BBCONE.NET
ہم سےرابطہ کیجۓ اشتہارات ہماری پالیسی ہمارےبارےمیں

صفحہ اول    پاکستان    عالمی دنیا    ارد گرد    رو برو    کھیل    کالم و مضامین    شوبز    عالم اسلام    کامرس    مقامی خبریں

Click here to download urdu font

Click here to download urdu font

 

وقت اشاعت :Friday,18 April 2008, 13:27 GMT 18:27  PST

 

  ”شروع اللہ کے نام سے”


رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ  اسلام آباد
 

”جس کام کے شروع میں بسم اللہ نہ پڑھی جائے،اس میں برکت نہیں ہوتی۔”(الحدیث)
مسلمان جب بھی کوئی کام کرتا ہے چاہے وہ دنیاوی ہو یا اخروی،اس کی ابتدا بسم اللہ سے کرتا ہے۔یہ اسلامی تعلیمات میں سے ایک تعلیم ہے۔”بسم اللہ الرحمن الرحیم” پوری پڑھنی چاہئے،کیوں کہ یہ ایک مستقل قرآنی آیت ہے جو قرآن حکیم میں ہر سورت (سورہ توبہ کے علاوہ) کی ابتدا سے قبل اس کی لوح پر لکھی ہوئی ہے۔سورہ توبہ پربسم اللہ نہ ہونے کی وجہ فقہا یہ لکھتے ہیں کہ سورہ توبہ مضامین کے اعتبار سے سورہ انفال ہی کا تسلسل ہے،اس لیے وہاں یہ نہیں ہے۔ قرآن حکیم میں کل
114 سورتیں ہیں اور 113 پر بسم اللہ لکھی ہوئی ہے اور یہ گنتی پوری 114 اس طرح مکمل ہوئی کہ سورہ نمل کے سیاق وسباق میں حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا کے درمیان خط وکتابت میں لکھی گئی ہے۔ ارشاد فرمایا:”وہ کہنے لگی،اے سردارو!میری طرف ایک باوقعت خط ڈالا گیا ہے جو سلیمان کی طرف سے ہے اور جو بخش کرنے والے کے نام سے شروع ہے۔”(سورہ النمل آیت 30 ) ایک اور مقام پر بسم اللہ اختصار سے بھی آئی ہے۔ارشاد فرمایا گیا:”نوح نے کہا،اس کشتی میں بیٹھ جاؤ۔اللہ ہی کے نام سے اس کا چلنا اور ٹھہرنا ہے۔یقینا میرا رب بڑی بخشش اور رحم والا ہے۔” (سورہ ہود آیت 41) اس آیہ مبارکہ یعنی ”بسم اللہ الرحمن الرحیم” کا ترجمہ یہ ہے:”شروع اللہ تعالی کے نام سے جو نہایت مہربان اور نہایت رحم والا ہے۔” اس آیت کے متن میں جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں،وہ یہ ہیں:ب،اسم،اللہ،رحمن اور رحیم۔اس آیہ مبارکہ کی تفصیل میں جانے سے قبل ان الفاظ کے معانی پر غور ضروری ہئ۔ب کے بارے میں علما نحو لکھتے ہیں کہ یہ اسم ہے اور بعض اسے فعل لکھتے ہیں۔اسم کے معنی نام ہیں۔اللہ کے معنی وہ ذات ہیں جو ہر جگہ اور ہر وقت موجود ہو۔یہ خالص عربی لفظ ہے۔انسائیکلوپیڈیا آف اسلام میں لکھا ہے :”اللہ اسم ذات خاص ہے اور بقیہ 99 اس کے صفاتی نام ہیں۔” اللہ کے نام کا اگر تجزیہ کیا جائے تو انسان ورطہ حیرت میں پڑ جاتا ہے۔اس کا ایک ایک حرف اس کے نام کی نشان دہی کرتا ہے۔اس نام میں لکھنے کے اعتبار سے تین حروف ہیں اور بولنے کے اعتبار سے چار حروف بنتے ہیں،کیوں کہ اس میں لام (ل) مشدد ہے۔اب دیکھیے اس نام کی کرامت! اس کا شروع کا الف نکال دیا جائے تو یہ لہ رہ جائے گا جس کے معنی اللہ ہی کے ہیں۔پھر اس کا لام نکال دیا جائے تو یہ صرف (ہ) رہ جائے گا جو صرف اللہ واحد ہی کا نام ہے۔
رحمن کے معنی دنیا اور آخرت میں رحم کرنے والا کے ہیں۔یہ مبالغے کے صیغے میں استعمال ہوتا ہے۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ عبرانی زبان کا لفظ ہے،عربی کا نہیں ہے،مگر نزول قرآن کے وقت سے یہ عربی میں رائج ہوگیا۔مبالغے کا صیغہ ہونے کی بنا پر اب اس کے معنی ہوں گے،بے حد رحم کرنے والا۔رحیم کے معنی بھی رحم کرنے والا کے ہیں۔علمائے کرام اور مفسرین،رحمن اور رحیم کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ رحمن میں رحیم سے زیادہ مبالغہ ہے،اگرچہ رحیم بھی مبالغے ہی کے صیغے میں ہیں،ان دونوں ہی میں کثرت ددام کا مفہوم ہے،دنیا میں اس کی رحمت عام ہے۔اس میں کوئی تخصیص نہیں ہے۔وہ کافروں،مشرکوں،ملحدوں اور مسلمانوں غرض سب کے لیے یکساں رحمانیت کی صفت پر اکیلا فائز ہے،خواہ وہ دنیا ہو یا آخرت،جب کہ رحیم کے لیے علما کا قول ہے کہ وہ آخرت میں رحیم ہوگا،یعنی اس کی رحمت صرف مومنین کے لیے خاص ہوگی۔حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”مجھ پر ایک ایسی آیت اتری ہے جو علاوہ سلیماں علیہ السلام کے کسی اور نبی پرنہیں اتری۔بادل مشرق کی طرف چھٹ گئے۔ہوائیں ساکن ہوگئیں۔سمندر ٹھہر گیا،جانوروں نے کان لگا لیے،شیاطین پر آسمان سے شعلے برسے اور اللہ تعالی نے اپنی عزت وجلال کی قسم کھا کر ارشاد فرمایا،جس چیز پر میرا نام لیا جائے،اس میں ضرور برکت ہوگی۔یعنی (بسم اللہ پڑھے)۔”
علم الاعداد کے ماہرین اس آیت کے
19 حروف بتاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ دوزخ پر 19 داروغے مامور کیے گئے ہیں،ان سے بچنے کے لیے بسم اللہ بڑھا کریں،کیوں کہ دونوں کے اعداد ایک ہی ہیں۔حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ جہنم کے 19 داروغہ ہیں جن سے بچنے کے لیے بسم اللہ کا ورد جاری رکھے۔اس کا ہر حرف ہر داروغہ سے بچاؤ کا ذریعہ ہے۔
ہر کام کی ابتدا میں بسم اللہ پڑھنے کی تعلیم آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمائی ہے اور یہ بھی فرمایا ہے :”اس کے پڑھنے سے شیطان ذلیل اور پست ہوجاتا ہے۔”
ایک حیث میں یہ بھی آیا ہے:”جس کام کے شروع میں بسم اللہ نہ پڑھی جائے،اس کام میں برکت نہیں ہوتی۔”
حضرت ابوہرہ رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ارشاد فرمایا :”جو شخص وضو میں اللہ کا نام نہ لے۔اس کا وضو نہیں ہوتا۔”یہ حدیث حسن ہے جو حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالی عنہ اور ابو سعید رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی روایت ہے۔(مسند احمد) بعض علما تو وضو میں بسم اللہ پڑھنا واجب بتاتے ہیں۔جانور ذبح کرتے وقت بھی بسم اللہ پڑھنا واجب ہے اور جس ذبیحے پر اللہ کا نام لیا گیا ہو،اسے کھانے سے بعض علما نے منع کیا ہے۔حضرت عمر بنابوسلمہ رضی اللہ تعالی عنہاروایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :”بسم اللہ کہو پھر دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ۔(صحیح مسلم)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت مسلمہ کو بسم اللہ پڑھنے کی تلقین اس لیے بھی فرمائی کہ جب جبرئیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی لے کر آئی تھے تو سب سے پہلے آپ کو تعوذ ہی پڑھائی تھی،تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام امور اللہ کے نام سے شروع ہوں۔(ابن جریر۔ابن ابی حاتم)
قرآن وحدیث کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ کسی بھی کام کی ابتدا سے قبل قرآن حکیم کی اس مختصر سورت کی تلاوت (پڑھنا) کی غرض وغایت برکت کا حصول ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 
 
 
دوست کو بھیجیں

پرنٹ کریں

صفحہ اول
 
 

Click here to watch BBCONE Videos
 
Click here
 
Click here
 
Click here for BBCONE Photos
 

SuperWebz.com

 





تمام جملہ حقوق بحق بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ محفوظ ہیں

Bangash Broadcasting Company (pvt.) Ltd. of Pakistan