BBCONE.NET
ہم سےرابطہ کیجۓ اشتہارات ہماری پالیسی ہمارےبارےمیں

صفحہ اول    پاکستان    عالمی دنیا    ارد گرد    رو برو    کھیل    کالم و مضامین    شوبز    عالم اسلام    کامرس    مقامی خبریں

Click here to download urdu font

Click here to download urdu font

 

وقت اشاعت :Friday,18 January 2008, 10:15 GMT 15:15 PST

واقعہ کربلا ميں شريک اصحاب رسول علیہ السلام


خواجہ شجاع عباس
 

٤٠ھ ميں يزيد تخت نشيں ہوا۔ امام حسين علیہ السلام نے يزيد کي حکومت کو تسليم کرنے سے انکار کرتے ہوئے مدينہ سے مکہ کي طرف کوچ کيا۔ ادھرکوفہ ميں بھي يزيد کي جبري حکومت کے خاتمہ کے ليے زندہ ضمير مسلمانوں نے سوچ بچار شروع کرديااور فيصلہ کيا کہ ہميں امام حسين علیہ السلام کي قيادت ميں يزيد کي استبدادي شيطاني حکومت کو ختم کرکے عادلانہ حکومت کو پھر سے قائم کرنے کي تحريک چلاني چاہيے۔ کوفہ ميں اس تحريک کے ليے قائدانہ کردار ادا کرنے والے لوگ نبي پاک صلعم کے پاکباز صحابہ علیہ السلام اور ان کے تابعين کرام تھے۔ ذيل ميں ہم کربلا کي تحريک سے وابستہ صرف ان مقدس شخصيات کا ذکر کريں گے جن کوشرفِ صحابيت بھي حاصل تھا۔
حضرت سليمان ابن صرد الخزاعي علیہ السلام ابن حزم نے مختصر السيرۃ ميں سليمان ابن صرد خزاعي کو ان صحابہ کي فہرست ميں شامل کيا ہے جنھوں نے نبي پاک صلعم سے چودہ حديثيں روايت کي ہيں۔ خلافتِ مرتضوي کے دوران سليمان ابن صرد رضی اللہ عنہ ہر جنگ ميں امام علي کرم اللہ وجھہ کے ہم رکاب رہے۔امام علي رضی اللہ عنہ کي شہادت کے بعد امام حسن مجتبےٰٴ کي بيعت کرنے والوں ميں پيش پيش تھے۔ يزيد برسر اقتدار يا تو حضرت سليمان ابن صرد الخزاعي رضی اللہ عنہ کے گھرميں ہي دوسرے صحابہ رسول علیہ السلام اورديگر انقلابي لوگوں کا اجتماع ہوا اور متفقہ فيصلہ کي روشني ميں امام حسين ٴکو خط لکھا گيا اور وعدہ کيا گيا کہ آپ آکر امت کي امامت وحکومت کي باگ ڈور سنبھال ليجئے اور اس معاملے ميں ہم آپ کے ليے سر تن کي بازي لگائيں گے۔
حضرت سليمان ابن صرد الخزاعي خود کوميدان کربلا ميں نہ پہنچا سکے مگر امام حسينٴ کي شہادت کے تين سال بعد تحريک تواّبين کي قيادت کرتے ہوئے عين الوردہ ميں اموي فوجوں سے لڑتے ہوئے شہادت سے ہمکنار ہوئے۔ رحمۃ اللہ ورضوانہ عليہ
اب ہم رسول کريم صلعم کے اُن اصحاب رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتے ہيں جنھيں کربلا ميں امام حسينٴ کي معيت نصيب ہوئي :
1۔ حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ بن عبداللہ بن کدن الارحبي
نبي پاک صلعم کے اس صحابي رضی اللہ عنہ کا تذکرہ تمام اہم ماخذ ميں تفصيل سے ملتا ہے جيسے الاستيعاب ، الاصابہ ،تاريخ طبري وغيرہ۔
الاستيعاب کي عبارت اس طرح ہے:
ھو عبدالرحمن بن عبداللہ بن کدن الارجي۔۔۔انَّہ کان من اصحابِ النبي‘‘
وہ عبدالرحمن بن عبداللہ بن کدن الارحبي ہيں ۔۔۔ وہ نبي پاک صلعم کے اصحاب ميں سے تھے۔
يزيد کي تخت نشيني کے بعد سليمان ابن صرد الخزاعي کے گھر ميں لکھے گئے خط کو عبدالرحمن رضی اللہ عنہ بن عبداللہ الارحبي نے ہي قيس بن مسہر صيداوي اور عمارۃ بن عبداللہ السلول کے ساتھ امام حسين ٴکي خدمت ميں مکہ پہنچاياتھا۔
عبدالرحمن الارحبي بھي روز عاشورہ کربلا ميں امام حسين کے مختصر لشکر ميں شامل تھے اور يزيدي افواج سے لڑتے ہوئے شہيد ہو گئے۔ اس عظيم صحابي الرسول صلعم کے رجز کا ايک مصرعہ يوں ہے ۔
اني لمن ينکرني ابن الکدن۔۔۔۔۔۔۔اني علي دين حسين وحسن
جو مجھ کو نہيں جانتا وہ جان لے کہ ميں ابن الکدن ہوں اور حسين وحسن کے دين پر قائم ہوں۔
2۔ عبدالرحمن بن عبدربہ الخزرجي رضی اللہ عنہ
يہ نبي پاک صلعم کے ان صحابہ رضی اللہ عنہ ميں شامل ہيں جنھوں نے رحبہ ميں گواہي دي تھي کہ انھوں نے خود نبي پاک صلعم سے غدير خم کے مقام پر من کنت مولاہُ فعليُ مولاہُ(جس کا ميں مولا ہوں اس کے علي بھي مولا ہيں) فرماتے سنا تھا۔ روايات ميں بيان ہوا ہے کہ جب امام علي المرتضيٰ کرم اللہ وجھہ نے صحابہ رضی اللہ عنہ رسول صلعم سے گواہي چاہي تو پندرہ سے زيادہ صحابہ رضی اللہ عنہ نے گواہي دیدي کہ انھوںنے نبي پاک صلعم کو حديث ولايت بيان کرتے ہوئے سنا۔ ابن حجر عسقلاني نے الاصابہ في تمييز الصحابہ ميں عبدالرحمن ابن عبد ربہ کي الرحبہ ميں حديث ولايت کي گواہي دينے کے واقعے کو تفصيل سے لکھا ہے۔
حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کربلا ميں امام حسينٴ کے قافلہ سے جاملے اور روز عاشورہ شہادت سے ہمکنار ہوئے۔
3۔ حضرت زاہر بن عمر والا سلمي رضی اللہ عنہ
ان کا شمار بھي اصحابِ الشجرہ رضی اللہ عنہ ميں ہوتا ہے۔
ابن حجر عسقلاني نے الاصابہ ميں لکھا ہے:
ھوزاھربن عمرو بن الاسود۔۔۔ من اصحابِ الشجرۃ وسکن الکوفہ و روي عن النبي رضی اللہ عنہ
وہ زاہر بن عمر بن الاسود ہيں ۔۔۔آپ اصحاب رضی اللہ عنہ الشجرہ ميں سے ہيں ،کوفہ کے رہنے والوں ميں سے ہيں اورآپ نے رسول اللہ صلعم سے حديث روايت کي ہے۔
حضرت زاہر بن عمروالاسلمي رضی اللہ عنہ شہيدمظلوم حضرت عمرورضی اللہ عنہ ابن حمق کے دوستوں اور ساتھيوں ميں سے تھے۔ اس صحابي الرسول صلعم نے
60ھ ميں حج کے موقع پرامام حسينٴ کي رفاقت اختيار کي اور روزِ عاشورہ پہلے حملے ميں امام حسين ٴکي طرف سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کيا۔
4۔ حضرت مسلم رضی اللہ عنہ ابن عوسجہ
ان کا ذکر الاصابہ، الاستيعاب، ابن سعد کي طبقات الکبريٰ ،تاريخ طبري وغيرہ ميں صحابي الرسول صلعم کي حيثيت سے صراحت سے پايا جاتا ہے۔ فتوحات ميں بڑھ چڑھ کر حصہ ليا اور غزوہ آذربائيجان ميں بھي شريک رہے ۔ صفين ونہروان ميں امام علي کرم اللہ وجھہ کے ہم رکاب رہے۔ کوفہ ميں مسلمٴ اور ہاني رضی اللہ عنہ کي شہادت کے بعد مسلم رضی اللہ عنہ ابن عوسبحہ سات يا آٹھ محرم کو اپني زوجہ کے ساتھ امام حسينٴ کي خدمت ميں پہنچے اور عاشورہ کے دن نواسہ رسول رضی اللہ عنہ پر اس صحابي الرسول صلعم نے جان قربان کي اور ابدي سعادت سے سرفراز ہوئے۔
5۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ ابن ابو سفيان ابن حارث بن عبدالمطلب بن ہاشم آپ نبي پاک صلعم کے چچا زاد بھائي ابو سفيان کے فرزند تھے۔ ابن حجر عسقلاني نے الاصابہ ميں آپ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے: وکان اسمہ عبدشمس فَغيَّرہُ النبي رضی اللہ عنہ يعني آپ کا دورِ جہالت کا نام عبدالشمس تھا پھرنبي پاک صلعم نے آپ کا نام عبداللہ رکھا۔ حضرت عبداللہ کے والدِ حضرت ابو سفيان رضی اللہ عنہ الہاشمي جنگ حنين ميں ان چند بنو ہاشم ميں شامل تھے جو نبي پاک صلعم کے اردگرد جمے رہے جبکہ دوسرے لوگ بھاگ چکے تھے۔عبداللہ رضی اللہ عنہ ابن ابو سفيان رضی اللہ عنہ روزِ عاشورہ امام حسينٴ کي طرف سے لڑتے ہوئے سعادت شہادت سے آراستہ ہوکر حضورِ حق ميں چلے گئے۔
6۔ حضرت عون ابن جعفر طيار ابن ابي طالب رضی اللہ عنہ
جب جنگِ موتہ ميں حضرت جعفر ٴطيار شہيد ہوگئے تو نبي پاک صلعم نے جعفر ٴکے تينوں بيٹوں عون رضی اللہ عنہ ، عبداللہ رضی اللہ عنہ اورمحمد رضی اللہ عنہ کو بٹھايا اور پيار کرتے رہے۔ ابن حجر عسقلاني نے الاصابہ ميں بيان کيا ہے کہ عون رضی اللہ عنہ ابن جعفررضی اللہ عنہ کے بارے ميںنبي پاک صلعم نے فرمايا تھاکہ عون رضی اللہ عنہ صورت اور اخلاق ميں ميري شبيہ ہے۔
عون رضی اللہ عنہ امام علي المرتضيٰ کرم اللہ وجھہ کے بھتيجے اورداماد تھے اور اس طرح سے امام حسين ٴکے چچا زاد اور بہنوئي بھي تھے۔ کربلا ميں روز عاشورہ امام حسين ٴکے فرزند علي اکبرکي شہادت کے بعد دشمن سے لڑنے کے لئے ميدان جنگ ميں چلے گئے اور شہادت کي دولت سے مالا مال ہوکر دارآخرت کي طرف روانہ ہوگئے۔
7۔ حضرت حبيب بن مظاہر الاسدي رضی اللہ عنہ
ابن حجر عسقلاني الا صابہ ميںان کے بارے ميں بيان کرتے ہوئے کہتے ہيں :
حبيب رضی اللہ عنہابن مظاہر ۔۔۔الاسدي کان صحابياًلہ ادراک وعمرحتيٰ قتل مع الحسين
حبيب رضی اللہ عنہ ابن مظاہرصحابي رسول تھے اور وہ امام حسين ٴکے ساتھ شہيد ہونے تک زندہ رہے۔
حبيب رضی اللہ عنہ ابن مظاہر زہدوتقويٰ اور کثرت عبادت وتلاوت کے لئے مشہور تھے۔ روز عاشورہ امام حسينٴ کے مختصر لشکرکے ميمنہ کے سردار تھے۔ کربلا ميں شہادت سے پہلے انھوں نے بعض اہم کارنامے انجام ديے۔
8۔ حضرت مسلم ابن کثير الازدي رضی اللہ عنہ آپ بھي صحابي الرسول صلعم تھے ۔طبري اور ابن شہرآشوب کے مطابق آپ روزِ عاشورہ کربلا ميں حملہ اول ميں شہيد ہوئے۔انھوں نے بھي امام حسينٴ کو کوفہ آنے کے ليے خط لکھا تھا۔ مسلمٴ ابن عقيل کي شہادت کے بعد کوفہ کو ترک کرکے کربلا کے قريب امام حسينٴ سے جاملے۔ ابن حجر عسقلاني الاصابہ ميں ان کے بارے ميں لکھتے ہيں:
مسلم بن کثير بن قليب الصدفي الازدي الاعرج ۔۔۔۔۔لہ ادراک للنبي
مسلم رضی اللہ عنہ بن کثير بن قليب الصدفي الازدي الاعرج نے نبي پاک کو ديکھا تھا۔
ان کو اعرج (لنگڑا) اس ليے کہتے تھے کيونکہ امام علي المرتضيٰ رضی اللہ عنہ کے پيروي ميں لڑتے ہوئے ايک جنگ ميں ان کا ايک پاؤںزخمي ہونے کي وجہ سے اپاہج ہوگيا تھا۔
9۔ حضرت جنادہ بن کعب الانصاري رضی اللہ عنہ
آپ بھي رسول اللہ صلعم کے صحابي تھے اور کربلا ميں اپني زوجہ اور کم سن بيٹے سميت لشکر حسيني ميں شامل تھے اور اس معرکہ حق وباطل ميں انھوں نے بھي حق کا ساتھ ديتے ہوئے جام شہادت نوش فرمايا۔ تاريخ ابن عساکر کے مطابق ان کورسولِ پاک صلعم نے ايک مکتوب عطا کيا تھا جس ميں درج تھا کہ يہ مکتوب محمد رسول اللہ صلعم کي جانب سے جنادہ اوراس کي قوم اورہر اس شخص کے ليے ہے جو اس کي پيروي کرے گا کہ نماز قائم کريں اور زکوٰۃ ادا کريں اور خدا ورسول کي اطاعت کريں۔ جواس حکم پرعمل کرے گا خدا اوررسول کي امان ميں رہے گا۔ جنادہ رضی اللہ عنہ کي شہادت کے بعد اپني ماں کے حکم پر ان کا کم سن فرزند عمروابن جنادہ رضی اللہ عنہ بھي دشمنان دين سے لڑتے ہوئے شہيد ہوگيا۔ اس کم سن مجاہد نے يہ رجز پڑھا تھا:
اميري حسين ونعم الامير
سرورِ الفواد البشير النذير
علي وفاطمۃ والداہ
فھل تعلمون لہ من نظير
لہ طلعۃ مثل شمس الضحيٰ
لہ غرّۃ مثل بدرالمنير
10۔ حضرت بکر رضی اللہ عنہ ابن حي ابن علي
آپ بھي صحابي الرسول صلعم تھے اورکربلا ميں حملہ اول ميں امام حسينٴ کي طرف سے لڑتے ہوئے شہيد ہوگئے۔ ابن حجر عسقلاني نے الاصابہ ميں ان کے بارے ميں تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے :
بکر بن حي بن علي۔۔۔ لہ ادراک
بکررضی اللہ عنہ ابن حي ابن علي نے نبي پاک صلعم کي زيارت کي تھي۔
11۔ حضرت کنانہ رضی اللہ عنہ بن عتيق
آپ بھي کربلا ميںشہيد ہونے والے اصحاب رسول صلعم ميں شامل ہيں۔ ان کے اور ان کے والد کے بارے ميں ابن حجر عسقلاني نے الاصابہ ميں تصريح کي ہے کہ يہ دونوں جنگ احد ميں بھي شريک تھے۔
12۔ انس رضی اللہ عنہ ابن حارث
آپ ان سن رسيدہ شہدائے کربلا ميں شامل ہيں جن کو نبي پاک صلعم کي شرف صحابيت کے ساتھ ساتھ ان سے حديث روايت کرنے کي بھي سعادت حاصل تھي۔ابن عبدالبر نے الاستيعاب ميں لکھا ہے :
انس ابن حارث رويٰ عنہ والد اشعت بن سليم عن النبي صلعم و قتل مع الحسين رضي اللہ عنھما
انس رضی اللہ عنہ ابن حارث کے ذريعے سے اشعت ابن سليم کے والد نے نبي کريم صلعم سے (امام حسينٴ کي شہادت سے متعلق) روايت نقل کي ہے اوراس( انس رضی اللہ عنہ ابن حارث) نے امام حسينٴ کے ہمراہ شہادت پائي،اللہ ان دونوں پر راضي ہو۔
تاريخ ابن عسا کر ميں ان کے بارے ميں لکھا ہے کہ:
کان صحابياً کبيراً ممن رائَ النبي وسمع حديثہُ۔
وہ بڑے صحابي تھے جنھوں نے نبي پاک صلعم کو ديکھا تھا اور ان کي حديثيں سني تھيں۔
13۔ جندب رضی اللہ عنہبن حجير النحولاني الکوفي
ان کے صحابي رسول صلعم ہونے پر تو تمام اہل علم کا اتفاق پايا جاتا ہے مگر ان کي جائے شہادت ميں اختلاف پايا جاتا ہے۔ بعض کے مطابق وہ جنگ صفين ميں باغيوں کے خلاف لڑتے ہوئے شہيد ہوگئے تھے جبکہ بعض کے نزديک وہ کربلا ميں امام حسينٴ کي طرف سے لڑتے ہوئے شہيد ہوگئے۔
قبرِ حسينٴ کے پہلے زائر ، صحابي رسول صلعم
کربلا معليٰ کے پہلے زائر جابر رضی اللہ عنہ ابن عبداللہ انصاري البدري تھے۔ نبي پاک صلعم کے يہ جليل القدر صحابي رضی اللہ عنہ محتاج تعارف نہيں۔ واقعہ کربلا کے وقت وہ خاصے بوڑھے ہوچکے تھے اور بصارت ميں بھي بہت ضعف طاري ہوچکا تھا۔ امام حسين ٴکي دردناک شہادت کي اطلاع پاتے ہي ان کے مرقد مقدس کي زيارت کا عزم لے کر کربلا کي طرف سفر شروع کيا۔اس سفرميں مشہور محدث اور جليل القدر تابعي حضرت عطيہ عوفي رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ تھے۔ عطيہ عوفي ابھي جواں سال تھے۔ جابر ابن عبداللہ انصاري رضی اللہ عنہ
20 سفر61ھ کو کربلائے معلي پہنچے۔اس دن امام حسينٴ کا چہلم بنتا ہے۔جابر ابن عبداللہ انصاري رضی اللہ عنہ نے گريہ وزاري کے ساتھ نواسہ رسول صلعم کي خدمت ميں جن الفاظ وکلمات ميں درود و سلام عرض کيا اس کو عطيہ عوفي نے حرف بحرف آئندہ نسلوں کے ليے نقل کيا ہے اور حديث کي کتابوں ميں درج ہے۔ جابر ابن عبداللہ انصاري رضی اللہ عنہ کے اس درودوسلام کو زيارت اربعين کہتے ہيں۔ صدياں گزر گئيں مگرآج تک عاشقان نبي صلعم اس جليل القدر صحابي رضی اللہ عنہ کي تاسي ميں سينکڑوں ميل پيدل چل کر 20صفر کو مرقدِ حسين ٴپر حاضري ديتے ہيں۔ہر سال امام حسينٴ کے چہلم پر ساري دنيا سے تقريباً پچاس لاکھ لوگ کربلائے معليٰ کا سفر کرتے ہيں۔  




 

  

 


 

 

 

 
 
 
دوست کو بھیجیں

پرنٹ کریں

صفحہ اول
 
 

Click here to watch BBCONE Videos
 
Click here
 
Click here
 
Click here for BBCONE Photos
 

SuperWebz.com

 





تمام جملہ حقوق بحق بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ محفوظ ہیں

Bangash Broadcasting Company (pvt.) Ltd. of Pakistan