|
قراردادوں سے ججز بحال نہیں ہو سکتے۔ تین نومبر کے
اقدامات کو قرارداد کے ذریعے ختم نہیں کیاجا سکتا۔
آئینی تحفظ حاصل ہے۔
رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ راولپنڈي
راولپنڈی میں صدر مشرف کے زیر صدارت قانونی اور
آئینی ماہرین کا اجلاس ختم ہوگیا ہے۔صدارتی کیمپ
آفس میں صدر مشرف کے زیر صدارت اجلاس میں آٹارنی
جنرل ملک قیوم،سنیٹر
قانون دان شریف الدین پیرزادہ سمیت اہم شخصیات نے
شرکت کی ہے۔اطلاعات کے مطابق اٹارنی جنرل ملک قیوم
اور قانونی مشیر شریف الدین پیرزادہ نے موقف
اختیار کیا ہے کہ
3
نومبر 2007
کے اقدامات کو آئینی تحفظ حاصل ہے۔جنہیں پارلیمنٹ
میں قرارداد کے ذریعے ختم نہیں کیاجاسکتا۔اٹارنی
جنرل ملک قیوم اور شریف الدین پیرزادہ نے صدر مشرف
کو یقین دلایا کہ سادہ اکثیت سے ججز بحال نہیں ہو
سکتے۔واضح رہے کہ کل اعلامیہ مری میں پاکستان
پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری اور
مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف نے مشترکہ پریس
کانفرنس کے دوران اعلان کیا تھا کہ نئی پارلیمنٹ
تیس دن کے اندر مغزول ججوں کو بحال کریں گے۔دریں
اثنا امریکی اخبار وشنگٹن ٹائمز میں پیر کو شائع
ہونے والے ایک انٹرویوں میں صدر مشرف نے کہا ہے کہ
سیاسی استحکام ان کی اولین ترجیح ہے ۔ایوان صدر
اور نئی منتخب پارلیمنٹ کے درمیان لڑائی تباہ کن
ہوگی۔میں آنے والی حکومت کے ساتھ پورے پانچ سال
چلنے کا منتظر ہوں۔اس کے بعیر معاشی ترقی کے تسلسل
اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کا مقصد
حاصل نہیں کیا جاسکتا۔مستعفی ہونے سے متعلق ایک
سوال کے جواب میں صدر مشرف کا کہنا ہے کہ یہ درست
ہے کہ انتخابات میں پیپلزپارٹی کو سب سے زیادہ
عوام کا اعتماد حاصل ہوا ہے تاہم اس سے زیادہ اس
کا کوئی اور مطلب لینا خطرناک ہوگا۔انہوں نے کہا
کہ مجھے حالیہ انتخابات پر فخر ہے۔اگر میرے اور
ماضی کے وردی والوں کاجائزہ لیاجائے تو اس میں فرق
واضح ہو جائے گا۔میرے خیال میں بہت سے میڈیا والوں
نے ماضی میں وردی والوں کو نہیں دیکھا۔
|