|
تمام تعریف اللہ کے لیے ہے
عبدالقادر شیخ
مسلمان اپنے روزمرہ کے اہم امور کی انجام دہی کے
بعد جن میں پیاس اور شکم سیری جیس معمول کے امور
بھی شامل ہیں،تو اتر کے ساتھ” الحمدللہ ” یعنی
”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہے” کہتا ہے یہ حقیقت
ہم سب کے علم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ
وسلم پر پورا قرآن حکیم بہ ذریعہ وہی نازل ہوا۔اور
وحی کی ابتدا سورہ علق کی ابتدائی پانچ آیات سے سے
ہوئی۔مگر جب قرآن حکیم کو ترتیب دیا گیا تو یہ
ابتدائی آیات آخری پارے میں ترتیب دی گئیں اور
قرآن حکیم کی ابتدا الحمدللہ سے کی گئی۔ان الفاظ
کے معنی ہیں:”تمام تعریف اللہ کے لیے ہے” اس سے
مراد یہ ہے کہ تعریف کے قابل صرف اللہ کی ذات
ہے۔حمد کے معنی تعریف،قابل تعریف اور شکر کے بھی
آتے ہیں۔ایک اور مقام پر لکھا ہے کہ حمد وہ تعریف
ہے جو فضلیت کی وجہ سے کی جاتی ہے،۔گویا ان خوبیوں
کی وجہ سے بھی جو دوسری ذات کو مسخر کرلے۔اللہ کی
ذات کے سامنے تمام ذاتیں ہیج ہیں۔سب اسی کے تابع
اور غلام ہیں۔یہی وجہ ہے کہ کائنات کا ہر ذرہ ازل
سے ابد تک اسی کی تعریف کرتا رہا ہے اور کرتا رہے
گا۔
مذہب کے علاوہ اگر دنیاوی زندگی پر غور کیا جائے
تو کسی بھی ذات کی تعریف دو وجوہ کی بنا پ رکی
جاتی ہے:
اس میں کوئی حسن وخوبی یا کوئی کمال ہو۔
وہ ہمارا محسن ہو اور ہم اعتراف نعمت کے جذبے سے
سرشار ہو کر اس کی خوبیوں کا ذکر کریں۔
اب دیکھیے! ذات الہی ان دونوں حیثیتوں میں صاحب
تعریف ہے۔مسلمان جب بھی اللہ کا شکر ادا کرتا ہے
تو یہی الفاظ ادا کرتا ہے،یعنی ”الحمدللہ” خواہ وہ
کھانے کے بعد ہو یا کسی بھی کام کے اختتام پر،وہ
رب العزت کی حمد انہی الفاظ سے کرتا ہے۔
حمد کی تین قسمیں ہیں:
حمد قولی یعنی اپنی زبان سے شکر ادا کرنا۔
حمد فعلی یعنی جسم کے ساتھ شکر ادا کرنا جیسے
نماز،وغیرہ۔
حمد حالی یعنی ہر حال میں اللہ کی تعریف خلوص دل
اور سچی روح کے ساتھ کرنا۔
چوں کہ قرآن حکیم کی ابتدا اسی آیت مبارکہ سے
ہورہی ہے،اسی لیے اسے سورہ الحمد بھی کہا جاتا
ہے،کیوں کہ اس میں خدا نے خود اپنی حمد درج کی
ہے،اس لیے حمد پر زیادہ توجہ کی ضرورت محسوس کی
گئی۔
اس سورہ مبارکہ کا دوسرا مشہور نام ”الفاتحہ” ہے
جس کے معنی ابتدا اور کتاب کا دیباچہ کے ہیں۔یہ
دونوں معنی ہی قریب ترین ہیں۔ملاحظہ فرمایئے! آپ
جوں ہی قرآن کھولتے ہیں تو ابتدا ہی میں اسی سورہ
مبارکہ پر نظر پڑتی ہے۔مضامین کے اعتبار سے بھی یہ
دیباچہ ہے جو کسی بھی کتاب کی ابتدا یا شروعات پر
لکھا جاتا ہے۔”فاتحہ” لفظ ”فتح” کے ہیں۔قرآن بھی
اس سے شروع ہورہا ہے۔”فتاح” کھولنے والے کو کہا
جاتا ہے۔”الفتاح” اللہ کے
99
صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔اسے اس معنی میں
بھی لیا جاسکتا ہے جو ایک دعائیہ کلمہ ہے:” یا
فتاح” یعنی میرا دل کھول! اگر یہ جملہ تلاوت سے
قبل ادا کرلیا جائے تو برکات میں ضافہ ہوجاتا
ہے۔اس کا دوسرا نام ”فاتحتہ الکتاب” بھی ہے۔احادیث
میں اس سورہ مبارکہ کے کچھ اور نام بھی آئے ہیں
جیسے ام القرآن،اسبع
المثانی،اشفا،الرقیتہ۔وافیہ،کافیہ اور الکنز!حدیث
قدسی میں آیا ہے کہ اللہ تعالی نے اررشاد فرمایا
ہے:”فاتحتہ الکتاب میرے عرش کے خزانوں میں سے ایک
خزانہ ہے۔” اسے سورہ المثانی بھی کہتے ہیں،کیوں کہ
یہ ہر نماز میں دو بار ضرور پڑھی جاتی ہے۔اسے سورہ
الصلوہ بھی کہا جاتا ہے،کیوں کہ یہ نماز میں پڑھنا
بعض کے نزدیک واجب اور بعض کے نزدیک فرض ہے۔اسے
سورہ الاساس اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ قرآن حکیم
کی بنیاد ہے،بالکل اسی طرح جیسےکسی عمارت کی تعمیر
کے وقت بنیاد کی پہلی اینٹ رکھی جائے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں:”جب
تو بیمار ہوجائے یا تجھے صحت کی شکایت ہوجائے تو
اساس کو لازم پکڑ!”
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو سعید بن المعلی
رضی اللہ تعالی عنہ سے ارشاد فرمایا:”کیا میں تجھے
ایسی سورت نہ سکھاؤں جو قرآن میں (از روئے فضائل)
سب سورتوں سے بڑی ہے؟”
پھر ارشاد فرمایا:”وہ سورت الحمداللہ ہے۔وہ سات
آیات ہیں جو مکرر پڑھی جاتی ہیں۔”
اس آیہ مبارکہ کے بارے میں ایک حدیث قدسی میں آیا
ہے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:”میں نے نماز کو
اپنے اور اپنے بندوں کے درمیان تقسیم کردیا
ہے۔”(صحیح مسلم کتاب الصلوہ)
یہاں صلوہ سے مراد فاتحہ ہے جس کا نصف حصہ اللہ
تعالی کی حمد وثنا اس کی رحمت وربوبیت اور عدل
وبادشاہت کے بیان میں ہے اور نصف حصے میں
دعاومناجات ہے جو بندہ اپنے پروردگار کی بارگاہ
میں کرتا ہے۔اس حدیث قدسی میں سورہ فاتحہ کو نماز
سے تعبیر کیا گیا ہے۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
کا ارشاد مبارک ہے:”اس شخص کی نماز نہیں جس نے
سورہ فاتحہ نہیں پڑھی۔” صحیح بخاری ومسلم)
یہ سورہ مبارکہ مکی ہے۔فقہا مکی یا مدنی کی تعریف
میں لکھتےہیں کہ جو سورتیں ہجرت یعنی
13
نبوت سے قبل نازل ہوئیں،وہ مکی ہیں،خواہ ان کا
نزول مکہ میں ہوا ہو یا اس کے اطراف وجوانب
میں۔اور مدنی وہ سورتیں ہیں جو ہجرت کے بعد نازل
ہوئیں،خواہ وہ بھی مدینے میں نازل ہوئی ہوں یا اس
کے اردگرد کے علاقے میں یا اس سے بھی دور،حتی کے
مکے میں یا اس کے اطراف میں نازل ہوئی ہوں،وہ سب
مدنی کہلائیں گی۔
مسلمان اپنے روزمرہ کے اہم امور کی انجام دہی کے
بعد جن میں پیاس اور شکم سیری جیسے معمول کے امور
بھی شامل ہیں،تواتر کے ساتھ ”الحمدللہ” یعنی ”تمام
تعریف اللہ کے لیے ہے” کہتا ہے۔یہی نہیں،بلکہ وہ
جب ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو سلام کرتے ہیں۔سلام
کے جواب کے بعد مزاج پرسی ہوتی ہے تو اس وقت بھی
الحمدللہ کہا جاتا ہے جس کا واضح مطلب اللہ کی
تعریف وتوصیف یا شکر ہوتا ہے۔نیز کسی اچھی چیز کی
تعریف میں بھی بعض وقت اس چیز کی تعریف میں
”الحمدللہ ” کہتے ہیں جس کا مطلب عمومی طورپر یہی
لیا جاتا ہے کہ ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔”
|