BBCONE.NET
ہم سےرابطہ کیجۓ اشتہارات ہماری پالیسی ہمارےبارےمیں

صفحہ اول    پاکستان    عالمی دنیا    ارد گرد    رو برو    کھیل    کالم و مضامین    شوبز    عالم اسلام    کامرس    مقامی خبریں

Click here to download urdu font

Click here to download urdu font

 

وقت اشاعت :Sunday,03 August 2008, 09:25 GMT 15:25 PST

 

پاکستان اور افغانستان کے درمیان باہمی رابطے جاری رکھنے پر اتفاق پر اتفاق ہو گیا ہے۔وزیر آعظم پاکستان ۔پاکستان نے کابل ميں بھارتي سفارتخانے پر ہونے والے حملے کي تحقيقات میں مدد کرنے کي حامي بھر ي ہے،بھارتي سيکرٹري خارجہ        


رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ کولمبو

سری لنکا کے دارلحکومت کولمبو میں سارک سربراہ کانفرنس کے دوران وزیراعظم یوسف رضاگیلانی اور افغان صدر حامد کرزئی کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں دونو ں ممالک کے درمیان رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے ۔اطلاعات کے مطابق ملاقات کے بعدوزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان صدر کے ساتھ ان کی ملاقات بہت نتیجہ خیز اور تعمیری رہی ہے۔اور دونوں ممالک نے رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ملاقات ایک گھنٹے سے زائد جاری رہی اورخوشگوار ماحول میں ہوئی ۔انہوں نے مزید کہا کہ ملاقات کے بعد الزامات کا سلسلہ رکنے کے امکانات ہیں ۔ذرائع کے مطابق ملاقات میں پاکستان کی جانب سے کابل دھماکے میں ملوث ہونے کے الزامات کے ثبو ت مانگے گئے تاہم افغا ن حکومت ایسا کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکی۔

اس سے پہلے وزیر اعظم پاکستان اور ھندوستان کے وزیرآعظم کے درمیان بھی ملاقات ہو گئی ہے۔جس کے بعد بھارتي سيکرٹري خارجہ شيو شنکر مينن نے کہا ہے کہ پاکستان نے وعدہ کيا ہے کہ وہ کابل ميں بھارتي سفارتخانے پر ہونے والے اس خودکش حملے کي تحقيقات کروائے گا۔کولمبو ميں جاري سارک سربراہ کانفرنس کے دوران پاکستاني اور بھارتي وزرائے اعظم کي ملاقات کے بعد صحافيوں سے بات کرتے ہوئے شيو شنکر مينن نے کہا کہ پاکستاني وزيراعظم يوسف رضا گيلاني نے اپنے بھارتي ہم منصب سے ملاقات کے دوران يہ يقين دلايا کہ وہ اسواقعے کي آزادانہ تحقيقات کروائيں گے۔ بھارتي سيکرٹري خارجہ نے بتايا کہ دونوں وزرائے اعظم نے پاک بھارت تعلقات کو بہتر بنانے کے تناظر ميں گزشتہ چند ماہ ميں پيش آنے والے واقعات کا جائزہ ليا اور بھارتي وزيراعظم نے دوستانہ ماحول ميں اپنے حاليہ واقعات کے حوالے سے اپنے خدشات ظاہر کيے اور بتايا کہ يہ واقعات دو طرفہ مذاکرات اور تعلقات پر کس طرح اثر انداز ہو سکتے ہيں۔واضح رہے کہ کابل میں بھارتي سفارتخانے میں ہونے والے حملے ميں
50سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے اور بھارتي و افغان حکام نے الزام لگايا تھا کہ اس واقعے ميں پاکستاني خفيہ ايجنسي آئي ايس آئي ملوث ہے۔ جبکہ دوسري طرف پاکستاني حکام نے ان الزامات کي شدید الفاظ میں تردید کي ہے۔
 

 


 

 

 

 


 

 
 
 
دوست کو بھیجیں

پرنٹ کریں

صفحہ اول
 
 

Click here to watch BBCONE Videos
 
Click here
 
Click here
 
Click here for BBCONE Photos
 

SuperWebz.com

 





تمام جملہ حقوق بحق بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ محفوظ ہیں

Bangash Broadcasting Company (pvt.) Ltd. of Pakistan