|
صدر مشرف نے معزول کئے گئے سندھ ہائي کورٹ کے آٹھ
ججوں کو بحال کرنے کے نوٹيفکيشن پر دستخط کرديئے۔
رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ کراچي
صدر پرويز مشرف نے معزول کئے گئے سندھ ہائي کورٹ
کے ٹھ ججوں کو بحال کرنے کے نوٹيفکيشن پر دستخط
کرديئے جبکہ جسٹس انور ظہير جمالي کو سندھ ہائي
کورٹ کا نيا چيف جسٹس
مقرر کيا گيا ہے۔ وفاقي وزارت قانون کے ذمہ دار
ذرائع کے مطابق معزول کئے جانے والے سندھ ہائي
کورٹ کے پانچ مستقل اور تين ايڈيشنل ججوں کو بحال
کرنے کے لئے وفاقي وزارت قانون اور اٹارني جنرل
پاکستان کے مابين متعدد ملاقاتيں ہوئي تھيں جس کے
بعد وزارت قانون نے معزول کئے جانے والے ان ٹھوں
ججوں کي بحالي کي سمري صدر پرويز مشرف کو منظوري
کے لئے بھجوائي تھي جنہوں نے بدھ کو ان ججز کي
بحالي کے نوٹيفکيشن پر دستخط کرديئے۔ ذرائع کا
کہنا ہے کہ بحال کئے جانے والے ان ٹھ ججوں ميں
معزول چيف جسٹس صبيح الدين احمد کا نام شامل نہيں
ہے۔ جن ججز کو بحال کيا گيا ہے ان ميں جناب جسٹس
مشير عالم، جناب جسٹس سرمد جلال عثماني، جناب جسٹس
فيصل عرب، جناب جسٹس خلجي عارف حسين، جناب جسٹس
سجاد علي اور جناب جسٹس امير ہاني شامل ہيں۔ معلوم
ہوا ہے کہ صدر مملکت کي جانب سے معزول ججوں کي
بحالي کے نوٹيفکيشن پر دستخط کے بعد وفاقي وزارت
قانون ان ججوں کي بحالي کا باضابطہ نوٹيفکيشن جاري
کرے گي دوسري جانب سندھ ہائي کورٹ کے معزول چيف
جسٹس صبيح الدين احمد نے اپنے عہدے سے استعفيٰ
ديديا۔ نجي ٹي وي چينل سے بات چيت کرتے ہوئے جسٹس
صبيح الدين احمد نے اپنے استعفے کي تصديق کي اور
کہا کہ معزول ججوں کي بحالي ميں اتني تاخير ہوچکي
ہے کہ اب ان کي اس سلسلے ميں دلچسپي باقي نہيں
رہيں۔ جسٹس صبيح الدين احمد نے ايک سوال کے جواب
ميں کہا کہ سندھ ہائي کورٹ کے معزول ججوں کي بحالي
کے نوٹيفکيشن سے ان کے استعفے کا کوئي تعلق نہيں ۔
|