BBCONE.NET
ہم سےرابطہ کیجۓ اشتہارات ہماری پالیسی ہمارےبارےمیں

صفحہ اول    پاکستان    عالمی دنیا    ارد گرد    رو برو    کھیل    کالم و مضامین    شوبز    عالم اسلام    کامرس    مقامی خبریں

Click here to download urdu font

Click here to download urdu font

 

وقت اشاعت :Saturday,15 March 2008, 11:20 GMT 16:20 PST

 

شمالی وزیرستان کا حل مذاکرات سے ممکن ہے، نو منتخب فاٹا کے ایم این اے کامران خان کی بی بی سی ون سے گفتگو۔


(انٹرویو کشورسرفراز : فوٹو مبشر علی تیموری)

رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ  اسلام اباد
 

شمالی وزیرستان حلقہ این اے چالیس سے قومی اسمبلی کے نومنتخب رکن کامران خان نے کہا ہے کہ وزیرستان کے مسائل کا حل فوجی آپریشن نہیں بلکہ مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے۔قبائلی دہشت گرد نہیں بلکہ محب وطن ہیں۔اپنے مسائل کا حل قبائلی روایات اور ملکی آئین کے مطابق چاہتے ہیں۔فوجی آپریشن نے قبائلی نظام کو تباہ وبرباد کرکے رکھ دیا ہے۔محاذ آرائی نہیں بلکہ اپنے مسائل کا حل اور جمہوری استحکام چاہتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بی بی سی ون سے خصوصی گفتگو کے دوران کیا۔انہوں نے کہا کہ 2002 میں فوج آئی اور اس کے جبعد یہ مسئلہ شروع ہوا۔امریکہ کہ یہ پالیسی ہے کہ وہ مسلمانوں کو آپس میں لڑا کر ان کے وسائل پر قبضہ کرنا چاہتا ہے اور یہ آپریشن اسی کے ایما اور خواہش پر شروع کیا گیا ہے۔دکھ کی باتا یہ ہے کہ فوجی آپریشن شروع کرنے سے پہلے قبائلی عمائدین سے کوئی بات یا صلاح ومشورہ نہیں کیا گیا اور بغیر کسی انکوائریکے آپریشن شروع کر دیا جو بالکل غلط اور غیر منصفانہ ہے۔انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام دہشت گرد یا انتہاپسند نہیں بلکہ محب وطن ہیں جنہوں نے قیام پاکستان کے وقت بھی قائداعظم کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ملک کے لئے قربانیاں دیں اور اس کی بقا کے لئے 1965 اور 1971 جئ جنگوں میں بھی حصہ لیا۔انہوں نے کہا کہ ہم آئندہ بھی ملک وقوم کے لئے قربانیاں دینے کو تیار ہیں لیکن افسوس اس بات کا ہوتاہے کہ گزشتہ 60 سالوں سے کسی بھی حکومت نے ہمارے لئے کچھ نہیں کیا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس وقت فاٹا کے ارکان اسمبلی کی تعداد 12 ہے جن میں سے 9 اردان اسمبلی اس بات پر متفق ہیں کہ قبائلی علاقوں میں امن قائم کیاجائے جو صرف مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم پارلیمنٹ میں سب سے پہلے قبائلی علاقوں میں امن کے قیام اور بعد ازاں 40 ایف سی ار مٰںترامیم بذریعہ اصلاحات کے لئے جدوجہد کریں گے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ تاثر جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانافضل الرحمان وزیرستان کے مسئلے پر مداخلت کررہے ہیں یہ درست ہے کہ کہ ان کا قبائل میں اپنا اثرورسوخ ہے لیکن مداخلت والی بات غلط ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین آصف علی زرداری سے ملاقات ہوئی ہے۔قانون سازی اور دیگر امور میں ان کے ساتھ تعاون کریں گے لیکن اسلام آباد اور قبائلی روایات کے منافی ہر قانون کی مخالفت کریں گے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ امریکی پالیسیوں کی جس حکمران نے بھی حمایت کی ہے وہ تنہارہ گیا ہے چاہے وہ پرویز مشرف ہے یا ٹونی بلیئر انہوں نے کہا کہ ملک کی تمام سیاسی قوتوں کو چاہئے کہ وہ اپنے اختلافات بھلا کر جمہوری استحکام کے لئے کام کریں کیونکہ موجودہ بحرانی کیفت میں جمہوریت ہی ملک کو بحران سے نکال سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی ترقی و خوشحالی کے لئے پارلیمنٹ کا اپنی مدت پوری کرنا اشد ضروری ہے اور اس کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کو اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
 

 

 

 

 

 

 

 
 
 
دوست کو بھیجیں

پرنٹ کریں

صفحہ اول
 
 

Click here to watch BBCONE Videos
 
Click here
 
Click here
 
Click here for BBCONE Photos
 

SuperWebz.com

 





تمام جملہ حقوق بحق بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ محفوظ ہیں

Bangash Broadcasting Company (pvt.) Ltd. of Pakistan