|
دہشتگردی کی کاروائیوں پر قابو پانے کے لئے عوام
کا پولیس کے ساتھ تعاون اور رابطہ ضروری ہے، ڈی
آئی جی راولپنڈی ناصر خان درانی کا بی بی سی ون سے
انٹرویو۔
(انٹرویو کشورسرفراز : فوٹو مبشر علی تیموری)
رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ راولپنڈی
ڈی
آئی جی راولپنڈی ناصر خان درانی نے کہا ہے کہ دہشت
گردی کی کارروائیوں پر قابو پانے کے لئے عوام کا
پولیس کے ساتھ تعاون اور رابطہ ضروری ہے۔اکیلے
پولیس کچھ نہیں کر سکتی۔خودکش
حملہ آوروں کی آمد کی اطلاع کے بعد پولیس نے بعض
جگہوں سے گرفتاریاں بھی کی ہیں۔کھلی کچہریوں کے
باعث عوام کے بے شمار مسائل حل ہوئے ہیں۔دہشت
گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کےلئے مقدمات کی
سماعت میں تیزی لانے کی ضرورت ہے۔ان خیالات کا
اظہار انہوں نے بی بی سی ون سے خصوصی گفتگو کرتے
ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ پولیس اور خفیہ ایجنسوں
نے اٹک سے شوکت عزیز پر حملہ کیس کے ملزمان اور
تلہ گنگ سے خودکش حملہ آور کو جیکٹ سمیت گرفتار
کیا۔انہوں نے کہا کہ پولیس کیطرف سے شروع کی گئی
ڈورٹوڈور مالک مکان اور کرایہ دار کے کوائف معلوم
کرنے کی مہم بہت موثر ہے۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ
مالک مکان کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ کرایہ دار کے
کوائف کے بارے میں متعلقہ تھانے کو آگاہ کرے۔امن
وامان کی صورتحال کے بارے میں ایک سوال کے جواب
میں انہوں نے کہا کہ راولپنڈی رینج کے تینوں اضلاع
جہلم،چکوال اور اٹک میں جرائم خاصے کم ہوئے ہیں
اور 2007
میں چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں سمیت دیگر جرائم
کی شرح میں 30
فیصد کمی ہوئی ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے
کہا کہ کسی بھی شہر میں خودکش حملہ آوروں کے داخلے
کی اطلاع درست ہوتی ہے لیکن انہیں
locateکرنا
مشکل کام ہوتا ہے لیکن بعض اوقات پولیس کو اس میں
کامیابی ملتی ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی ایک
عالمی مسئلہ ہے اس پر
قابو پانا کسی ایک ادارےکے بس کی بات نہیں
ہے۔انہوں نے کہا کہ گرفتار دہشت گردوں کو فوری طور
پر پھانسی کی سزا دینا فطری انصاف کے خلاف ہے
البتہ اس حوالے سے عدالتی طریقہ کار کو تیز کرنے
کی ضرورت ہے اور دہشت گردی کے تمام مقدمات کی
سماعت فوری اور ترجیہی بنیادوں پر ہونی چایئے۔ایک
سوال کے جواب مییں انہوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے
کہ واقعہ کے بعد پولیس جائے وقوعہ پر پہنچتی ہے ۔پولیس
کسی بھی حادثہ یا واردات کی اطلاع کے بعد فوری طور
پر وہاں پہنچ جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی
کی واردتوں میں جابحق ہونے والے پولیس اہلکاروں کے
لواحقین کو 3
لاکھ سے 5
لاکھ روپے تک حکومت کیطرف سے معاوضہ دیا جاتا ہے
جو ناکافی ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ نہ صرف اس رقم
کو بڑھایا جائے بلکہ جاںبحق ہونے والے پولیس
اہلکاروں کے اہل وعیال کو مستقل مکان بھی دیا جائے
اور انکے بچو ں کی مناسب تعلیم وروزگار کا سرکاری
طور پر ہر انتظام کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ پولیس
ملازمین کے رہائشی ،سائل حل کرنے کے لئے پولیس
فاؤنڈشن کی سکیمیں توہیں لیکن اس مین رولز نہین
ہیں۔ایک آدمی کو صرف پلاٹ ملنا چایئے۔اور اس قواعد
وضبوابط کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
|