|
پاکستان پیپلز پارٹی کی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا قومی
اسمبلی کی سپپیکر منتخب ہو گئی۔
رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ اسلام آباد
پاکستان پيپلز پارٹي اور اتحادي جماعتوں مسلم ليگ
(ن)‘عوامي نيشنل پارٹي اور جے يو آئي (ف)کي نامزد
سپيکر ڈاکٹر فہميدہ مرزا بھاري اکثريت سے قومي
اسمبلي کي سپيکر منتخب ہو گئي ہيں وہ پاکستان کي
تاريخ ميں قومي اسمبلي کي پہلي خاتون سپيکر ہيں
انہوں نے ڈالے گئے کل
324
ووٹوں ميں سے 249
ووٹ حاصل کئے اور پيپلزپارٹي کي اتحادي جماعتوں کے
علاوہ ديگر ارکان کے ووٹ بھي حاصل کرنے ميں کامياب
رہيں بدھ کو قومي اسمبلي ميں ہونے والے سپيکر کے
انتخاب ميں ان کے مد مقابل اسرار ترين
70
ووٹ حاصل کر سکےانہيں مسلم ليگ ق اور اس کي اتحادي
جماعتوں کي طرف سے نامزد کيا گيا تھا سپيکر کے
انتخاب ميں پانچ ووٹ مسترد قرار ديئے گئے انتخابي
عمل سپيکر چوہدري امير حسين کي زير نگراني مکمل
ہوا جس کے بعد انہوں نے ايوان سے خطاب کے بعد نو
منتخب سپيکر ر ڈاکٹرفہميد ہ مرزا سے حلف ليا اور
انہيں مبارکباد پيش کرتے ہوئے چيئر ان کے حوالے کر
دي پاکستان کي قومي اسمبلي ميں اس سے قبل ميڈم
سپيکر کہہ کر کبھي بھي کسي کو مخاطب نہيں کيا گيا۔
پاکستان پيپلز پارٹي نے ملک کي تاريخ ميں پہلي بار
محترمہ بے نظير بھٹو کو وزيراعظم بنايا تھا اور يہ
بھي پيپلزپارٹي کا افتخار ہے کہ پہلي مرتبہ ايک
خاتون کو قومي اسمبلي کا سپيکر بنايا گيا ہے ۔
اکياون سالہ ڈاکٹر فہميدہ مرزا سندھ کے ايک بااثر
سياسي خاندان سے تعلق رکھتي ہيں اور تين مرتبہ
لگاتار ١٩٩٧ئ، ٢٠٠٢ئ اور ٢٠٠٨ئ ميں جنرل نشست پر
انتخاب جيت چکي ہيں۔ ڈاکٹر فہميدہ مرزا ٢٠دسمبر
١٩٥٦ئ کو پيدا ہوئيں، ١٩٧٢ئ سے سينٹ ميري کو نونٹ
سکول حيدرآباد سے ميٹرک، ١٩٧٤ئ ميں نزرتھ کالج
حيدرآباد سے انٹرميڈيٹ، ١٩٨٢ئ ميں لياقت ميڈيکل
کالج جامشورو سے ايم بي بي ايس اور ١٩٨٣ئ سے لے کر
١٩٨٩ئ کے دوران ميڈيکل پريکٹس کرتي رہيں اور ١٩٨٩ئ
سے لے کر اب تک ضلع بدين ميں ميڈيل کيمپ باقائدگي
سے قائم کرتي ہيں۔ ١٩٨٩ئ سے ١٩٩٩ئ تک وہ مرزا شوگر
ملز کي ڈائريکٹر اور ١٩٩٩ئ کے بعد سے وہ چيف
ايگزيکٹو افسرہيں۔ ڈاکٹر فہميدہ مرزا کا حيدرآباد
کے مشہور اور بااثر سياسي قاضي خاندان سے تعلق ہے
اور ان کا خاندان تحريک پاکستان ميں بڑھ چڑھ کر
حصہ لينے والے خاندان کے طور پر معروف ہے۔ان کے
دادا قاضي عبدالقيوم حيدرآباد ميونسپلٹي کے پہلے
مسلمان صدر تھے۔ ان کے چچا قاضي محمد اکبر قومي
اسمبلي کے رکن اور وزير داخلہ، خزانہ، پبلک ورکس
اور اطلاعات کے وزير رہے۔ ان کے والد قاضي عابد نے
اپني سياسي زندگي کا آغاز حيدرآباد ڈويژن کونسل کے
چيئرمين کي حيثيت سے کيا۔ اس کے بعد وہ تعليم،
پاني اور بجلي، خوراک اور زراعت اور اطلاعات کے
وزير رہے۔ وہ تين مرتبہ اے پي اين ايس کے صدر بھي
رہے۔ فہميدہ مرزا کے بھائي قاضي اسد نو مرتبہ اے
پي اين ايس کے سيکريٹري جنرل اور ايک مرتبہ سي پي
اين اي کے سيکريٹري جنرل رہے۔ قاضي اسد پيپلز
پارٹي کے رکن قومي اسمبلي بھي رہے اور اطلاعات کي
سٹينڈنگ کميٹي کے چيئرمين کي حيثيت سے خدمات
سرانجام ديتے رہے۔ ان کے کزن قاضي اسلم اے پي اين
ايس کے چار مرتبہ سيکريٹري جنرل رہے۔ ان کے
سسرسپريم کورٹ کے سابق جج جسٹس ظفر حسين مرزا کا
تعلق شمس العلمائ مرزا قلپيچ بيگ کے خاندان سے ہے۔
ان کے شوہر ذوالفقار مرزا سابق رکن قومي اسمبلي
ہيں اور ٢٠٠٨ئ کے انتخابات ميں سندھ سے صوبائي
اسمبلي کے رکن منتخب ہوئے ہيں۔ ڈاکٹر فہميدہ مرزا
اور ذوالفقار مرزا کے چار بچے ہيں۔اس طرح پاکستان
پيپلز پارٹي اور اتحادي جماعتوں کے نامزد اميدوار
فيصل کريم کنڈي قومي اسمبلي کے ڈپٹي سپيکر منتخب
ہوگئے ہيں بدھ کو سپيکر فہميدہ مرزا کي زيرنگراني
ہونے والے ڈپٹي سپيکر کے انتخاب ميں فيصل کريم
کنڈي نے 246
ووٹ حاصل کرکے واضح برتري سے کاميابي حاصل کي ان
کے مدمقابل مسلم ليگ (ق) ايم کيو ايم اور اتحادي
جماعتوں کي خاتون اميدوار خوش بخت شجاعت نے
68
ووٹ حاصل کئے قومي اسمبلي کے
318
ارکان نے ڈپٹي سپيکر کے انتخاب کے لئے ووٹ ديا
تاہم چار ووٹ مسترد قرار ديئے گئے قبل ازيں سپيکر
کے انتخاب ميں ڈاکٹر فہميدہ مرزا نے
249
جبکہ اسرار ترين نے
ووٹ
حاصل کئے تھے اور پانچ ووٹ مسترد قرار ديئے گئے
تھے اس طرح ڈپٹي سپيکر فيصل کريم کنڈي نے سپيکر کے
مقابلے ميں تين ووٹ کم جبکہ اپوزيشن کي اميدوار
خوش بخت شجاعت نے اپوزيشن کے سپيکر کے اميدوار
اسرار ترين کے مقابلے ميں دو ووٹ کم حاصل کئے
سپيکر قومي اسمبلي ڈاکٹر فہميدہ مرزا نے ڈپٹي
سپيکر فيصل کريم کنڈي سے حلف ليا وہ ڈيرہ اسماعيل
خان سے پيپلز پارٹي کے ٹکٹ پر حاليہ انتخابات ميں
رکن قومي اسمبلي منتخب ہوئے ہيں انہوں نے سابق
قائد حزب اختلاف اور جے يو آئي (ف) کے سربراہ
مولانا فضل الرحمن کو شکست دي تھي ۔دریں اثنا قومي
اسمبلي کا اجلاس سپيکر اور ڈپٹي سپيکر کے انتخاب
کے بعد غير معينہ مدت کيلئے ملتوي کرديا گيا ہے ،
بدھ کو ہونے والے اجلاس کے دوران پہلے مرحلے ميں
سپيکر کا انتخاب عمل ميں لايا گيا جو چوہدري امير
حسين کي زير نگراني سر انجام پايا ، بعد ميں نئي
منتخب ہونے والي سپيکر ڈاکٹر فہميدہ مرزا کي زير
نگراني ڈپٹي سپيکر کا انتخاب عمل ميں لايا گيا ،
مختلف ارکان کي طرف سے نقطہ اعتراض پر اظہار خيال
کے بعد سپيکر نے اجلاس غير معينہ مدت کيلئے ملتوي
کرديا ، وزير اعظم کے انتخاب کيلئے قومي اسمبلي کا
اجلاس دوبارہ طلب کيا جائے گا ۔
|