|
ججوں کي بحالي ناگزير ہے،جوڈيشل کو دو نومبر کي
حالت پر بحال کيا جائے۔ججز کے بحالي کے بغير کا م چلتا تو شايد حکومت
فيصلہ کر ليتي اور اين آر او کے تحت جو ڈيل ہوا
تھا اس کے مطابق زرداري صاحب کہہ ديتے کہ ججز بحال
نہيں ہونگے،جماعت اسلامي پاکستان کے مرکزي رہنما
سنيٹر پروفيسر ابراہيم کا بی بی سی ون کو خصوصی
انٹرویوٰ
انٹرویو: صفدر دانش ، خالدسیال
رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ اسلام آباد
جماعت اسلامي پاکستان کے مرکزي رہنما سنيٹر
پروفيسر ابراہيم نے کہا ہے کہ ملک کا اصل مسئلہ يہ
ہے کہ ہماري پاليسياں ہمارے ہاتھ ميں نہيں ہے ،ہماري
خارجہ پاليسي ،داخلہ پاليسي،معاشي پاليسي اور
ہماري تعليمي پاليسي سب امريکن ميڈ
ہيں۔جب
تک ہم ان کو اپنے ہاتھوں ميں نہ ليں،ہم آزاد
نہيں۔سنيٹر پروفيسر ابراہيم بي بي سي ون ڈاٹ نيٹ
کو خصوصي انٹرويو دے رہے تھے۔انہوں نے بتايا کہ
ہماري پاليسياں اس لئے گروي ہيں کہ امريکہ سے ہميں
امداد مل رہي ہے،حالانکہ امريکہ کي امداد بھي
حقيقت ميں امريکہ کا پيسہ نہيں ہے۔ہمارا پيسہ ہے
جو وہاں پڑا ہوا ہے وہ مل رہا ہے۔اور اسي کے عوض
ہم نے اپني آزادہ گروي رکھ دي ہے اور يہي ہمارا
بنيادي مسئلہ ہے۔
پروفيسرابراہين کا کہنا تھا کہ نواز شريف او
رزرداري ملک وقوم کے ساتھ اگر کوئي بھلائي کرنا
چاہتے ہيں تو چاہئے کہ وہ اپنا پيسہ امريکہ سے
واپس لائے۔قوم اور ملک جس مشکل ميں ہے اس مشکل ميں
اپنے آپ کو بھي ڈال ديں،وي آئي پي کلچر کا خاتمہ
کريںا ور ائيرکنڈيشن نظام کو بالکل بند کردے ۔ايوان
صدر ،وزير اعظم ہاوس اور وزيراعلي ہاوس کے خرچے کم
کئے جائيں تو ميں سمجھتا ہوں کہ ہميں امريکہ امداد
کي ضروت نہيں اور اگر ہم اپنے آپ کو امريکي امداد
سے چھڑا سکيں،ہم اُسي دِن آزاد ہونگے۔ہم اپني
پاليسياں خود بنا سکيں گے،اس سے ملک وقوم ميں
بہتري ہوگي۔جب تک ہم يہ نہيں کريں گے نيگرو پونٹے
اور اين پيٹرسن،وائسرائے کا کردار ادا کرتے رہيں
گے۔ايک سوال کے جواب ميں پرفيسر ابراہينم نے بتايا
کہ اليکشن بائيکاٹ کا ہمار افيصلہ درست تھا،اگر پي
پي پي اور پي ايم ايل ن بھي اليکشن ميں حصہ نہ
ليتے تو آج پرويزمشرف سے جان چھوٹ چکي ہوتي۔اس کا
مطلب يہ ہے کہ انتخابات ميں حصہ لينا بہت بڑا جرم
تھا،پيپلزپارٹي اور مسلم ليگ ’’ن‘‘ نے اليکشن ميں
حصہ لے کر ايک بہت بڑا جرم کيا ہے۔اس جرم کے آزالے
کے واحد صورت يہ ہے کہ پرويزمشرف کو چلتا کريں۔اگر
پرويزمشر ف کو وہ نہيں ہٹاتے تو ان کا وہ جرم
بالکل اپني جگہ برقرار ہے۔اللہ تعالي کا شکر ہے ہم
نے اِ س جرم ميں شرکت نہيں کي ہے۔
انہوں نے بتايا کہ ہمارا ايک اصولي موقف
تھا۔پرويزمشرف کي صدارتي اليکشن سے ہم نے بائيکاٹ
کيا،نہ صرف بائيکاٹ کيا بلکہ ہم نے قومي اور
صوبائي اسمبليوں سے استعفے دے ديئے ۔کيوں دے رہے
تھے ہم استعفے،اس لئے کہ ہم پرويزمشرف کو نہيں
ديکھنا چاہتے تھے۔
انہوں نے بتايا کہ پرويزمشرف صدارتي منصب پر
براجمان ہيں،اُس نے 3 نومبر کا اقدام کرليا
ہے،ججوں کو ہٹا ديا ہے، اس کے بعد وہ اليکشن کررہا
ہے،ہم کس منہ سے اس اليکشن ميں حصہ لے رہے
ہيں۔اصولاً اليکشن ميں حصہ لينا ہر صورت ميں غلط
تھا۔
انہوں نے ايک سوال کے جواب ميں بتايا کہ پرويزمشرف
غير آئيني صدر ہيں،مخلوط حکومت کو پرويزمشرف کا
مواخذہ کرنا چاہئے ۔پرويز مشرف نے تو آج تک اپنے
آپ کو قانون سے بالاتر رکھا تھا۔آصف علي زرداري سے
بھي ہماري درخواست ہے کہ اگر آپ چاہتے ہيں کہ قوم
اور ملک کا بھلا ہو تو اين آر او کے عدالت مين پيش
ہو کيونکہ اين ار او کے ذريعے جان خلاصي کا مقصد
قانون سے بالادست حيثيت ہے اسي سے سياست ميں مسائل
پيد ا ہوتے ہيں۔کيونکہ ہزاروں کي تعداد ميں بے
گناہ لوگ جيلوں کے اندر سڑ رہے ہيں،ان کا کوئي
پرسان حال نہيں۔آپ چونکہ ليڈر بن گئے ہيں اس لئے
آپ اين ار او کے راستے اپنے آپ کو چھڑا رہے ہيں۔
انہوں کا کہنا تھاکہ پيپلزپارٹي اور مسلم ليگ
’’ن‘‘ کے درميان صرف ججز کے مسئلے پر اختلاف نہيں
ہے اور بھي بہت سے مسائل ہيں۔ججوں کے مسئلہ
پرنوازشريف نے مضبوط موقف اختيار کيا ہوا ہے جبکہ
آصف علي زرداري اين آر او کے آئينے ميں ججوں کي
بحالي کے خواہشمند ہيں۔ويسے معزول ججز کے بارے ميں
آصف زرداري کے خيالات سب کے سامنے ہيں۔پروفيسر
ابراہيم کا کہنا تھا کہ اس گھمبير صورتحال کا واحد
حل يہي ہے کہ جوڈيشل کو
2
نومبر کي حالت پر بحال کيا جائے او رملک کا نظام
آئين وقانون کے مطابق چلائے۔
انہوں نے بتايا کہ ججوں کي بحالي ناگزير ہے۔ججز کے
بحالي کے بغير کا م چلتا تو شايد حکومت فيصلہ کر
ليتي اور اين آر او کے تحت جو ڈيل ہوا تھا اس کے
مطابق زرداري صاحب کہہ ديتے کہ ججز بحال نہيں
ہونگے۔بہر حال زرداري صاحب کا اب وہ موقف نہيں
بلکہ اب تو زرداري صاحب کا کہنا ہے کہ مشرف کے
ہٹانے کے لئے عوام کا دباو ہے۔ايوان صدر کے ساتھ
جو جھگڑا چل پڑا ہے اُ س سے تو لگتا ہے کہ بات بہت
آگے بڑھ گئي ہے۔
|