BBCONE.NET
ہم سےرابطہ کیجۓ اشتہارات ہماری پالیسی ہمارےبارےمیں

صفحہ اول    پاکستان    عالمی دنیا    ارد گرد    رو برو    کھیل    کالم و مضامین    شوبز    عالم اسلام    کامرس    مقامی خبریں

Click here to download urdu font

Click here to download urdu font

 

وقت اشاعت :Saturday,05 April 2008, 13:55 GMT 18:55 PST

 

اسلامی حکومت کی اہم خصوصیات  


اصغر اکرم

رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ  اسلام آباد
 

اسلام پوری دنیا میں سب سے زیادہ روشن خیال م”ذہب ہے اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور عالمگیر مذہب ہے۔اس میں وحدت اور روشن خیالی ہے۔دین وسیاست کی جدائی اس کی رو سے غیر پسندیدہ ہے۔اس میں نہ ہی رہبانیت ہے اور نہ ہی دنیا پرستی۔خدائی احکام کی روشنی میں حقوق اللہ اور حقوق العباد کی بجاآوری اور عقائد وایمانیت کی پاسداری حقیقی دینداری ہے۔یہ سبق آج سے چودہ صدیاں قبل آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انسان کو دیا اور اس کی روشنی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری زندگیاں استوار کرنے کی تلقین کی۔آپ صلعم کی رحلت کے بعد خلفائے روشدین رضی اللہ تعالی عنہ اور آپ صلعم کے پیروکاروں نے انہیں اصولوں کو اپنایا۔اسلام دنیا میں سب سے بڑا روشن خیال مذہب ہے۔یہ روشن خیالی نہ ہی اسلام سے پہلے تھی اور نہ ہی آئندہ آئے گی۔اس کے مقابلہ میں نہ کوئی سوشلزم نی کوئی کمیونزم نہ کوئی کپیٹلزم نہ کوئی لینڈازم نہ کوئی ڈیکٹرزم اور نہ کوئی ڈیموکریٹکرزم ہے۔البتہ ڈیموکریٹکرزم اسلامکزم کے بچاس فیصد حصہ کے برابر ہے ۔جو کہ اس وقت تقریبا 80 فیصد ممالک میں نافذالعمل ہے جبکہ باقی تمام ازم تقریبا ٹوٹ چکے ہیں۔اسلام کی روشن خیالی کا اندازہ اس کی اہم خصوصیات سے باآسانی لگایا جاسکتا ہے۔اسلام حکومت کی اولین خصوصیت یہ کہ ملک خدا کا ہے۔باشندے خداکی رعیت ہیں اور حکومت اس رعیت کی مالک نہیں ہے۔رعیت اس کی غلام نہیں ہے اورحکومت اس رعیت کے سامنے بھی جوبدہ ہے۔خدا کی رعیت پر اسلامی حکومت نافذ کرنے کا طریقہ کار یہ ہے کہ حکومت لوگوں کے آزادانہ رضامندی (یعنی روشن خیالی ) سے قائم ہو۔کوئی شخص اپنی کوشش سے اقتار حاصل نہ کرے بلکہ لوگ اپنے روشن خیال (یعنی اچھے مشورے ) سے بہتر آدمی چن کر اقتدار اس کے سپرد کریں۔اگر اچھے آدمی بہت زیادہ ہوں تو خفیہ ووٹ کا انتخاب کیا جاسکتا ہے۔بشرطیکہ ووٹرز منافقانہ طرز عمل سے بچ کر اپنے ضمیر کی آواز کو صحیح طورپر استعمال کرسکیں۔خلفائے راشدین رضی اللہ تعالی عنہ میں سے ہر ایک اسی قائدے کے مطابق برسراقتدار آیا تھا۔دوسرا اہم ترین قاعدہ اسلامی حکومت کا یہ ہے کہ حکومت ان لوگوں کے مشورہ سے بنائی جائے جن کے علم،تقوی اور اصابت رائے (یعنی صحیح اور انھی رائے ) پر عام لوگوں کو اعتماد ہو۔خلفائے راشدین رضی اللہ تعالی عنہ کے عہد میں جو لوگ شوری (پارلیمنٹ) کے رکن بنائے گئے تھے وہ موجودہ جمہوریت کے لحاظ سے نامزد کردہ لوگ ہی تھے۔اسلامی حکومت کا تیسرا اصول یہ ہے کہ لوگوں کو اظہار رائے کی پوری پوری آزادی ہو۔لوگوں کے ضمیر اور ان کی زبانیں آزاد (یعنی روشن خیال) ہوں۔وہ ہر غلط کام پر بڑے سے بڑے آدمی کو ٹوک سکیں اور حق بات برملا کہ سکیں۔نوٹ: یہ چیز نظریہ فسطائیت کی نفی کرتی ہے۔اٹلی میں ایک دفعہ ایک ایسی حکومت بنائی گئی تھی جو عوام میں اس لیے فساد بھرپا کرواتی تھی کہ امن وامان میں لوگ ڈرپوک ہوجاتے ہیں۔اسلامی حکومت میں ہر شخص کو جائز بولنے اور ٹوکنے کی مکمل آزادی ہے،جس کے استعمال پر لوگ ڈانٹ اور دھمکی سے نہیں بلکہ داد اور تعریف سے نوازے جاتے ہیں۔یہ آزادی (یعنی رائے کی روشن خیالی) حکومت کی طرف سے کوئی عطیہ اور بخشش نہیں ہے جس کے لیے وہ عوام پر اپنا احسان جتلائیں۔بلکہ یہ اسلام کا عطا کردہ ایک روشن خیال دستوری حق ہے۔اسلامی حکومت کا چوتھا اصول یہ کہ خلیفہ (وزیر اعظم) اور اس کی حکومت خدا اور خلق خدا دونوں کے سامنے جوابدہ ہے۔جہاں تک خداکے سمنے جوابدہی کا تعلق ہے،اس کے شدید احساس سے خلفائے روشدین رضی اللہ تعالی عنہ پہ دن کا چین اور رات کا آرام حرام ہو گیا تھا۔اور جہاں تک عوام کے سامنے جواب دہی کا تعلق ہے،وہ ہر وقت ہر جگہ اپنے آپ کو عوام کے سامنے جوابدہ سمجھتے تھے۔ان کی حکومت کا یہ اصول نہ تھا کہ صرف مجلس شوری (یعنی پارلیمانی میٹنگ) میں نوٹس دے کر ہی ان سے سوال کیا جاسکتا ہے۔وہ ہر جمعہ کی جماعت میں عوام کے سامنے اپنی کہتے اور ان کی سنتے تھے۔نوٹ: یہ کام موجودہ جمہوری حکومت میں ملک کے بڑے حلقوں کو ختم کرکے صرف یونین کونسل کے چیئرمین،ناظمین کے ذریعے ہوسکتا ہے۔اس طرح وفاقی اور صوبائی حلقے ختم ہو جائیں گے۔جس کے ذریعے حکومت اور عوام کو بہت فائدہ ہوسکتا ہے اور یہی یونین کونسلوں کے ناظمین اپنکے وزیر اعلی کا انتخاب کرسکتے ہیں۔وہ شب و روز بازاروں میں باڈی گارڈ کے جبغیر عوام کے درمیان چلتے پھرتے تھے۔ان کے مکانوں کا دروازہ ہر شخص کے لیے کھلاتھا۔اور ہر ایک ان سے مل سکتا تھا۔ان سب مواقع پر ہر شخص ان سے جائز سوال کرسکتا تھا اور جواب طلب کرسکتا تھا۔
اسلامی حکومت کا پانچواں اصول یہ کہ بیت المال خدا کا مال اور مسلمانوں کی امانت ہے۔جن میں کوئی چیز حق کی راہ کے سواہ کسی دوسری راہ سے آنی نہیں چاہیے اور جس میں سے کوئی چیز حق کے سوا کسی دوسری راہ میں جانی نہیں چاہیے۔وزیر خزانہ اس کی ایک ایک پائی کی آمد وخرچ پر حساب دینے کا ذمہ دار ہے اور مسلمانوں کو اس سے حساب مانگنے کا پورا حق ہے۔چھٹا اسلامی اصول یہ ہے کہ کسی ملک میں اللہ اور رسل صلی اللہ علیہ وسلم کے قانون سے باہر جاکر کام کرنے کا حق نہیں ہونا چاہیے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 
 
 
دوست کو بھیجیں

پرنٹ کریں

صفحہ اول
 
 

Click here to watch BBCONE Videos
 
Click here
 
Click here
 
Click here for BBCONE Photos
 

SuperWebz.com

 





تمام جملہ حقوق بحق بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ محفوظ ہیں

Bangash Broadcasting Company (pvt.) Ltd. of Pakistan