|
محترمہ بے نظير بھٹو کو جب ہسپتال لايا گيا تو ان
کا سانس اور دل نہيں چل رہا تھا ڈاکٹر مصدق اے خان
رپورٹ :
بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ اسلام آباد
راولپنڈي ميڈيکل کالج اور الائيڈ ہسپتال کے پرنسپل
پروفيسر ڈاکٹر مصدق اے خان نے کہا ہے کہ سابق
وزيراعظم محترمہ بے نظير بھٹو جب زخمي حالت ميں
راولپنڈي جنرل ہسپتال کے شعبہ ايمرجنسي ميں پہنچيں
تو اس وقت ان کا سانس اور دل نہيں چل رہا تھا
45منٹ تک ہم نے ان کي جان بچانے کي سرتوڑ کوششيں
کيں جو کامياب نہ ہو سکيں ۔ تاہم بے نظير بھٹو کے
سر ميں ايک گہر زخم تھا جمعرات کو اين اين ئي سے
خصوصي بات چيت کرتے ہوئے انہوں نے بتاياکہ سابق
وزيراعظم محترمہ بے نظير بھٹو کو جيسے ہي ہسپتال
ميں لايا گيا تو ان کا علاج معالجہ فوري طورپر
شروع کرديا گيا اور متعلقہ ڈاکٹرز اور پيراميڈيکل
سٹاف موقع پر پہنچ گياتھا۔جب ہم نے ان کا معائنہ
کيا تو اس وقت ان کي سانسيں اور دل نہيں چل رہا
تھا ميرے ہمراہ ڈاکٹروں کي ايک پوري ٹيم تھي جنہوں
نے 45منٹ تک محترمہ کو ہوش ميں لانے کي کوشش کي
ليکن تمام تر کوششيں بار ور ثابت نہ ہوسکيں انہوں
نے بتاياکہ بے نظير بھٹو کے سر کا زخم بہت گہرا
تھا جو ان کي ہلاکت کا باعث بنا جب ان سے پوچھا
گيا کہ محترمہ بے نظير بھٹو کو کتني گولياں لگيں
تو انہوں نے بتاياکہ ميڈيکل رپورٹ ميں ساري
صورتحال واضح ہو جائے گي اس حوالے سے ابھي کچھ
کہنا قبل از وقت ہو گا دوسري جانب سرجري کي ڈاکٹر
شفگتہ ڈاکٹر سلميٰ ڈاکٹر عرفان اور ڈاکٹر ياسر نے
شعبہ ايمرجنسي ميں صحافيوں کو بتاياکہ بے نظير
بھٹو کو سر ميں دماغ والي جگہ پر گولي لگي تھي اور
ان کا دماغ بري طرح متاثر ہوا تھا تاہم جب انہيں
ہسپتال ميں لايا گيا تو اس وقت ان کي سانس نہيں چل
رہي تھي۔
|