|
ربیع الاول۔ نور اور رحمتوں والا مہینہ
خصوصی
رپورٹ
رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ اسلام اباد
سیددارین خواجہ کو نین حبیب رب العالمین حضرت سید
نا ومولانا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کا وجود گرامی تخلیق اور آفرینش کے صدف کا وہ
در یکتا ہے جو علوم و معارف کے جہاں کا مقصود
ومطلوب ہے۔حضور حتمی مرتبت علیہ الصلوہ
والسلام تمام خوبیوں،حسانات وبرکات اور حسن وجمال
کا سرچشمہ ومطلع ہیں۔دیباچہ کتاب کائنات ہیں اور
خلاصہ کتاب حیات ہیں۔یہ ارض وسما،عرش
وفرش،خلدوجناں،حور وملائک ،جن وانس،مشارق ومغارب
نجوم وکہکشاں،علوم ومعارا اور دانش وبینش سب حضور
علیہ السلام کا صدقہ ہیں۔عرش وفرش انہیں کی
رعنائیوں اور زیبائیوں کے مرہون ہیں۔آپ صلی اللہ
علیہ وسلم کی ذات مقدس نہ ہوتی تو نہ انسان ہوتا
اور نہ ذات حق کا عرفان ہوتا:۔
وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا وہ جو نہ ہوں تو کچھ
نہ ہو جان ہیں وہ جہاں کی جان ہے تو جہان ہے اللہ
تعالی جل مجدہ نے دنیا میں لاکھوں انبیا ورسول کو
مبعوث فرمایا،ہزاروں صلحا،اتقیا اور آصفیا کو پیدا
فرمایا،ان میں سے ہر ایک کو جدا جدا شان بزرگی
مجدو کرامت اور فضیلت وشرف سے نوازا لیکن جناب
محمد رسول اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان تمام
بزرگیوں،کرامتوں،فضیلتوں اور شرافتوں کا سرچشمہ
بنایا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہزاروں
فضائل اور خصائل ایسے ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کی ذات اقدس کے سوا کسی اور کے ساتھ
مخصوص نہیں۔ان خصوصیات میں نہ تو انبیائے کرام کو
مشارکت ہے اور نہ ہی ملائکہ علیہم السلام کو حصہ
ملا ہے۔کیونکہ بشریت کے نفوس کا کمال،جو دت ماہیت
اور صفائی جو ہریت کی ،قدار پر منحصر ہوتاہے۔انبیا
علیہم السلام کے نفوس قدسیہ انسانی نفوس میں سے
نہایت ہی مصفا،نفیس اور پاکیزہ تھے۔ان کے اجسام
شریفہ تمام عیبوں سے پاک وصاف تھے۔
ان انبیا میں سے حضرت ختمی مرتب محمد رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وجود پاک،مزاج صحت،کمال
بدن،صفائی روح اور
خلق عظیم کے لحاظ سے ممتاز ترین ہے۔رب العالمین نے
اسی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بے پناہ
فضائل اور لاتعداد خصائص سے نوازا ہے۔لہذا آپ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم بے شک وشبہ سید المرسلین اور
اشرف الانبیا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خصوصیات میں سے ایک
خصوصیت یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی
روح برفتوح تمام مخلوق میں سے اول تھی۔حق سبحانہ
وتعالی نے تمام انبیا ورسول سے حضور علیہ السلام
کی نصرت واعانت اور متابعت کاعہد لیا۔اللہ تعالی
نے قرآن کریم میں انبیا کاذکر کیا توان کے نام اور
علامات سے کیا لیکن سیدنا رسالتمآب صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کو یاد فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کے اوصاف وکرامات سے یاد فرمایا۔ارشادہوا
یایھاالنبی،یایھاالرسول،یایھاالمزمل،یایھاالمدثر۔جہان
کہیں حضور علیہ اسلام کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کے نام سے پکارا گیا وہاں نبوت ورسالت کے
اوصاف بیان کرنا مقصود تھے اور حضور صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کی مدح وثنا کو واضح کرنا تھا۔
حضور صلیہ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جوامع الکم نعنی
قرآن پاک عطا کیا گیا۔دشمنوں کے دلوں میں آپ کی
ہیبت وخشیت طاری تھی۔حضور علیہ السلام پر مال
غنیمت حلال کیا گیا۔حالانکہ ایسا
مال
پہلے انبیا کے لیے جائز نہ تھا۔روئے زمین کو آپ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کی امت کے لیے مسجد قرار دیا گیا۔آپ کو
تمام مخلوق جن وانس کے لیے مبعوث فرمایا
گیا۔حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے
انبیا کرام مختلف قوموں،قبیلوں،شہروں اور قریوں کے
لیے تشریف لائے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد
کے بعد ہر قسم کی ظلی وبروزی نبوت کو ختم کردیا
گیا۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالی نے
رحمت عالمیان بناکر بھیجا۔وماارسلناک الارحمتہ
للعالمین اس پر دلیل شاہد ہے۔آپ شاہد انبیا
ہیں،نزیر اعدا ہیں،داعی اتقیا ہیں اور سراج اصفیا
ہیں،صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔
تمام انبیا علیہم السلام رضائے الہی کے طالب
تھے۔لیکن حضور پر نور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
رضا خود اللہ تعالی کو مطلوب تھی۔چناچہ قرآن کریم
نے آپ کو ولسوف یعطیک ربک فترضی کا مژدہ
سنایا۔تمام انبیا اللہ تعالی کی قسم اٹھایا کرتے
تھے مگر اللہ تعالی نے خواجہ کو نین کی جان کی قسم
کھائی۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مخصوص
عنایتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کی ذات گرامی کو تمام انبیا علیہم
السلام سے ممتاز فرمایا گیا۔لہذا آپ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم خطا سے معصوم اور زلت ولغزش سے پاک ہیں۔
قیامت کے دن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے
پہلے لحد انور سے بحیثیت سید الانبیا اور قائد
رسول اٹھیں گے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اذن
شفاعت ہوگا۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ
میں لوا الحمد ہوگا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کا ارشاد ہے اس دن میرے ہاتھ میں لوا الحمد
ہوگا۔لیکن مجھے اس پر کوئی فخر نہیں۔میں اولاد آدم
کا سردار ہوں گا۔میرے ہاتھ میں لوا الحمد
ہوگا۔لیکن مجھے کوئی فخر نہیں۔اس دن تمام انبیا
میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے۔حضور صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ہی سب سے پہلے جنت کا دروازہ کھٹکٹھائیں
گے اور اس میں داخل ہوں گے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کو حوض کوثر عطا ہوا،مقام محمود پر جلوہ گر
ہونے کا شرف ملا۔پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
ارکان رسالت اور اعیان جلالت پربہر حقیقت امتیازی
شان کے مالک ہیں۔آدم علیہ السلام کو اللہ جل مجدہ
نے آب وگل سے پیدا فرمایا لیکن حضور صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کی تخلیق کا جوہر نور اندھیری رات میں
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جسم منور روشنیاں
پھیلاتا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اندھیرے
میں بھی ہر چیز کو ایسے ہی دیکھ سکتے تھے جیسے
آفتاب کی روشنی میں۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
آگے پیچھے دیکھنے میں کوئی دقت محسوس نہیں کرتے
تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے بیداری اور
نیند یکساں تھیں۔حضرت سیدنا ابراہیم علیہم السلام
کو مقام خلت بخشا گیا لیکن سید الانبیا صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم مقام محبوبیت،حضرت ادریس علیہم
السلام کو علم خیاطی عطا ہوا سرکار علیہ السلام کو
علم معفرت عطا ہوا۔نوح علیہ السلام کو کشتی دی گئی
جو پانی میں سیر کرتی تھی لیکن حضور صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کو براق دیا گیا جس نے فضاوں اور خلاوں
کو طے کیا۔
حضرت یوسف علیہ السلام کو تعبیر خواب اور تاویل
احادیث کا مقام حاصل تھا مگر یہ مقام حضور صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلاموں کو حاصل ہوا۔حضرت
موسی علیہ السلام کو مقام کلیمی عطا ہوا مگر حضور
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حریم قریب میں جگہ دی
گئی۔داود علیہ السلام کے ہاتھ میں لوہا موم ہوجایا
کرتا تھا لیکن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
دست اقدس کی برکت سے سینوں میں لوہے سے زیادہ سخت
دل نرم ہوتے چلے گئے۔
سلیمان علیہ السلام کے لیے ہوا مسخر کر دی گئی
لیکن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے زمین
آسمان کی ہر چیز کو مسخر کر دیا گیا۔حضرت عیسی
علیہ السلام نے مردوں کو زندگی بخشی لیکن حضور صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مردہ دلوں کو زندگی بخشی
اور مردہ جانوں کا احیا کیا۔
لاکھوں سلام ہوں اشرف الانبیا علیہ السلام پر،اللہ
تعالی کے،اس کے ملائکہ کے،اس کے بندوں کے،اس کی
مخلوق کے جنہوں نے ہمیں امن وآشتی،محبت
ومودت،رواداری،ہمسایوں سے مصالحت کا درس دیا۔بنی
نوع انسان پہ شفقت ورحمت کی تعلیم دی۔گالیاں سن کر
دعائیں دیں،خون کے پیاسوں کو قبائیں دی اور فرمایا
”تمہیں ایک ایسی بات نہ بتاوں جس کا اجر ثواب نماز
و روزہ اور حج سے بھی زیادہ ہوتا ہے فرمایا الصلح
خیر”۔بہترین چیز صلح ہے اس میں خیر وبرکت ہے۔
|