BBCONE.NET
ہم سےرابطہ کیجۓ اشتہارات ہماری پالیسی ہمارےبارےمیں

صفحہ اول    پاکستان    عالمی دنیا    ارد گرد    رو برو    کھیل    کالم و مضامین    شوبز    عالم اسلام    کامرس    مقامی خبریں

Click here to download urdu font

Click here to download urdu font

 

وقت اشاعت :Saturday,12 January 2008, 17:37 GMT 22:37 PST

امريکہ مسلمانوں کو فرقوں ميں تقسيم کرنا چاہتا ہے، امن کانفرنس کراچی


 

رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ  کراچی
 

 اتحاد امت وقت کي اہم ضرورت ہے‘امريکہ مسلمانوں کو فرقوں ميں تقسيم کرنا چاہتا ہے۔محرم الحرام ميں امن کا قيام حکومت کا فرض ہے ۔ہميں معمولي مسائل کو نظر انداز کر کے رواداري کو قائم کرنا ہوگا‘ علمائ کرام نے کبھي فرقہ واريت کا فروغ نہيں چاہا‘ملي يکجہتي کونسل اور مجلس عمل اس کي واضح مثال ہيں۔ آج امام حسين علیہ السلام کے کردار کو زندہ کرنے کي ضرورت ہے۔ان خيالات کا اظہار مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام نے محرم الحرام ميں امن و امان کے قيام اور اتحاد و يکجہتي کے فروغ کیلئے جماعت اسلامي کراچي کے تحت ادارہ نور حق ميں ہونے والي ’’مذہبي رواداري و امن کانفرنس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کيا۔ کانفرنس کي صدارت جماعت اسلامي سندھ کے امير اسد اللہ بھٹو نے کي۔ اس موقع پر جماعت اسلامي کراچي کے نائب امير شيخ رفيق احمد نے ايک اعلاميہ بھي پيش کيا۔ کانفرنس سے جماعت اسلامي کراچي کے امير محمد حسين محنتي‘ جمعيت علمائے پاکستان کے صديق راٹھور‘ جماعت غربائے اہل حديث کے حافظ محمد سلفي‘ آل پاکستان شيعہ ايکشن کميٹي کے مرزا يوسف حسين‘سيد محمد باقر نقوي‘ جمعيت اتحادالعلمائ کے مولانا عبد الرؤف‘ قاري ضميراختر منصوري‘ سيد محمود فاروقي‘ مولانا ابراہيم حنيف‘ مفتي علي زمان‘جمعيت علمائے اسلام(س) کے مفتي عثمان يار خان‘ مرکزي جمعيت اہل حديث کے علامہ ارشد زاہد‘ اسلامي تحريک کے علامہ ناظر عباس تقوي‘ جمعيت علمائے اسلام (ف)کے شاہ جہاں کياني‘۔ايس ايم حيدر‘ مولانا غلام فريد و ديگر نے خطاب کيا۔اسد اللہ بھٹو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم طاغوتي قوتوں کے نشانے پر ہیں ہميں ان قوتوں کا مقابلہ کرنے کیلئے اپني صفوں ميں اتحاد اور يکجہتي پيدا کرنا پڑے گي۔ کافر مسلمانوں کو قتل کرتے وقت يہ نہيں پوچھتا کہ کون شعيہ ہے کون سني ۔ساري دنيا ہمارے پيچھے پڑي ہے ہمارے ايٹمي پروگرام کو بھي ختم کرنے کي کوشش کي جا رہي ہے۔ اتحاد امت وقت کي اہم ضرورت ہے ۔ محرم الحرام ميں ہميں مذہبي رواداري قائم کرني چاہئے۔ کفر کي سازشوں کا بہترين جواب امت کا اتحاد ہے۔ حکومت کا فرض ہے کہ امن و امان قائم رکھے ‘مگرحکومت اپنا فرض ادا نہيں کر رہي۔ حکومت اگر فرض ادا کرے تو ملک کوکئي مسائل سے بچايا جا سکتا ہے۔ہم مسلمان آپس ميں بھائي بھائي ہيں۔ اس پاکستان اور عالم اسلام ميں دشمنوں کو ناکام کر کے دم ليں گے۔محمد حسين محنتي نے کہا کہ اللہ کي کتاب کو تھامنے ہي ميں مسلمانوں کي کاميابي ہے کيونکہ فرقہ بندي دين کو ختم کر ديتي ہے۔انہوں نے کہا کہ کانفرنس کا مقصد آپس ميں بھائي چارے کے فروغ کي فضائ کو قائم کرنا ہے اور اسلام دشمنوں کو يہ باور کرادينا ہے کہ مسلمانوں کو لڑانے کي سازشيں کامياب نہيں ہو سکيتں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ عاشورہ کے ايام امن و امان سے گزرے تھے جس ميں علمائ کا کردار تھا اب بھي ضرورت اس بات کي ہے کہ علمائ اپنا کردار ادا کريں۔ مخالفانہ تقريريں نہ کي جائيں اور نہ اس نوع کي کيسٹيں تقسيم کي جائيں ۔ انہوں نے کہا کہ محرم الحرام نئے سال کا آغاز ہے اس کا تقدس ہمارے لئے ضروري ہے اسي ماہ امام حسين۱ نے يزيديت اور ملوکيت کے خلاف اپنا کردار ادا کيا تھااور واضح کر ديا تھا کہ اسلام ميں ملوکيت اور بادشاہت نہيں آج امام حسين۱ کے کردار کو زندہ کرنے کي ضرورت ہے۔صديق راٹھور نے کہا کہ کافر ممالک پاکستان کو ختم کرنے کي سازش ميں مصروف ہيں اور ہمارے ايٹم بم کو اسلامي بم سمجھتے ہيں۔ ہميں مل جل کر بھائي چارے کي فضائ قائم کرني ہو گي تاکہ مل کر کافروں کا مقابلہ کيا جا سکے۔ ہمارے حکمرانوں کو پاليسي تبديل کرنا ہو گي اور ملکي استحکام کو مضبوط کرنا ہو گا۔مولانا محمد سلفي نے کہا کہ رب کي بارگاہ ميں دعا ہے کہ وہ حقيقي معنوں ميں ہمارے دلوں کو ايک فرما دے۔ ہميں امت اسلام امت محمد بننے کي توفيق عطا فرما۔ ہميں ايک دوسرے کے لئے قرباني دينا ہو گي۔ جماعت اسلامي مبارکباد کي مستحق ہے جو اتحاد امت کے لئے کوششيں کرتي ہے۔مولانا عبد الرؤف نے کہا کہ مسلم حکمران آپس ميں متحدہوں۔ ہميں رواداري کو قائم کرنا ہے۔ معمولي مسائل کر نظر انداز کرناہو گا۔ مسلمان دنيا ميں ظلم کا شکار ہيں۔ ہميں دشمن کي سازش کا مقابلہ کرنا ہو گا۔محرم ميں بھي امن و امان کي فضا قائم کرني ہو گي کيونکہ يہ کام علمائ کا ہے ۔ حکومت اپني فرائض انجام نہيں دے رہي ہے۔قتل و غارت گري اور خودکش حملے ہوتے رہيں گے کيونکہ ہم نے اللہ کے حکم سے منہ موڑا ہے۔سيد ناظر عباس تقوي نے کہا کہ اس ملک ميں کبھي فرقہ واريت نہيں بلکہ کچھ گروپ بتائے گئے جن کي سرپرستي حکومتي اداروں نے کي۔ شيعہ سني کو لڑوانے کي کوششيں کي گئي۔ علمائ کرام نے کبھي فرقہ واريت کا فروغ نہيں چاہا‘ملي يکجہتي کونسل اور مجلس عمل اس کي واضح مثال ہيں۔ دشمنوں کاہدف فرقہ واريت نہيں بلکہ پاکستان ہے۔ حکمران اس گھناؤنے کھيل کو ختم کريں۔ اس ملک ميں کوئي محفوظ نہيں ۔ سياستدان‘ علمائ ‘ فوج ‘ پوليس کوئي بھي محفوظ نہيں ۔ علمائ اس ملک کو بچائيں کيونکہ پاکستا ن کسي فرقے کا نہيں بلکہ مسلمانوں کا ملک ہے۔مفتي عثمان يار خان نے کہا کہ ملک جس بحران سے گزر رہا ہے کبھي ايسے بحران کا شکار نہيں ہوا۔ بيروني و اندروني سازشوں کاشکار ہے۔ علمائ اس بات کا خيال رکھيں کہ کوئي فرقہ واريت کا سبب بننے والا واقعہ رونما نہ ہو۔ حکومت تو صرف نام کي ہے۔ اصل ذمہ داري علمائ کي ہے کہ مسلمانوں کي صحيح رہنمائي کريں ۔ مذہبي پروگراموں کو عقيدت و احترام سے منايا جائے۔علامہ مرزا يوسف نے کہا کہ حضرت حسين کا پيغام ہے کہ دين کي سربلندي کے لئے اگر کوئي قرباني دينا پڑے تو اس سے دريغ نہ کيا جائے۔ ہم صرف اجتماعات ميں تقارير پر اکتفا نہ کريں بلکہ محبت بانٹنے کي ضرورت ہے۔سيد باقر نقوي نے کہا کہ امريکہ اور اس کے حواري ہر جگہ مسلمانوں سے جنگ کر رہے ہيں۔ وقت کا تقاضہ يہ ہے کہ علمائ تفرقے بازي کو بھول کر امت کو متحد کريں کيونکہ کفر صرف يہ ديکھتا ہے کہ مسلمان ہے يا نہيں۔يہ نہيں ديکھتا کہ کون ديو بند ہے کون شيعہ اور کون سني ہے۔ ہم سب ايک ہيں ايک جسم کي مانند ہيں ۔ ہم صحابہ۱ سے محبت کرتے ہيں۔حضرت مولانا شاہ جہاں کياني نے کہا کہ امريکہ پورا زور لگا رہا ہے کہ مسلمانوں کو مزيد فرقوں ميں تقسيم کيا جائے۔ ہم جب متحد ہوئے تو ہم نے پاکستان بنا ليا ۔ قاديانيوں کو کافر قرار دے ديا ۔ ہميں آئندہ بھي مل کر دشمنوں کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ مجلس عمل امت کا اتحاد ہے اللہ اسے برقرار رکھے۔علامہ ارشد زاہد نے کہا کہ ہميں ان مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ ہميں آپس کے مسائل مل جل کر حل کرنے چاہئے۔ ہم ايک اللہ و رسول ۰ کے ماننے والے ہيں۔ ہم امن پسند ہيں مگر امريکہ سب سے بڑا درندہ ہے جو انسانيت کا قتل کر رہا ہے اور امن کا چيمپئن بنتا ہے۔ ہميں مل کر کفر کي سازشوں کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ہم ايک دوسرے کے دشمن نہيں بھائي ہيں۔محمود فاروقي نے کہا کہ اسلام کے نام پر حاصل کئے جانے والے ملک ميں آج تک وہ نظام قائم نہيں کيا جا سکا جس کے لئے يہ ملک حاصل کيا گيا ۔ حکمران امريکہ کے کاسہ ليس ہيں ۔ مذہبي جماعتوں کو ايک دوسرے کے ساتھ عفودرگزر سے کام لينا ہو گا۔ ہم اس عزم کا اعادہ کريں کہ ايک دوسرے کے ساتھ مل جل کر کام کريں گے۔مولانا غلام فريد نے کہا کہ امت انتشار کا شکار ہے اور کفر متحد ہے۔ مسلم حکمران بھي کفر کے ساتھ ہيں۔ ہر طرف مسلمان کا خون بہہ رہا ہے۔ ہم مل جل کر کفر کا مقابلہ کرنا ہو گا اور مشکل ميں پھنسے ہوئے مسلمانوں کو آباد کرنا ہو گا۔ ہر محاذ پر چاہے ميڈيا ہو يا ميدان جنگ ہو ہميں کفر کا مقابلہ کرنا ہو گا۔مولانا ابراہيم حنيف نے کہا کہ اتحاد امت وقت کي ضرورت ہے۔ اگر علمائ اتحاد کر ليں تو اسلام کو غلبہ نصيب ہو سکتا ہے۔ ايس ايم حيدر نے کہا کہ محرم الحرام ميں حکومت کي جانب سے خوف و ہراس کي فضائ قائم کر دي جاتي ہے۔ علمائ کي ذمہ داري ہے کہ وہ امن و امان قائم کرنے کي کوشش کريں۔ کسي کو کسي سے شکايت ہو تو علمائ کرام مل کر اس شکايت کا ازالہ کريں۔ ميڈيا انتہائي غير ذمہ دار رويہ اختيار کر رہا ہے۔ نامعلوم علمائ کو ٹي وي پر لايا جاتا ہے اگر دشمن کو نہ پہچانا تو ہم برباد ہو جائيں گے۔مفتي علي زمان نے کہا کہ پاکستان کي سالميت کو خطرہ ہے ۔ دشمنوں کي سازشوں ميں تيزي آگئي ہے۔ ہم نے اتحاد و تقويٰ کا راستہ چھوڑ ديا ہے جب ہم اتحاد و تقويٰ کے راستے کو اپنا ليں گے ہم دنيا پر غالب ہو جائيں گے۔ تقويٰ محبتوں کو پيدا کرتا ہے۔ ہمارے دلوں ميں تقويٰ کي کمي ہے۔ جب تک دلوں ميں محبت پيدا نہيں ہو گي اتحاد قائم نہيں ہو سکتا۔ مسلمان متحد ہو جائيں تو دنيا کي کوئي طاقت ان کا مقابلہ نہيں کر سکتي۔مذہبي رواداري اور امن کانفرنس ميں مولانا صديق ساجد‘ عنايت الرحمن‘ محمد رحيم‘ عبد المتين‘ محمد شاہ يوسف زئي‘ عبد الغفار صديقي‘ حيدر علي‘ احمداني‘ محمد انس مدني‘ حکيم سيد مطيع الرحمن‘ خليق الرحمن‘مولانا عبد اللہ سواتي‘ محفوظ احمد‘ حليم الرحمن‘ سيف اللہ اسماعيل‘ محمد قاسم‘ محمد حبيب الرحمن‘ محمد غلام علي‘ عبد الرحيم‘ محمد مکرم‘ عتيق الرحمن‘ سليم‘ عبد الودود‘ مصباح اللہ ‘ عباد الرحمن صديقي‘ عتيق الرحمن فيض‘ سيد عاشق عباس‘ سيد رضي حيدر‘ ريحان علي‘ سيد عرفان حسين‘ سيد حيدر علي‘ سيد محمد مظہر حسين اور ديگر علمائے کرام بھي موجود تھے۔




 

  

 


 

 

 

 
 
 
دوست کو بھیجیں

پرنٹ کریں

صفحہ اول
 
 

Click here to watch BBCONE Videos
 
Click here
 
Click here
 
Click here for BBCONE Photos
 

SuperWebz.com

 





تمام جملہ حقوق بحق بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ محفوظ ہیں

Bangash Broadcasting Company (pvt.) Ltd. of Pakistan