|
صدر پرویز مشرف کے خلاف مواخزے کی قرارداد کی
بھرپور حمایت کرینگے،عدلیہ کی بحالی سمیت عوام سے
کیئےگئے تمام وعدے پورے کرینگے۔ پاکستان مسلم لیگ
(ن) فیڈرل کیپیٹل کے صدر اور نو منتخب رکن قومی
اسمبلی ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کی بی بی سی ون کو
حصوصی انٹرویو۔
انٹرویو: کشور سرفراز، فوٹو مبشر تیموری
رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ اسلام اباد
پاکستان مسلم لیگ (ن) فیڈرل کیپیٹل کے صدر اور نو
منتخب رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے
کہا کہ صدر پرویز مشرف کے خلاف مواخذے کی قرداد کی
بھرپور حمایت کریں گے ۔عدلیہ
کی بحالی کے لئے اپنا آئینی و قانونی کردار ادا
کریں گے۔سیاسی جماعتیں متحد ہو جائیں تو پاکستان
کو آمریت سے ہمیشہ کے لئے نجات مل سکتی ہے۔ان
خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز بی بی سی
ون سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا۔انہوں نے کہا کہ
ملک اس وقت سنگین سیاسی بحران سے گزر رہا ہے اور
اس کو عدالتی بحران سمیت دیگر کئی بحرانوں جن میں
آٹا، بجلی و گیس شامل ہیں کا سامنا کرنا پڑ رہا
ہے۔ان حالات کا تقاضا ہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس
فوری طور پر بلایا جائے۔ایک سوال کے جواب میں
انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) جمہوریت کی
قاتل 58
۔ٹو۔بی۔کے خاتمے کے لئے پارلیمینٹ میں بھرپور آواز
اٹھائے گی کیونکہ عوام نے پاکستان پیپلز
پارٹی،پاکستان مسلم لیگ (ن) اور عوامی نیشنل پارٹی
کو جو مینڈیٹ دیا اس کی وجہ سے پارلیمینٹ کی دو
تہائی اکثریت حاصل ہے اسے باآسانی ختم کیا جاسکتا
ہے کیونکہ ماضی میں اس کی زد میں آکر کئی منتخب
حکومتیں ختم ہوئیں۔انہوں نے کہا کہ چودھری شجاعت
جیسے تجربہ کار سیاستدان کو یہ بات زیب نہیں دیتی
کہ وہ یہ کہیں کہ موجودہ پارلیمنٹ اپنی مدت پوری
نہیں کرے گی اور دو ماہ بعد نئے انتخابات کی تاریخ
کا اعلان ہو گا۔ان حالات میں ایسی باتیں کرنا
جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ایک سوال
کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ
پاکستان مسلم لیگ (ن) کسی سیاسی مشن کی خاطر مرکز
میں حکومت میں شامل نہیں ہو رہی ہے اور نہ ہی
پنجاب میں حکومت میں کسی دوسری جماعت کو شامل کر
رہی ہے۔ہماری جماعت کا شروع دن سے موقف واضح ہے کہ
اقتدار کا حصول اس کا مقصد نہیں بلکہ جمہوریت کی
بحالی، آمریت کا خاتمہ اور آئین کی حکمرانی اس کی
حقیقی منزل ہے۔انہوں نے کہا کہ مستقبل میں مرکز
اور پنجاب میں مخلوط حکومت سے ملتی جلتی حکومت بنے
گی۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ
پاکستان مسلم لیگ (ن) پنجاب میں حکومت بنانے کے
بعد (ق) لیگ سے انتقام نہیں لے گی کیونکہ عوام نے
(ق) لیگ سے انتقام لے لیا ہے۔انہوں نے کہا کہ
پارلیمینٹ میں اپنے حلقے این۔اے۔49
کے عوام کے بنیادی مسائل کو حل کرانے،سیکٹر جی۔6
کے مکینوں کو مالکانہ حقوق دلانے اور متاثرین
اسلام آباد کے مسائل حل کروانے کی بھر پور کوشش
کرونگا۔
|