|
آصف
علي زر داري اور امين فہيم کي ملاقات ناراضگي ختم
اہم فيصلے مشاورت سے کر نے پر اتفاق آج پھر مليں
گے ،وزارت عظمی کامضبوط اميدوار ہوں زر داري وزير
اعظم بننے کے خواہش مند ہيں تو مجھے کوئي اعتراض
نہيں، امين فہيم ۔
رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ اسلام آباد
پاکستان پيپلز پارٹي کے شريک چيئر مين آصف علي زر
داري اور سينئر وائس چيئر مين مخدوم امين فہيم نے
ناراضگي ختم کر کے تمام اہم فيصلے مشاورت سے کر نے
پر اتفاق کيا ہے اورفيصلہ کيا ہے کہ دونوں رہنمائ
(آج ) جمعرات کو ايک بار پھر اہم امورپر تبادلہ
خيال کريں گے جبکہ پيپلز پارٹي کے سينئر رہنما
خورشيد شاہ نے کہا ہے کہ سولہ مارچ کو پارليماني
پارٹي کے اجلاس کے بعد قوم کو متفقہ
فيصلے سے آگاہ کر ديا جائے گا ۔بدھ کي شب زر داري
ہاؤس ميں پارٹي کے وائس چيئر مين مخدوم امين فہيم
نے شريک چيئر مين آصف علي زر داري سے تفصيلي
ملاقات کي ۔ذرائع کے مطابق دونوں رہنما ؤں کے
درميان دو گھنٹے تک جاري رہنے والي ملاقات انتہائي
خوشگوار ماحول ہوئي ۔ ملاقات ميں دونوں رہنماؤں اس
بات پر اتفاق کيا کہ ملاقاتوں کا سلسلہ جاري رہے
گا اور اس حوالے سے (آج)جمعرات کو مخدوم امين فہيم
دوبارہ آصف علي زر داري سے مليں گے ذرائع کے مطابق
ملاقات ميں دونوں رہنماؤں نے باہمي اختلافات ختم
کر کے تمام اہم فيصلے مشاورت سے کر نے پر اتفاق
کيا ۔ ملاقات ميں مخدوم امين فہيم نے آصف علي زر
داري کو پيشکش کي کہ اگر وہ وزير اعظم بننا چاہتے
ہيں توانہيں اس پر
کوئي اعتراض نہيں ۔ جس پر آصف علي زر داري نے
کہاکہ ميں وزير اعظم بننے کا خواہش مند نہيں ہوں ۔
پارٹي کے رہنما ايسے تجاويز دے رہے ہيں انہوںنے
مخدوم امين فہيم کو يقين دلايا کہ پارٹي ميں ان کي
رائے کو اہميت دي جائے گي اور تمام اہم فيصلے ان
کي مشاورت کے ذريعے کئے جائيں گے اور ہر فيصلے ميں
ان کے مشورے کو اہميت حاصل ہوگي۔ذرائع کے مطابق
دونوں رہنماؤں نے الگ کمرے ميں ملاقات کي اور
اکٹھے بيٹھ کر کھانا کھايا جبکہ ديگرقائدين دوسرے
کمرے ميں موجود تھے ۔ملاقات کے بعدجب مخدوم امين
فہيم ميڈيا سے بات کئے بغير روانہ ہوگئے ۔ تو
اليکٹرانک ميڈيا ميں مختلف قياس آرائياں شروع
ہوگئيں اور دونوں رہنماؤں کي ملاقات ميں ڈيڈ لاک
پيدا ہو نے اور امين فہيم کے کھانا کھائے بغير چلے
جانے کي خبريں جاري کر دي گئيں تاہم چند ہي لمحوں
بعد امين فہيم ايک نجي ٹي وي چينل سے بات چيت کرتے
ہوئے کہاکہ ملاقات ميں کوئي ڈيڈ لاک پيدا نہيں ہوا
اور آصف علي زر داري اور ميرے درميان کسي قسم کا
کوئي اختلاف نہيں ہے۔ انہوںنے کہاکہ آصف علي زر
داري سے دو گھنٹے ملاقات خوشگوار ماحول ميں ہوئي
ہے اور ميں نے ان کے ساتھ کھل کر باتيں کي ہيں ۔
ان کے ساتھ کھانا کھايا ۔ايک سوال پر انہوں نے
کہاکہ ميں وزير اعظم کا مضبوط اميدوار ہوں اور اس
حوالے سے مشاورت کر کے فيصلے کئے جائيں گے ۔انہوںنے
کہاکہ اگر آصف علي ز رداري وزير اعظم بننے کے
خواہش مند ہيں تو مجھے کوئي اعتراض نہيں ۔ انہوںنے
بتايا کہ ابھي قومي اسمبلي کے اجلاس ميں چار روز
باقي ہيں اور اس دور ان تمام معاملات طے کر ليئے
جائيں گے اور جيسے ہي کسي حتمي فيصلے پر پہنچتے
ہيں تو ايک لمحہ ضائع کئے بغير ميڈيا کو آگاہ کر
ديا جائیگا ۔انہوں نے کہاکہ خواجہ آصف کي طرف سے
ديئے گئے بيان کے حوالے سے آصف علي زر دار ي اور
مسلم ليگ نواز کے صدر شہباز شريف سے بات کي ہے
مخدوم جاويد ہاشمي کي طرف خواجہ آصف کے بيان پر
معذرت کر نے کے حوالے سے انہوںنے کہاکہ مخدوم
جاويد ہاشمي بھلے آدمي ہيں۔ دريں اثنائ پيپلز
پارٹي کے سينئر رہنما خورشيد شاہ نے ميڈيا سے
گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ مخدوم امين فہيم پارٹي کے
سينئر رہنما ہيں اور ہر رہنما اچھي جگہ جانا چاہتا
ہے آئندہ وزير اعظم عبوري نہيں بلکہ مستقل ہوگا ۔انہوںنے
کہاکہ مري ملاقات ميں صرف مخدوم امين فہيم نہيں
بلکہ چوہدري احمد مختار شاہ محمود قريشي اور يوسف
رضا گيلاني سميت کئي سينئر رہنما موجود تھے اس لئے
ميڈيا ايسے معاملات کو غير ضروري طورپر بڑھا چڑھا
کر پيش نہ کرے ۔انہوں نے کہاکہ
16
مارچ کو پارليماني پارٹي کا اجلاس منعقد ہورہا ہے
۔جس کے بعد متفقہ فيصلے سے قوم کو آگاہ کريں گے ۔ايک
سوال کے جوا ب ميں انہوں نے کہاکہ نئي حکومت
ابتدائي سو دن ميں عوام کو ريليف دينے کي کوشش
کریگي موجودہ حالات ميں تمام خواہشات اور توقعات
پوري ہونا آسان نہيں تاہم کوشش کرينگے کہ عوام کو
زيادہ سے زيادہ ريليف دے سکيں ۔
|