BBCONE.NET
ہم سےرابطہ کیجۓ اشتہارات ہماری پالیسی ہمارےبارےمیں

صفحہ اول    پاکستان    عالمی دنیا    ارد گرد    رو برو    کھیل    کالم و مضامین    شوبز    عالم اسلام    کامرس    مقامی خبریں

Click here to download urdu font

Click here to download urdu font

 

وقت اشاعت :Thursday,13 March 2008, 17:40 GMT 22:40 PST

 

وزارت عظمی مخدوم امین فہیم کا حق ہے،مخدوم امین فہیم کے خلاف ن لیگ کے تیسرے درجے کی لیڈرشپ کی طرف سے الزامات بدنیتی پر مبنی ہیں، پیپلز پارٹی کے اندر موجود بعض لوگوں نے کچھ ایسی صورتحال پیدا کی ہے۔لیکن آصف زرداری اور مخدوم امین فہیم کی سوچ اور اپروچ میں کوئی فرق نہیں آیا۔اے آر ڈی کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل اورسابق وفاقی وزیر مملکت منیر حسین گیلانی کی بی بی سی ون سے خصوصی انٹرویو۔


رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ  اسلام اباد
 

ممتاز سیاسی رہنما،اے ار ڈی پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل اور سابق وفاقی وزیر مملکت منیر حسین گیلانی نے کہا ہے کہ وزارت عظمی مخدوم امین فہیم کا حق ہے انہوں نے پارٹی کے لئے بہت قربانیاں دی ہیں۔ن لیگ کے تیسرے درجے کی لیڈر شپ کی طرف سے الزامات بدنیتی پر مبنی ہیں اس کا ازالہ ہونا چاہیئے ۔منیر حسین گیلانی لاہور سے بی بی سی ون کو فون پر خصوصی انٹرویو دے رہے تھے۔انہوں نے بتایا کہ جب تک پیپلز پارٹی کی قیادت ملک سے باہر رہی تو مخدوم امین فہیم نے بڑی ذہانت اور تدبر کے ساتھ پارٹی کو چلایا بلکہ نہ صرف پارٹی کو چلایا اس دوران اے ار ڈی جس میں بہت ساری پارٹیاں شامل تھیں کو بھی چلایا۔پاکستان کے پولیٹکل معاشرے میں انہوں کا ایک مقام ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ اگر وزارت عظمی کے تمام امیدواروں کو دیکھا جائے تو سب سے بہتر اور معتبر نام مخدوم امین فہیم کا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ وزارت عظمی کی نامزدگی پارٹی کا مسئلہ ہیں ہم تو نہ کسی کو گائیڈ کر سکتے ہے اور نہ کمان کر سکتے ہےبلکہ ہم تو اپنی رائے ہی دے سکتے ہیں۔لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ مخدوم امین فہیم محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کے بااعتماد ساتھی تھے۔محترمہ کے بعد آصف علی زرداری کے بھی بڑے بااعتماد ساتھی رہے ہیں۔اس وقت ہمارے سامنے جتنے بھی وزارت عظمی کے امیدوارہیں۔مجھے موازنہ کرنے کا حق تو نہیں ہےکیونکہ سب نے اپنی اپنی جگہ جدوجہد کی ہیں لیکن مخدوم آمین فہیم سب سے معتبر اور موزوں نام ہے۔
پیپلز پارٹی میں اختلاف کے بارے میں منیرحسین گیلانی کا کہنا تھا کہ اس کی بنیادی وجہ پیپلز پارٹی کی لیڈر شپ ہی بتا سکتی ہے۔میرا اپنا اندازہ یہی ہے کہ ن لیگ کے ایک تیسرے درجے کی لیڈر خواجہ آصف نے جو بیان دیا تھا’ محترمہ کی شہادت کے بعد میت ہسپتال میں پڑی ہوئی تھی اور مخدوم صاحب صدر مشرف کے پاس بیٹھے تھے’ بدنیتی پر مبنی ہیں ایسی کوئی بات نہیں ۔محترمہ کی شہادت کے بعد پہلے روز سے لے کر قل تک میں وہاں موجود تھا۔میں نے تو کہیں بھی امین فہیم کو اٹھ کر جاتے نہیں دیکھا اور نہ ہی کسی سے مذاکرات کرتے دیکھا ہے۔اس قسم کی باتیں اس پارٹی کی طرف سے ہو رہی ہیں، جس کے ساتھ آئندہ حکومت بننے والی ہے۔میاں نواز شریف کو اس پر اقدام کرنا چاہیئے۔مخدوم آمین فہیم کی جو توہین ہوئی ہے اس کا ازالہ ہونا چاہیئے ۔ن لیگ،پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کی طرف سے جمہوریت کے لئے مشترکہ لائحہ عمل پر قائدین کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
مخدوم آمین فہیم اور صدر مشرف کے مابین تعلقات کے خبروں پر منیر حسین گیلانی نے بتایا کہ اس سے نہ تو مخدوم آمین فہیم اور نہ ہی ہم انکاری ہیں۔مذاکرات تو اب شروع نہیں ہوئے بلکہ پہلے سے چل رہے تھے۔جوبھی مذاکرات ہوئے ہیں، مخدوم امین فہیم نے ہی کئے ہیں۔ ویسےمذاکرات جب بھی ہوتے ہیں تو لامحالہ کسی تعلق سے ہی شروع ہو جاتے ہے۔مخدوم امین فہیم نے اپنی پارٹی اور اے ار ڈی کی نمائندگی کرتے ہوئے بڑی جرات اور جوانمردی کے ساتھ مشرف کا مقابلہ کیا اور اپنے مطالبات منوائے۔ جب کوئی تصور نہیں کر سکتا تھا مشرف صاحب اکثر تقریروں میں کہا کرتے تھے کہ’ میں ہوں تو بے نظیر اور نواز شریف نہیں ہوں گے اور اگر وہ ہے تو میں نہیں ہوں گا۔تو یہ مخدوم صاحب ہی تھے،جنہوں نے جنرل صاحب کو قائل کیا کہ اپ بھی ہیں۔محترمہ بھی پاکستان آئیں گی اور نواز شریف بھی پاکستان آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ سارے مذاکرات محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کی ہدایت کے مطابق ہورہے تھے۔ صدر مشرف سے یونیفارم اتروانا تھا، الیکشن کروانے تھے۔اور پھر ان بڑی پارٹیوں کی لیڈر شپ کو واپس آنا تھا۔این ار او کے اوپر دستخط کرنے تھے۔یہ ساری کی ساری جدوجہد مخدوم امین فہیم صاحب کی ہیں اور یہ محترمہ کی ہدایت کے مطابق ہوئی ہے۔
انہوں نے وزارت عظمی کے سوال پر بتایا کہ آصف علی زرداری نے ذاتی طور پر کسی کو یہ نہیں کہا کہ میں وزیراعظم بننے والا ہوں یا فلاں بننے والا ہے۔آصف زرداری نے تو نوڈیرو کی میٹنگ میں واضح طور پر کہا تھا کہ ہماری طرف سے مخدوم امین فہیم جو سنئیر ہیں وہ وزارت عظمی کے امیدوار ہونگے۔آصف زرداری نے تو کبھی یہ نہیں کہا کہ مخدوم صاحب وزیر اعظم نہیں ہونگے۔
انہوں نے بتایا کہ اے پی ڈی ایم نے توالیکشن کا بائیکاٹ کیا تھا۔اے آر ڈی کے ہی کوششوں سے نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن کی صورت میں ایم ایم اے نے الیکشن میں حصہ لیا۔ نئی بنے والی حکومت اور صدر مشرف کے درمیان تعلقات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ایک سیاسی ورکر کی حیثیت سے میں اس چیز کا قائل ہوں، کیونکہ انتخابات ہوئے ہیں اور مقبول پارٹیاں ووٹ لے کر سامنے  آ چکی ہے  ریل کی پٹڑی پر ریل چلی ہے اس کو چلنا چاہیئےاعتماد کی فضا رہنی چاہیئے۔اور آنے والے پانچ سال جو جمہوری قوتیں ہیں وہ آئین کو بحال کرنے کی جدوجہد کریں اور اس کا طریقہ ٹکراؤ نہیں ہے۔اگر ٹکراؤ کریں گے تو انسانی فطرت کا حصہ ہے کہ وہ اپنی بچاؤ کے لئے وہ قدم بھی اٹھائیں گے جس سے ملک کو بھی اور جمہوری اداروں کو بھی پہلے سے زیادہ نقصان ہو۔
پاکستان پیپلز پارٹی اور پارلیمینٹرین سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے منیر حسین گیلانی نے بتایا کہ اصولا تو یہی ہوتا ہے کہ جو رجسٹرڈ پارٹی ہے جس کے سرٹیفیکیٹ سے الیکشن لڑا جاتا ہے اور اسمبلی کے ممبران بھی اس پارٹی کے ممبرتصور ہوتے ہیں۔ اسی لحاظ سےحکومت بنانے کی دعوت مخدوم امین فہیم کو ہی دینا پڑے گی لیکن مخدوم امین فہیم ماشااللہ انتہائی زیرک انسان ہیں۔پارٹی کے لئے ان نے جو قربانیاں دی ہیں وہ کسی سے ڈھکی چپھی نہیں ہیں۔وہ کسی بھی صورت پارٹی کو تقسیم نہیں ہونے دیں گے۔پارٹی کے اندر جو تھوڑا بہت خلا ہے وہ پیپلز پارٹی کے اندر موجود بعض افراد نے کچھ ایسی صورتحال پیدا کی ہیں لیکن آصف علی زرداری اور مخدوم امین فہیم کی سوچ اور اپروچ میں کوئی فرق سامنے نہیں آیا۔دونوں کے آپس میں آچھے مراسم ہیں۔اور ایک دوسرے کو سمجھ کر چل رہے ہیں۔

 

 
 
 
دوست کو بھیجیں

پرنٹ کریں

صفحہ اول
 
 

Click here to watch BBCONE Videos
 
Click here
 
Click here
 
Click here for BBCONE Photos
 

SuperWebz.com

 





تمام جملہ حقوق بحق بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ محفوظ ہیں

Bangash Broadcasting Company (pvt.) Ltd. of Pakistan