|
گزشتہ
15سالوں
سے ايک ہي کمرے ميں قيد دو بہنوں اور انکے باپ کو
بازياب کروا ليا گيا ۔قيصر محمود سگا بھائي ہے
‘زنجيروں ميں جکڑے رہنے کي وجہ سے تينوں بولنے اور
چلنے پھرنے سے قاصر ہو چکے ہيں‘ ملزم فرار
رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ لاہور
صوبائي دارالحکومت کے علاقہ اقبال ٹاؤن سے گزشتہ
پندرہ سالوں سے ايک ہي کمرے ميں قيد دو بہنوں
پینتیس سالہ نگہت ‘ پچیس سالہ رفعت اور انکے باپ
ساٹھ سالہ نذير احمد کو
بازياب کروا ليا گيا ہے ‘ تينوں کو قيدکرنے والا
قيصر محمود بہنوں کا سگا بھائي اور نذير کا بيٹا
ہے جبکہ ايک ہي کمرے ميں زنجيروں ميں جکڑے رہنے کي
وجہ سے تينوں بولنے اور چلنے پھرنے سے قاصر ہو چکے
ہيں ۔تفصيلات کے مطابق قيصر نامي شخص نے پندرہ سال
قبل اپني والدہ کي وفات کے بعد اپني دو بہنوں
پینتیس سالہ نگہت پچیس سالہ رفعت اور ساٹھ سالہ
باپ نذير احمد جو کہ واپڈا ميں سولہ گريڈ ميں
ملازم ہے کو لوہے کي زنجيروں ميں جکڑ کر ايک کمرے
ميں قيد کر ديا ۔پندرہ سال تک اندھيرے کمرے ميں
قيد رہنے کي وجہ سے تينوں ذہني طور پر مفلوج ہو
چکے ہيں اور جو بات کر سکتے ہيں نہ ہي چل پھر سکتے
ہيں ۔مزيد بتايا گيا ہے کہ بڑي بہن نگہت ميٹرک اور
چھوٹي بہن رفعت نے گريجوايشن کيا ہوا ہے اور ان کا
باپ نذير احمد واپڈا ميں سولہ گريڈ کا افسر تھا ۔پڑوسيوں
کي اطلاع پر ريسکيو ٹيم نے مسلم ليگ (ن )کے
کارکنوں کے ہمراہ گھر ميںگھس کر انہيں بازياب
کرايا جنہيں طبي امداد کے لئے سروسز ہسپتال ميں
داخل کروا ديا گيا ہے جہاں انکے مختلف ٹيسٹ بھي
کئے جارہے ہيں ۔ بتايا گيا ہے کہ اس سے قبل جب
تينوں کو کمرے سے باہر نکالا گيا تو وہ خوفزد ہو
گئے اور خوف کے مارے رونا شروع کر ديا ۔جبکہ قيصر
محمود وہاں سے بھاگنے ميں کامياب ہو گيا بھاگ
نکلنے ميں کامياب ہو گيا ۔اردگر دکے رہائشيوں کے
مطابق قيصر لوگوں کو دھمکياں ديتا تھا کہ اگر
انہوںنے اس کے گھريلو معاملات ميں مداخلت کي تو اس
کے سنگين نتائج نکليں گے ۔قيصر کے متعلق ابھي تک
معلوم نہيں ہو سکا کہ وہ ذہني مريض ہے يا ٹھيک
حالت ميں ہے تاہم اس کي گرفتاري کے بعد ہي صحيح
صورت حال کا علم ہو سکے گاپوليس نے اسکي گرفتاري
کيلئے چھاپوں کا سلسلہ شروع کر ديا ہے جبکہ پوليس
کي طرف سے ہسپتال ميں ان تينوں کيلئے سيکورٹي کے
سخت انتظامات بھي کر دئيے گئے ہيں ۔
|