہيں پر، سب سے چھوٹي نين تارا ہيں بيکن ہاؤس سے ٹيکسٹائل ميں ڈپلومہ کررہي ہيں ۔میرے خیال میں میاں اور بیوي دونوں اپني عملي زندگي ميں بچوں کو دوستانہ ماحول فراہم کر کے ،ان کي پرورش خوشگوار اضافہ اوراچھا مستقبل بنانے کي طرف راغب کر سکتے ہيں۔
٭ ڈاکٹر مبارک ويسے تو کافي تعاون کرنے والے ہيں ليکن ان کي جلد بازي کي عادت مجھے پسند نہيں ہر چيز کا رزلٹ جلدي ميں چاہتے ہيں رزلٹ چاہے کچھ ہو، جلد بازي سے کام ليتے ہيں رزلٹ کي پرواہ نہيں کرتے۔
ہمارے ہاں دو قسم کے نوجوان ہیں ميرا خود بھي پڑھانے سے تعلق رہاہے تو متوسط طبقے کے نوجوانوں ميں احساس ذمہ داري زيادہ ہوتاہے نوجوانوں کو بہتر مستقبل کيلئے آگے کي طرف جانے والي سوچ اور فکر والا علم حاصل کرنا ہوگا اس کے بغير نوجوان ترقي نہيں کرسکتا اور معاشرہ بھي۔
ضرورت کے تحت عورت خاوند کے ساتھ معاشي طورپر مستحکم کرنے ميں اس کاساتھ دے سکتي ہے جاب کي جاسکتي کوئي حرج نہيں دراصل يہ پسماندہ سوچ ہے کہ عورت گھر سے نہيں نکل سکتي۔
 

 

 

 

 

 

 

 
 
 
دوست کو بھیجیں

پرنٹ کریں

صفحہ اول
 
 

Click here to watch BBCONE Videos
 
Click here
 
Click here
 
Click here for BBCONE Photos
 

SuperWebz.com

 





تمام جملہ حقوق بحق بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ محفوظ ہیں

Bangash Broadcasting Company (pvt.) Ltd. of Pakistan