|
ھر موڑ پر پرویز مشرف کا دفاع کرتے رہیں گے،اٹھاون
ٹو بی کا دفعہ پاکستان کے حق مین بہتر ہے۔پاکستان
مسلم لیگ سمیت محب وطن سیاسی قوتیں اٹھاون ٹو بی
کے حق میں ہے،مسلم لیگ نواز،پیپلز پارٹی اور عوامی
نیشنل پارٹی والے اس لئے مخالفت کر رہے ہیں
تاکہ کوئی انہوں کی کرپشن کو نہ روک سکیں۔نئی
حکومت زیادہ دیر نہیں چلی گی، ق لیگ کے رہنما اور
ممبر قومی اسمبلی چوھدری وجاہت حسین سے بی بی سی
ون کی خصوصی انٹرویو۔
انٹرویو: کشور سرفراز، فوٹو مبشر تیموری
رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ اسلام اباد
پاکستان مسلم لیگ (ق) کے مرکزی رہنما اور قومی
اسمبلی کے رکن چودھری وجاہت حسین نے کہا ہے کہ
موجودہ سیاسی صورتحال کے پیش نظر پارلیمنٹ کا
مستقبل بہت ر
نظر نہیں آرہا ہے نواز شریف اور زرداری اتحاد
زیادہ دیر نہیں چلے گا۔پاکستان مسلم لیگ (ق)
پارلیمنٹ میں مثالی اپووزیشن کا کردار ادا کرے
گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوموار کے روز بی
بی سی ون سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے
کہا کہ اگر پاکستان مسلم لیگ (ق) نے ملک بھر میں
مثالی ترقیاتی کام کروائے جن کی ملکی تاریخ میں
مثال نہیں ملتی لیکن چند ایسے ایشوز جن میں عدلیہ
کا بحران ،لال مسجد، سٹاک ایکسچینج،گندم اور آٹے
کا بحران،بجلی و گیس کابحران سرفہرست میں ان پر
قابو پانے میں ناکام رہی اور عوام نے ان تمام
بحرانوں کا ذمہ سابقہ حکمران جماعت کو ٹھہراتے
ہوئے 18
فروری ک ے
عام انتخابات میں ووٹ کی پرچی کے ذریعے اپنی رائے
کا اظہار کر دیا جسے ہماری جماعت نے کھلے دل اور
ذہن کے ساتھ قبول کیا اور اسطرح ہم نے ملکی تاریخ
میں ایک اور شاندار روایت قائم کہ ہے کہ عوامی
فیصلے کو تسلیم کیا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں
نے کہا کہ ججوں کی بحالی کے بارے میں اگر پارلیمنٹ
میں قرارداد سامنے آتی ہے تو اسکی حمایت اور
مخالفت کا فیصلہ ہماری جماعت کی اعلی قیادت کرے گی
اس کے بارے میں قبل از وقت کچھ نہیں کہا جا
سکتا۔انہوں نے کہا کہ صدر پرویز مشرف کو ملک کی
منتخب اسمبلیوں نے
5
سال کے لئے صدر منتخب کیا ہے اگر صدر پرویز مشرف
کے خلاف مواخذے کی کوئی قرارداد پارلیمنٹ میں پیش
ہوتی ہے تو ہم نہ صرف اسکی بھر پور مخالفت کریں گے
بلکہ ہر لحاظ سے صدر پرویز مشرف کا دفاع بھی کریں
گے کیونکہ انکی دورو اور مثبت پالیسوں کی وجہ سے
نہ صرف ملک نے مثالی ترقی کی ہے بلکہ عالمی سطح پر
بھی پاکستان کا وقار بلند ہوا ہے۔ایک سوال کے جواب
میں انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ سمیت محب
وطن سیاسی قوت 58
ٹو
بی کے حق میں ہیں۔کیونکہ اسکی موجودگی میں کوئی
بھی حکومت کرپشن نہیں کرسکتی اور اسے احتساب کا ڈر
رہتا ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی،پاکستان مسلم لیگ
نواز گروپ اور عوامی نشنل پارٹی اسی وجہ سے
58
ٹو بی کے خاتمے کا مطالبہ کر رہی ہیں تاکہ کوئی
قوت ہمارا کرپشن کا احتساب نہ کر سکے اور ہم ملکی
وسائل کو اپنے ذاتی اور سیاسی مقاصد کے لئے بے
دریغ استعمال کر سکیں۔58
ٹو بی کا مقاصد صرف یہی ہے کہ اگر کوئی حکومت غلط
کام کرے تو اس کے خلاف کاروائی کر کے ملک کو بچایا
جاسکے۔یہ دفعہ پاکستان کے حق میں بہتر ہے۔ایک
اورسوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ پاکستان
مسلم لیگ (ق) پارلیمنٹ میں ایک مثالی اپوزیشن کا
کردار ادا کرے گی اور انشااللہ ایک گرینڈ اپوزیشن
ہو گی جس میں نطریاتی طور پر ہم آہنگ تمام سیاسی
قوتیں شامل ہونگی۔ چودھری وجاہت حسین نے کہا کہ
حکومت کے ہر اس اقدام کی حمایت کریں گے جو ملک و
قوم کی بہتری اور مفاد کے لے ہو گا اور ہر اس
اقدام کی مخالفت کریں گے جو ملک و قوم کے مفاد کے
منافی ہو گا۔لیکن ایک بات واضح ہے کہ پاکستان
پیپلز پارٹی،نواز لیگ اور اے این پی کی نظریاتی
عدم ہم آہنگی کی وجہ سے یہ حکومت زیادہ دیر نہیں
چلے گی۔
|